Thursday - 2018 Dec 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194695
Published : 28/7/2018 17:12

قرآن مجید کی رو سے شیعہ مذہب کی حقانیت

شیعہ عقیدہ کی رو سے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اسلام جو زندگی کے ہر چھوٹے سے چھوٹے مسئلہ کا حل تو پیش کرے لیکن ہدایت امت کے سلسلہ میں سب سے حساس مسئلہ یعنی امامت و رہبری اور جانشینی پیغمبر اکرم(ص) کو نظر انداز کردے اور بیان نہ کرے یا اس منصب کے انتخاب کا حق معمولی انسانوں کے سپرد کرکے سبکدوش ہوجائے؟

ولایت پورٹل:قارئین کرام! فقط شیعہ اثنا عشری ہی ایسا مذہب ہے کہ حقیقی اسلامی سنت پر جس کی بنیاد رکھی ہوئی ہے اور ہمارے یہاں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ اسلام ایک جامع ،ہمہ گیر اور ہمیشہ رہنے والا مکتب ہے۔اور انسانی زندگی کے ہر شعبہ حیات سے متعلق مثلاً کھانے پینے،پہننے سے لیکر عالی ترین مسائل مثلاً مبدا،معاد وغیرہ کے لئے مکمل ضابطہ اور قانون بیان کئے گئے ہیں۔پس شیعہ عقیدہ کی رو سے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اسلام جو زندگی کے ہر چھوٹے سے چھوٹے مسئلہ کا حل تو پیش کرے لیکن ہدایت امت کے سلسلہ میں سب سے حساس مسئلہ یعنی امامت و رہبری اور جانشینی پیغمبر اکرم(ص) کو نظر انداز کردے اور بیان نہ کرے یا اس منصب کے انتخاب کا حق معمولی انسانوں کے سپرد کرکے سبکدوش ہوجائے۔
یہ وہ عقیدہ ہے جس کی قرآن مجید، سنت قطعیہ اور عقل سلیم سے تائید ملتی ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’ اليوم اكملت لكم دينكم و اتممت عليكم نعمتي و رضيت لكم الاسلام ديناً‘‘۔(۱) اور اسی کے ساتھ ساتھ اس آئیہ شریفہ:’’ يا ايّها الرسول بلّغ ما انزل اليك من ربّك و ان لم تفعل فما بلّغت رسالته و الله يعصمك من الناس ...‘‘۔(۲)ان دونوں آیات کے شان نزول کو اگر ملاحظہ کیا جائے تو یہ آیتیں رسول خدا(ص) کے آخری حج سے واپسی کے وقت نازل ہوئیں اور رسول اللہ (ص) نے علی بن ابی طالب(ع) کا تعارف مؤمنین کے مولی،سرپرست کے طور پر کروایا۔
این دو آیات کے ہوتے ہوئے کسی کے پاس اس امر میں شک کی گنجائش نہیں رہتی کہ:حق اسی مکتب کے ساتھ ہے جو منصوص من جانب اللہ امام کی اطاعت و اتباع کرتا ہے‘‘۔
کتب تفاسیر میں ان دونوں آیات کے ذیل میں بڑی تفصیل موجود ہے اور ایسے قرائن بیان ہوئے ہیں کہ جو علی علیہ السلام کی خلافت و جانشینی بلا فصل پر دلالت کرتے  ہیں اس چھوٹے سے کالم میں تمام کا ذکر تو نہیں کیا جاسکتا بس ہم یہاں ایک نمونہ بیان کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں۔
اہل سنت کے مشہور عالم،جوینی اپنی کتاب ’’فرائد السمطین‘‘ میں اپنی اسناد کے ساتھ ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ تیسرے خلیفہ کے زمانہ میں مسجد النبوی(ص) میں ایک دن تقریباً 200 صحابہ موجود تھے جن میں سعد بن اابی وقاص،عبد الرحمن بن عوف، طلحہ ،زبیر،مقداد،ابوذر، امام حسن و امام حسین(ع)،ابن عباس وغیرہ معروف شخصیتیں تھیں۔ اس بزم  میں انصار و مہاجرین میں سے ہر ایک اپنے فضائل بیان کررہا تھا اور اسلام کے لئے دی گئی قربانی کا تذکرہ کرکے لوگوں کے سامنے اپنی برتری کا اظہار کرنے میں مشغول تھا۔اسی بزم میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام ایک گوشہ میں خاموش بیٹھے ہوئے سب کی گفتگو سن رہے تھے۔
مسجد میں موجود مجمع نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اپنے کچھ فضائل بیان فرمائیں چنانچہ اصرار پر آپ نے اہل بیت اطہار(ع) کے کچھ فضائل بیان کئے اور ساتھ ہی اپنے بھی کچھ فضائل بیان کئے جن پر حاضر کی تصدیق چاہی اور سب نے گواہی دی پھر آپ نے ایک جملہ ارشاد فرمایا:’’ میں سب حاضرین کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:’’ انما وليكم الله و رسوله و الذين آمنوا الذين يقيمون الصلوه و يؤتون الزكوه و هم راكعون‘‘ اور ’’ ام حسبتم ان تتركوا و لمّا يعلم الله الذين جاهدوا منكم و لم يتخذوا من دون الله و لا رسوله و لا المؤمنون وليجه‘‘ نازل ہوئی تو لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آیات کیا تمام مؤمنین کے لئے ہیں یا صرف کچھ لوگوں سے مخصوص ہیں؟
یہی وہ مقام تھا کہ اللہ تعالٰی نے اپنے رسول کو حکم فرمایا تاکہ لوگوں کے امور میں ان کے سرپرست کا اسی طرح تعارف کروائیں جس طرح نماز،زکات اور حج کا پیغام ان تک پہونچایا اور حکم دیا کہ مجھے غدیر خم میں خلافت کے لئے منصوب کردیں چنانچہ آپ(ص) نے فرمایا:’’ من كنت مولاه فهذا علي مولاه اللهم وال ...‘‘اسی وقت سلمان(رض) اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اور سوال کیا:’’یا رسول اللہ! یہ کیسی ولایت ہے‘‘؟
رسول اللہ(ص) نے فرمایا:یہ وہی ولایت ہے جو مجھے تم پر حاصل ہے اور اسی وقت یہ آیت نازل ہوئی:’’ اليوم اكملت لكم ...‘‘اور اس کے بعد ابوبکر و عمر کھڑے ہوئے اور کہا:’’یا رسول اللہ(ص) کیا یہ آیت علی(ع) کے لئے ہے؟
اللہ کے رسول(ص) نے فرمایا:ہاں! یہ آیت علی(ع) اور قیامت تک آنے والے میرے اوصیاء کے لئے ہے تو ان لوگوں نے اللہ کے رسول سے ان سب کا تعارف چاہا،فرمایا:میرے بعد علی اس کے بعد میرا بیٹا حسن، اس کے بعد حسین وغیرہ ۔۔۔۔خلفاء اثنا عشر کی مکمل حدیث بیان فرمائی۔(۳)
قارئین! یہ ہم نے صرف ایک نمونہ پیش کیا ہے ورنہ اگر علماء اہل سنت کی تفاسیر کی طرف رجوع کیا جائے تو بہت سی قرآنی آیات کی تفسیر میں علی علیہ السلام کی جانشینی بلافصل ثابت ہوتی ہے۔
............................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔ مائده/3.
۲۔ مائده/67.
۳۔ ابراهيم بن محمد جويني، فرائد السمطين، بيروت، مؤسسه المحمودي للطباعة والنشر، ج1، ص312.

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Dec 13