Tuesday - 2018 Nov 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194719
Published : 29/7/2018 18:55

نہج البلاغہ میں صالحین کا مقام و مرتبہ

فرشتے ان کے گرد حلقے کئے ہوئے ہیں اورسکینہ ووقار کا ان پر نزول ہوتا ہے ۔آسمان کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوئے ہیں ۔ الطاف الٰہی کی مسندیں ان کے لئے مہیا ہیں، وہ مقام ومنزلت جو انھوں نے اپنی عبادت کے ذریعہ حاصل کی ہے وہ اللہ کی نظر توجہ کا مرکز ہے ،وہ ان کی کوششوں سے راضی اور ان کی منزلت پر آفرین کہتا ہے ۔ یہ لوگ جب اسے پکارتے ہیں تو الٰہی عفو وبخشش میں بسی ہوئی ہوائیں ان کے مشام سے ٹکراتی ہیں اوروہ گناہ کے تاریک پردوں کے گرجانے کا احساس کرتے ہیں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں صالحین کے مقام و مرتبہ کو اس طرح بیان فرماتے ہیں:’’ قَدْحَفَّتْ بِھِمُ الْمَلَائِکَۃُ وَتَنَزَّلَتْ عَلَیْھِمُ السَّکِیْنَۃُ فُتِحَتْ لَھُمْ اَبْوَابُ السَّمَائِ وَاُعِدَّتْ لَھُمْ مَقَاعِدَ الْکَرامَاتِ فِی مَقْعَدٍ اِطَّلَعَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ فِیْہِ فَرَضِیَ سَعْیَھُمْ وَحَمِدَ مَقَامَھُمْ یَتَنَسَّمُونَ بِدُعَائِہٖ رُوْحَ التَّجَاوُزِ‘‘۔فرشتے ان کے گرد حلقے کئے ہوئے ہیں اورسکینہ ووقار کا ان پر نزول ہوتا ہے ۔آسمان کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوئے ہیں ۔ الطاف الٰہی کی مسندیں ان کے لئے مہیا ہیں، وہ مقام ومنزلت جو انھوں نے اپنی عبادت کے ذریعہ حاصل کی ہے وہ اللہ کی نظر توجہ کا مرکز ہے ،وہ ان کی کوششوں سے راضی اور ان کی منزلت پر آفرین کہتا ہے ۔ یہ لوگ جب اسے پکارتے ہیں تو الٰہی عفو وبخشش میں بسی ہوئی ہوائیں ان کے مشام سے ٹکراتی ہیں اوروہ گناہ کے تاریک پردوں کے گرجانے کا احساس کرتے ہیں۔

حوالہ:نہج البلاغہ،خطبہ :۲۲۰۔
 


 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 20