Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194696
Published : 28/7/2018 18:35

مسلم حکمرانوں کی مغرب پرستی اور اسلامی ثقافت کا زوال

عثمانی حکومت کے ٹوٹ جانے کے بعد مغربی خونخوار درندوں نے چین کی سانس لی۔اس طرح مسلمانوں کے درمیان قوی اور مقتدر سیاسی اور بانفوذ طاقت ختم ہو گئی۔ اور یہ میدان دشمنوں کے لئے بالکل خالی ہو گیا۔ نتیجتاً مغربی افکار نے اپنے اثر و رسوخ بڑھانا شروع کر دیئے اور امت اسلامیہ کو ان کی ثقافت اور مذہب سے سوچی سمجھی اور منظم سیاست کے تحت دور کرنا شروع کر دیا۔

ولایت پورٹل:ہم یہاں پر مغربی تمدن کی طرف جھکاؤ کی تحریک کے علائم یا حقیقی ثقافت سے دوری کے بارے میں بیان کریں گے تاکہ نسل نو(انقلابی نسل) مغرب( یورپ) کے خطرناک عزائم  خاص طور سے اس وقت جب دنیا میں مسلمانوں کے درمیان ایک خاص وقت میں اپنے منصوبوں کو بروئے کار لانا چاہتے ہوں، ایسے موقع پر ملت اسلامیہ کو زیادہ سے زیادہ آگاہی حاصل کرکے اسلام دشمن طاقتوں کے چھکے چھڑا دینا چاہیٔے۔
گذشتہ زمانہ میں مغربی دنیا کو یہ پریشانی لاحق تھی کہ عثمانی حکومت کو صفحۂ ہستی سے مٹادیا جائے،اس طرح سے کہ پھرسے اس میں آثار حیات پیدا نہ ہونے پائیں۔عثمانی حکومت (اپنی تمام آشکاراکمیوں اورخامیوں کے باوجود)ایک سیاسی مرکز، فوجی اور اقتصادی اعتبار سے پورے علاقے میں قوی اور مقتدر نظام (حکومت)کے طور پر محسوب ہوتی تھی کہ جس کا اسلامی دنیا، مغربی طمع کاریوں کے مقابلہ میں ڈٹ کر منھ توڑ جواب دے رہی تھی۔
آخرکار ۱۳۴۲ ہجری شمسی مطابق ۱۹۲۲ء میں مغربی دنیاعثمانی حکومت کی بساط کو الٹ دینے میں کامیاب ہوگئی، اس کے بعد جب پورے طور پر ضعیف اور کمزور ہوکر یہ نظام ٹوٹ گیاتو ایسی صورت میں خلیفہ وقت کو خلافتی اور دولتی امور میں صرف نمازجمعہ اور اس کے خطبہ دینے کی اجازت تھی، اپنے محل اور درباریوں کے علاوہ اسے کوئی اختیار حاصل نہیں تھا، خلیفہ وقت کا اقتدار انہیں جزوی چیزوں میں سمٹ کر رہ گیا تھا۔
عثمانی حکومت کے ٹوٹ جانے کے بعد مغربی خونخوار درندوں نے چین کی سانس لی۔اس طرح مسلمانوں کے درمیان قوی اور مقتدر سیاسی اور بانفوذ طاقت ختم ہو گئی۔ اور یہ میدان دشمنوں کے لئے بالکل خالی ہو گیا۔ نتیجتاً مغربی افکار نے اپنے اثر و رسوخ بڑھانا شروع کر دیئے اور امت اسلامیہ کو ان کی ثقافت اور مذہب سے سوچی سمجھی اور منظم سیاست کے تحت دور کرنا شروع کر دیا۔ ایک تحریک پہلے ہی سے پھل پھول اور رفتہ رفتہ پروان چڑھ رہی تھی، لیکن عثمانی حکومت کے ٹوٹتے ہی زندگی کے تمام گوشوں میں غیر معمولی تبدیلی محسوس ہونے لگی، دیکھتے ہی دیکھتے خاصی تبدیلی پیدا ہو گئی۔حکام نے مغربی رجحان کی ٹھیک ایسے وقت میں حمایت کی جب عثمانی حکومت خاتمہ کے دہانے پر کھڑی اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ اُسی وقت اسلامی دنیا(عرصہ) کے سیاسی حلقہ میں کچھ ایسے حکام اور حکومتیں اقتدار میں آئیں جو آشکارا طور پر مسلمانوں کو ان کی غنی ثقافت اور گہری جڑیں رکھنے والے مذہب سے جدائی اور مغربی تہذیب سے رشتہ ناطہ جوڑنے کی باتیں کرتے ہوئے ’’تجدد اور جدت پسندی ‘‘(Modernity)اور ترقی کاراگ الاپتے ہوئے ان کی طرف اپنے والہانہ میلان اور رجحان کااظہارکر رہی تھیں۔اس  فکر کو پروان چڑھانے والوں میں مشہور نام مندرجہ ذیل ہیں :
۱۔ کمال اتاترک
۲۔رضا شاہ پہلوی(۱)
۳۔امان اللہ خاں





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21