Thursday - 2018 Dec 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195089
Published : 23/8/2018 16:5

والدین کے عزم میں اولاد کا حصہ

ہماری اولاد ہمارے یقین میں سے اپنا حصہ پاتی ہے،ہمارے عزم سے اس حوصلہ ملتا ہے ۔اگر ہم خود یقین اور عمل سے تہی دست ہونگے تو اولاد کو کیا دیں گے..؟بچوں کو کہانیاں نہ سنایئے بلکہ عمل کر کے دکھائیے،یقین کریں وہ جتنا آپ پر اعتماد کرتے ہیں دنیا کے کسی دوسرے پرنہیں کرتے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ابابیل اپنا گہونسلہ کنوئیں میں بناتی ہے.. اس کے پاس اپنے بچوں کو اڑنے کی عملی تربیت دینے کے لئے نہ تو کوئی اسپیس یا سہولت دستیاب ہوتی ہے اور نہ ہی وہ کچی تربیت کے ساتھ بچوں کو اڑنے کا کہہ سکتی ہے کیونکہ پہلی اڑان میں ناکامی کا مطلب پانی میں گر کر دردناک موت ہے.. مزید کسی ٹرائی کے امکانات اس کے یہاں بالکل صفر ہوتے ہیں۔
آج تک اگر کسی نے ابابیل کے کسی مرے ہوئے بچے کو کنوئیں میں دیکہا ہو تو بتائے؟ ابابیل بچوں کے حصے کی تربیت بھی اپنی ذات پر کرتی ہے... بچوں سے پہلے اگر وہ اپنے گھونسلے سے دن بھر میں 25 اڑانیں لیتی تھی تو بچے انڈوں سے نکلنے کے بعد 75 اڑانیں لیتی ہے... یوں ماں اور باپ 150 اڑانیں لیتے ہیں تاکہ اپنے بچوں کا دل و دماغ اس یقین سے بھر دیں کہ یہاں سے اڑ کر سیدھا باہر جانا ہے اور بس.!! اور کوئی آپشن نہیں ہے۔
ایک دن آتا ہے کہ بچہ ہاتھ سےنکلے ہوئے پتھر کی طرح گھونسلے سے نکلتا ہے اور سیدھا جا کر کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ جاتا ہے.!!!
ہماری اولاد ہمارے یقین میں سے اپنا حصہ پاتی ہے،ہمارے عزم سے اس حوصلہ ملتا ہے ۔اگر ہم خود یقین اور عمل سے تہی دست ہونگے تو اولاد کو کیا دیں گے..؟بچوں کو کہانیاں نہ سنایئے بلکہ عمل کر کے دکھائیے،یقین کریں وہ جتنا آپ پر اعتماد کرتے ہیں دنیا کے کسی دوسرے پرنہیں کرتے۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Dec 13