Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194694
Published : 28/7/2018 15:18

بچوں کو قید تنہائی سے نکالیں والدین

اگرچہ ہمارے معاشرہ میں بچوں پر زیادتیوں کی بہتات ہے۔ معاف کیجئے گا آپ یہ تصور نہ کیجئے کہ زیادتیاں وہی ہوتیں ہیں جو دوسروں کی طرف سے روا رکھی جائیں کبھی کبھی والدین بھی اپنی اولاد کے حق میں بڑی زیادتی کرتے ہیں مثال کے طور پر اگر آپ ایک بچے کو دیکھیں کہ اس کے کپڑے بہت مہنگے اور اچھے ہیں، اس کے پاس کھلونے بھی بہت عمدہ ہیں لیکن ان سب کے باوجود وہ بچہ تنہائی کا شکار ہو تو اگر اسے زیادتی نہ کہیں تو اور کیا کہیں؟

ولایت پورٹل: آج کل کا مصروفیتوں سے بھرا دور ہمارے بچوں کے لئے نہایت خطرناک بنتا جارہے۔ بھیڑ بھاڑ سے بھرے شہر کہ جہاں انسانوں کا ٹھاٹے مارتا ہوا سیلاب نظر آتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی کچھ لوگ محض تنہائی کی زندگی گذارتے ہیں۔اگربات کریں تو جس طرح کچھ والدین سب کچھ ہوتے ہوئے بھی تنہائی کا شکار ہیں اسی طرح وہ اپنے ان بچوں کو بھی گونگا بہرا اور اندھا بنادیتے ہیں جن کے ابھی کھیلنے کودنے کے دن ہیں۔اگرچہ ہمارے معاشرہ میں بچوں پر زیادتیوں کی بہتات ہے۔ معاف کیجئے گا آپ یہ تصور نہ کیجئے کہ زیادتیاں وہی ہوتیں ہیں جو دوسروں کی طرف سے روا رکھی جائیں کبھی کبھی والدین بھی اپنی اولاد کے حق میں بڑی زیادتی کرتے ہیں مثال کے طور پر اگر آپ ایک بچے کو دیکھیں کہ اس کے کپڑے بہت مہنگے اور اچھے ہیں، اس کے پاس کھلونے بھی بہت عمدہ ہیں لیکن ان سب کے باوجود وہ بچہ تنہائی کا شکار ہو تو اگر اسے زیادتی نہ کہیں تو اور کیا کہیں؟
ایک بچے کی تنہائی کا آنکھوں دیکھا منظر
کچھ دن کی بات ہے کہ میں اپنے 3 سالہ بیٹے کو لیکر پارک گیا چونکہ اس کی ماں ایک تعلیمی ورکشاپ میں شرکت کرنے گئی تھی۔غرض ہم پارک پہونچے ہم نے اپنے بچے کو چھوڑ دیا اسی اثناء میں ایک بچہ دوڑتا ہوا میرے بیٹے کے پاس آیا تاکہ اس کے ساتھ کھیل سکے لیکن اس کے باپ نے اسے منع کردیا۔میں نے اس سے کہا: بھائی اس بچے کو کیوں منع رہے ہیں کھیلنے دیجئے! اس نے جواب دیا کہ آپ کے بچے کو پریشان کرے گا! میں نے کہا نہیں کیا پریشانی! بچہ ہے یہ میرے اور آپ کے ساتھ تو نہیں کھیلے گا اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ ہی کھیل سکتا ہے۔
پھر میں نے کہا: جناب بچے کی زیادہ روک ٹوک اچھی چیز نہیں ہے کیوں ہم اس کی عمر کے تقاضوں کو نظر انداز کررہے ہیں اس گفتگو کے دوران میں متوجہ ہوا کہ یہ بچہ اگرچہ 2برس سے زیادہ کا ہے لیکن اس سے ایک حرف بھی بولنا نہیں آتا۔میں نے اس شخص سے پوچھا جناب کیا آپ کا بچہ نہیں بولتا؟
اس نے جواب دیا کہ نہیں اور ہم اسے لیکر بڑے پریشان ہیں۔یہ سن کر میں یہ سوچنے لگا:’’ظاہر ہے کہ ہم شہر میں رہنے والے لوگ جہاں ہمارے اپنے رشتہ دار و عزیز وغیرہ تو نہیں ہوتے ایسے میں کوئی ایسا نہیں ہوتا جو ہمارے یہاں آئے یا ہم اس کے یہاں جائیں۔ اور چونکہ کوئی نہیں ہے جو اس سے ملے یہ بچہ ابھی تک بولنا بھی نہیں سیکھ سکا‘‘۔  لیکن اسی درمیان مجھے معلوم ہوا کہ پارک کے ایک کونے میں اس کی ماں بیٹھی ہوئی موبائل پر چیٹنگ میں مصروف ہے۔
تب جاکر مجھے سمجھ میں کہ یہ بچہ ابھی تک کیوں نہیں بولا؟ اور اس کی زبان کیوں نہیں اٹھتی؟چونکہ جس گھر میں صرف ایک بچہ ہو اور والدین صبح سے لیکر شام تک اپنے آفس یا ادارے میں مشغول ہوں اور جب فرصت ملے تو موبائل اور سوشل میڈیا! ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ وہ گھر پہونچ کر ہی سہی اپنے بچے سے بات چیت کریں تو پھر اس کی زبان کیسے اٹھے گی اور اسے بولنا کیسے آئے گا؟

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16