Sunday - 2018 Nov 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194720
Published : 29/7/2018 19:3

خواہشات پر عقل کی حکومت

خواہشات کی بناء پر انسان کے نفس میں صرف برے خیالات، اوہام اور وسوسے جنم لیتے ہیں لیکن عقل کے پاس انہیں کنٹرول کرنے نیز ان سے روکنے کا اختیار موجود ہے اور اس کی حیثیت حاکم و سلطان کی سی ہے۔ اسی لئے مولائے کائنات(ع) نے فرمایا ہے:’’اَلْعَقْلُ الْکَامِلُ قَاھِرٌ لِلطَّبْعِ السُّوٓءِ‘‘۔ عقل کامل، بری طبیعتوں پر غالب ہی رہتی ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! اگرچہ انسان پر خواہشات کی حکومت بہت ہی مستحکم ہوتی ہے لیکن عقل کے اندر ان خواہشات کو کنٹرول کرنے اور انہیں صحیح رخ پر لانے کی مکمل صلاحیت اور قدرت پائی جاتی ہے۔ بشرطیکہ انسان خواہشات پر عقل کو فوقیت دے اور اپنے معاملات زندگی کی باگ ڈور عقل کے حوالے کردے۔
صرف یہی نہیں بلکہ جس وقت خواہشات پر عقل کی گرفت کمزور پڑجاتی ہے اور خواہشات اس کے دائرۂ اختیار سے باہر نکل جاتے ہیں تب بھی عقل کی حیثیت حاکم و سلطان کی سی ہوتی ہے وہ حکم دیتی ہے، انسان کو برے کاموں سے روکتی ہے اور خواہشات، نفس کے اندر صرف وسوسہ پیداکرتے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے:’’لِلنُّفُوْسِ خَوَاطِرٌ لِلْھَویٰ، وَالْعُقُوْلُ تَزْجُرُوَتَنْھیٰ‘‘۔(۱)
ترجمہ: نفسوں کے اندر مختلف خواہشیں سر ابھارتی ہیں اور عقلیں ان سے مانع ہوتی ہیں اور انہیں روکتی رہتی ہیں۔
آپ(ع) ہی سے منقول ہے:’’لِلْقُلُوبِ خَوَاطِرُ سُوٓءٍ، وَالْعَقْلُ یَزْجُرُمِنْھَا‘‘۔(۲)
ترجمہ: دلوں میں برے خیالات آتے رہتے ہیں اور عقل ان سے روکتی رہتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ خواہشات کی بناء پر انسان کے نفس میں صرف برے خیالات، اوہام اور وسوسے جنم لیتے ہیں لیکن عقل کے پاس انہیں کنٹرول کرنے نیز ان سے روکنے کا اختیار موجود ہے اور اس کی حیثیت حاکم و سلطان کی سی ہے۔ اسی لئے مولائے کائنات(ع) نے فرمایا ہے:’’اَلْعَقْلُ الْکَامِلُ قَاھِرٌ لِلطَّبْعِ السُّوٓءِ‘‘۔(۳)
ترجمہ: عقل کامل، بری طبیعتوں پر غالب ہی رہتی ہے۔
جس کا مطلب یہ ہوا کہ انسانی مزاج اور اس کا اخلاق، بے جا خواہشات کی بناء پر بگڑ کر چاہے جتنی پستی میں چلا جائے تب بھی عقل کی حکومت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے اور عقل سلیم و کامل اپنے اندر ہر قسم کی بری طبیعت اور مزاج کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ اسلامی تربیت کا ایک اہم اصول ہے۔
.......................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔ بحارالانوار،ج:۷۳،ص:۲۳
۲۔تحف العقول، ص: ۹۶
۳۔  غررالحکم، ج:۲،ص:۱۲۱

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Nov 18