Monday - 2018 Dec 10
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194652
Published : 25/7/2018 16:43

امام رضا(ع) کو رضا کہنے کی وجہ؟

خود ساتویں امام حضرت موسیٰ کاظم علیہ السلام اپنے بیٹے کو رضا کہتے تھے اور آپ نے ہی سب سے پہلے یہ لقب آپ کو دیا چونکہ جب بھی امام کاظم علیہ السلام اپنے بیٹے کو بلواتے تھے تو فرماتے تھے کہ میرے لخت جگر رضا سے کہو میرے پاس آجائیں۔یا بعض جگہ پر ملتا ہے کہ: میں نے اپنے بیٹے رضا سے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔یا فرمایا: مجھ سے میرے بیٹے رضا نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ وہ سب تعبیرات ہیں جو بکثرت امام موسٰی کاظم علیہ السلام کے اقوال میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! آٹھویں امام کا نام نامی علی ہے لیکن آپ کی شہرت رضا کے نام سے ہے یہی وجہ ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کے چاہنے والے آپ کو امام رضا(ع) کہتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ آپ کا یہ لقب کہاں سے آیا اور آپ کو کیوں رضا کہا جاتا ہے؟
اس نام کی شہرت کے سلسلہ میں علماء کے درمیان بہت سے نظریات موجود ہیں جن میں سب سے مشہور نظریہ یہ ہے کہ خود ساتویں امام حضرت موسیٰ کاظم علیہ السلام اپنے بیٹے کو رضا کہتے تھے اور آپ نے ہی سب سے پہلے یہ لقب آپ کو دیا چونکہ جب بھی امام کاظم علیہ السلام اپنے بیٹے کو بلواتے تھے تو فرماتے تھے کہ میرے لخت جگر رضا سے کہو میرے پاس آجائیں۔یا بعض جگہ پر ملتا ہے کہ: میں نے اپنے بیٹے رضا سے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔یا فرمایا: مجھ سے میرے بیٹے رضا نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ وہ سب تعبیرات ہیں جو بکثرت امام موسٰی کاظم علیہ السلام کے اقوال میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔لیکن یہ بات بھی مد نظر رہے کہ جب خود امام کاظم علیہ السلام امام رضا علیہ السلام کو خطاب کرتے تھے تو کنیت کے ساتھ یعنی’’ یا ابا الحسن‘‘ کہہ کر خطاب کرتے تھے۔(۱)
اس روایت سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ امام کاظم علیہ السلام اس لقب پر خاص توجہ فرماتے تھے اور بار بار دوسروں کے سامنے اسے استعمال کرتے تھے تاکہ دوسرے بھی آپ(آٹھویں امام) کو رضا کہیں۔
امام رضا علیہ السلام کو رضا کہنے کی کئی وجوہات اور بھی بیان کی جاتی ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ آسمان میں خود خدائے متعال آپ سے راضی تھااور زمین میں خاتم الانبیاء(ص) اور آئمہ معصومین علیہم السلام آپ سے راضی و خوشنود تھے۔یعنی امام علیہ السلام نے اپنے کردار و اعمال سے اللہ کو آسمان میں راضی کردیا تھا اسی کہ سبب اللہ نے زمین میں آپ کو رضا بنادیا تھا۔
حضرت علی بن موسٰی الرضا(ع) کو رضا کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ملتی ہے کہ سب لوگ آپ سے راضی رہتے تھے یہاں تک کہ دشمن اور مخالفین بھی آپ سے خوش تھے۔
ایک حدیث میں احمد بن ابی نصر بزنطی نے امام محمد تقی علیہ السلام سے عرض کیا:فرزند رسول! آپ کے بہت سے مخالفین کا عقیدہ یہ ہے کہ مامون عباسی نے آپ کے والد ماجد کو’’رضا‘‘ کا لقب دیا تھا وہ بھی اس وجہ سے کہ اس نے امام علیہ السلام کو اپنی ولیعہدی کے لئے راضی اور تیار کرلیا تھا۔یہ سن کر امام محمد تقی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:خدا کی قسم! یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں،بلکہ خدا نے میرے والد کو رضا کے نام سے نوازا ہے چونکہ وہ آسمان میں اس(خدا) کی پسند اور زمین میں رسول خدا(ص) اور آئمہ ھدیٰ کی پسند تھے۔
بزنطی نے جب یہ جواب سنا تو عرض کیا: مولا! کیا آپ کے گذشتہ آبائے طاہرین(ع) اللہ کی پسند نہیں تھے؟ آپ نے فرمایا: کیوں نہیں!
راوی نے پھر سوال کیا: تو پھر آپ کے والد کو ہی خاص طور پر رضا کا لقب کیوں دیا گیا؟
فرمایا:اس کی وجہ یہ تھی کہ جس طرح آپ کے دوست اور چاہنے والے آپ کو پسند کرتے اور آپ سے راضی رہتے تھے اسی طرح آپ کے دشمن اور مخالفین بھی آپ سے رضی تھے۔اور یہ وہ چیز ہے جو  میرے آبائے طاہرین میں سے کسی کے یہاں  نہیں تھی۔(۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔عیون اخبارالرّضا، صدوق، رضا مشهدی، جزء ۱، ص ۱۴ - ۱۳، ح ۲۔
۲۔ علل الشرایع، صدوق، مؤسسه الأعلمی، بیروت، جزء ۱، ص ۲۷۷، باب ۱۷۲، ح ۱۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Dec 10