Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194717
Published : 29/7/2018 16:27

عمل میں کیسے خلوص پیدا کریں؟

خلوص کا مطلب یعنی اپنی فکر،نیت،اخلاق،عمل اور عبادت۔ غرض اپنے اعضاء و جوارح کی ہر حرکت کو اللہ تعالٰی کے لئے کام میں لانا۔خلوص میں ان دو پہلؤوں کی طرف توجہ کی خاص ضرورت ہے ایک تو انسان کا ہر عمل، اس کی فکر اور عبادت اللہ کے لئے اور اس کی مرضی کے حصول کے لئے ہو۔دوسرے یہ کہ انسان اس عمل اور کام کو صرف خدا کے لئے انجام دے اور اس کی نیت اور جذبہ سب خدا کے لئے ہو۔

ولایت پورٹل: انسان اپنی زندگی میں اللہ سے قریب ہونے کے لئے بہت سے اعمال انجام دیتا ہے لیکن کبھی کبھی یہ محسوس کرتا ہے کہ اتنے سب اعمال کے باوجود بھی وہ اللہ کے قریب نہیں ہے۔آخر کیا وجہ ہے کہ اتنے سب اعمال انجام دینے کے بعد بھی وہ اللہ سے قریب نہیں ہوا؟تو قرآن و احادیث کی روشنی میں ان تمام سوالوں کا جواب علماء نے یہی دیا ہے کہ ایسے شخص کے عمل میں خلوص نہیں پایا جاتا۔
اب آئیے پہلے سب سے پہلے یہ سمجھیں اور جانیں کہ:خلوص کے کیا معنیٰ ہیں اور انسان کیسے اپنے اندر خلوص پیدا کرسکتا ہے؟
علماء نے اخلاص کی تعریف کی ہے کہ خلوص یعنی ریاکاری کی ضد،یعنی اپنی نیت اور ارادے کو غیر خدا سے خالص و خالی کرنا۔چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:’’ لابد للعبد من خالص النیۃ فى کل حرکۃ و سکون اذ لو لم یکن بهذا المعنى یکون غافلاً والغافلون قد وصفهم‏الله تعالى بقوله: ان هم الا کالانعام بل هم اضلّ و قال: اولئک هم الغافلون...؛ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنی ہر حرکت اور سکون میں اپنی نیت کو غیر خدا کے تصور سے پاک رکھے چونکہ اگر اس نے ایسا نہ کیا گویا وہ غافل ہے اور غافلوں کی اللہ تعالیٰ نے اس طرح مذمت کی ہے:’’یہ لوگ جانوروں کی مانند بلکہ ان سے بھی گمراہ ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا:’’یہ وہی لوگ ہیں کہ جو حقیقت سے غافل ہیں‘‘۔(میزان‏الحکمه، محمد محمدى رى‏شهرى، ج 3، روایت 4748)
اخلاص کے مراحل
۱۔نیت میں خلوص
اس مرحلہ میں اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی نیت کو ہر طرح کے شائبہ شرک،ریا اور غیر الہی مقصد سے پاک کرلے۔انسان در حقیقت اپنی زندگی میں ایک ایسے دو راہے پر کھڑا ہوتا ہے کہ جس میں ایک راستہ معنویت اور خدا کی طرف جاتا ہے جبکہ دوسرا راستہ دنیا کے ظاہری زیب و زین اور مادی حیات کی طرف انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔
نیت کے پاک ہونے کا مطلب  یہ ہے کہ انسان کا نفس تمام غیر الہی جذبات سے تعلقات قطع کرکے اعمال انجام دے چنانچہ ایک روایت میں رسول اللہ(ص) نے ابوذر(رض) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:’’ و ما بلغ عبد حقیقة الاخلاص حتى لایحب ان یحمد على شى‏ء من عمل ‏للَّه‘‘۔اے ابوذر! کوئی بھی بندہ اس وقت تک حقیقت اخلاص تک نہیں پہونچ سکتا جب تک اس میں یہ جذبہ پیدا نہ ہوجائے کہ جب بھی وہ اللہ کے لئے کوئی عمل انجام دے اسے غیر خدا کی تعریف و تمجید کی کوئی چاہت نہ رہے۔(بحارالانوار، ج 82، ص 204)
اولیاء الہی صرف یہ ہی نہیں کہ اپنی نیت کو دنیاوی جذبات اور مادی تعلقات سے پاک کرتے تھے بلکہ ان کی عبادتیں اور بندگی بھی جہنم کے خوف اور جنت کے لالچ سے پاک ہوتی تھیں۔ وہ صرف اللہ کے لئے، اس کی مرضی کے حصول کے لئے، اور اس سے محبت اور شدید عشق کی بنیاد پر اس کی عبادت کرتے تھے اور یہ خلوص نیت کا سب سے عظیم مرتبہ اور معراج ہے۔
۲۔عمل میں اخلاص
عمل میں اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی گناہوں سے خالی ہوجائے اس طرح کہ اسے ورع و تقویٰ بصورت ملکہ حاصل ہوجائے۔ چنانچہ اس کے بہت سے مراتب و منازل ہیں جن میں اہم کی طرف ہم اشارہ کررہے ہیں:
پہلا مرتبہ: واجبات کو انجام دینا اور محرمات(حرام کاموں) کو مطلق طور پر ترک کردینا۔
دوسرا مرتبہ:مکروہات کو ترک کرنا اور مستحبات کو انجام دینا خاص طور پر نماز شب وغیرہ پڑھنا۔
تیسرا مرتبہ:ہر اس کام کو ترک کرنا جو قلب کے غیر خدا میں مشغول ہونے کا سبب بنے جیسا کہ بہت سے مباحات کو بھی ترک کرنا اگرچہ شرعی طور پر بہت سے مباحات انجام دیئے جاسکتے ہیں لیکن ایک مؤمن اور متقی کے شایان شان نہیں ہیں۔غرض ہر اس موقع کی تلاش میں رہنا اور اس عمل کی پابندی کرنا کہ جو درگاہ الہی میں تقرب کا ذریعہ بنے۔
اخلاص کو جِلا دینے اور پیدا کرنے کا سب سے بہترین راستہ نماز ہے یہ ایک ایسی جامل و کامل عبادت ہے کہ اگر اخلاص کے ساتھ اور قصد قربت کے ساتھ پڑھی جائے تو انسان میں زندگی کے تمام دیگر شعبوں میں بھی اخلاص کی رعایت کرنے کے لئے آمادگی پیدا ہوجائے گی۔
اگر کوئی شخص ان مراحل کو کامیابی کے ساتھ طئے کرلے تو یقیناً اس کا پورا وجود فرمان الہی کے مطابق ڈھل جائے گا۔
۳۔دل کو غیر خدا سے پاک کرنا
اخلاص کا ایک اہم مرحلہ تمام نفسانی رذائل کو باہر نکال دینا ہے جیسا کہ حب دنیا،دنیاوی لذتوں کا شوق اور آرزوئیں،یہ سب دل کے نہا خانہ سے نکال پھینک دی جائیں پس جو شخص شیطان اور اپنے نفس امارہ کو دل سے نکال باہر کردے تو اس وقت اسے محسوس ہوگا کہ اب اس کے دل کا نشین خود خدائے سبحان ہے اور یہی قلب کا اصلی مکین و مالک ہے چنانچہ حدیث قدسی میں ارشاد ہوتا ہے:’’قلب المؤمن عرش الرحمٰن‘‘۔مؤمن کا قلب ہی اللہ تعالیٰ کا عرش ہے۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16