Saturday - 2018 Dec 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195093
Published : 23/8/2018 17:5

عید میں قربانی کا فلسفہ

دینِ اسلام میں قربانی کی حیثیت ایک عبادت کی ہے۔ اور دینِ خداوندی میں عبادات کی حقیقت یہ ہے کہ اُن کے ذریعے سے بندہ اپنے پروردگار کے ساتھ اپنے تعلق کا اظہار کرتا ہے۔ چنانچہ قربانی کی یہ عبادت بندہ اور اُس کے رب کے درمیان تعلق کا وہ مظہر ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے مالک کی خدمت میں اپنا یہ پیام بندگی بھیجتا ہے:’’اے پروردگار! آج میں ایک جانور تیرے نام پر ذبح کر رہا ہوں، اگر تیرا حکم ہوا تو میں اپنی جان بھی اِسی طرح تیرے حضور میں پیش کردوں گا‘‘۔

ولایت پورٹل: حضرت ابراہیم(ع) نے اپنے بیٹے کو خدا کے حکم پر قربان کرنے کا جو فیصلہ کیا وہ فی الاصل ایک تمثیلی واقعہ ہے۔ جس میں خدا پرستوں کے لئے یہ اشارہ ہے کہ خدا کی محبت میں اولاد کو بھی قربان کیا جاسکتاہے۔ اولاد کیا ہے؟ اولاد نسل یعنی قبیلہ کی بنیاد ہے۔ قران نے کئی جگہ اولاد کو فتنہ یعنی آزمائش  بھی کہا ہے۔ اسی طرح اولاد کو بھی زینت کی چیزوں میں شمار کیا ہے۔ کہیں بھی اولاد کو مقصدِ حیات نہیں بتایا۔
نوح علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کا کتنا صاف اور واضح مکالمہ ہے۔ جب نُوح علیہ السلام کشتی میں سوار ہونے لگے تو دیکھا کہ بیٹا ڈوبنے جارہا تھا۔  حضرت  نوح نے پکارا :اے اللہ یہ تو میرا بیٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا جواب تھا کہ یہ تیرااہل  نہیں ہے۔ یعنی تیرے بیٹے تو تیرے ساتھ کشتی میں سوار ہیں۔ اس سے ایک ہی نتیجہ اخذ ہوتاہے کہ بیٹے تو وہ ہوسکتے ہیں جو آپ کی  راہ پر چلیں نہ  وہ جو آپ کے خون یا ڈی این اے کو آگے بڑھائیں۔
ایک ایک نبی کی زندگی پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ کہیں آباء و اجداد تو کہیں اولاد۔ غرض یہ کہ خاندان اور قبیلہ پرستی کو اسلام نے  زیادہ اہمیت نہیں دی ہے۔ یہاں تک کہ عیسیٰ علیہ السلام کو بن باپ کے ہی بھیج دیا۔ شاید  اس عمل سے بھی خدا کا یہی مقصد رہا ہوگا کہ انسان آباء و  اجداد  اور اولاد کو اتنی اہمیت نہ دیں کہ جتنی وہ دیتے ہیں۔ لیکن ہم انسان بھی عجب مخلوق ہیں۔ سبق ہمیشہ بالکل الٹا ہی  حاصل کیا کرتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ(ع) کے جانے کے بعد ہم نے الٹا خدا کو ہی باپ کہنا شروع کردیا ۔ جس کا دوسرا مطلب ہی یہی تھا کہ آباء و  اجداد بڑے بابرکت ہوتے ہیں۔
باپ کی محبت، ماں کی محبت، اولاد کی محبت، ان میں سے کسی کی محبت بھی اگر آپ کی خدا کے ساتھ محبت کے راستے میں رکاوٹ بن رہی ہے تو پھر اس کی قربانی لازمی ہےاور میانہ روی سے اسلامی طریقہ زندگی اختیار کرتے ہوئے، اس محبت کو جس بھی مناسب طریقے سے کم کیا جائے، کیا جانا چاہیے۔
شاید  اِس میں بھی خدا کی کچھ حکمت تھی کہ رسول اطہر صلی اللہ علیہ وسلم کو یتیم پیدا کیا۔ ماں باپ کے بغیر۔ اگر رسول ِ اکرم(ص) کے والدین حیات ہوتے تو یقیناً آپ کی سنتوں میں کئی ایسے طریقے پائے جاتے جن میں غلو پیدا ہونے پر والدین کے بُت کھڑے ہوسکتے تھے۔  اور  شاید نبی کریم  کو نرینہ اولاد دے کر بھی اللہ تعالیٰ نے اسی لئے واپس لےلی کہ اولاد کی محبت کا بُت بھی اُمت کے سامنے نہ کھڑا ہوسکے۔
قربانی ایک عبادت
دینِ اسلام میں قربانی کی حیثیت ایک عبادت کی ہے۔ اور دینِ خداوندی میں عبادات کی حقیقت یہ ہے کہ اُن کے ذریعے سے بندہ اپنے پروردگار کے ساتھ اپنے تعلق کا اظہار کرتا ہے۔ چنانچہ قربانی کی یہ عبادت بندہ اور اُس کے رب کے درمیان تعلق کا وہ مظہر ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے مالک کی خدمت میں اپنا یہ پیام بندگی بھیجتا ہے:
’’اے پروردگار! آج میں ایک جانور تیرے نام پر ذبح کر رہا ہوں، اگر تیرا حکم ہوا تو میں اپنی جان بھی اِسی طرح تیرے حضور میں پیش کر دوں گا‘‘۔
در اصل اِس دنیا میں بدنی اور مالی عبادات کے مواقع نماز و انفاق وغیرہ کی صورت میں کثرت سے سامنے آتے رہتے ہیں، جن سے ہم اپنے پروردگار کے ساتھ اپنے تعلق کی یاد دہانی حاصل کرتے اور اُسے زندہ کرتے ہیں،  لیکن  خدا کے لئے جان دے دینا اسلام کا سب سے بلند مقام ہے اور اس کے مواقع  بہت کم ہی زندگی میں آتے ہیں۔ اِس لئے قربانی کی یہ عبادت اُس کے علامتی اظہار کے طور پر مقرر کی گئی ہے۔ گویا ایک بندۂ مؤمن اِس عظیم عبادت کے ذریعے سے اپنے رب کے سامنے یہ اقرار کرتا ہے کہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا، میرا مرنا سب تیرے  لئے ہے۔
ارشادِ  رب العزت  ہے:’’وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ؛الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ‘‘۔(حج:۳۴)
ترجمہ: اور ہم نے ہر اُمت کے لئے قربانی مشروع کی ہے تاکہ اللہ نے اُن کو جو چوپائے بخشے ہیں، اُن پر وہ (ذبح کرتے ہوئے) اُس کا نام لیں۔ پس تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، چنانچہ تم اپنے آپ کو اُسی کے حوالے کر دو۔ اور خوشخبری دو اُن لوگوں کو جن کے دل خدا کے آگے جھکے ہوئے ہیں۔
یہ آیت بتاتی ہے کہ قربانی کی عبادت اپنی جان کو اپنے معبود کی نذر کر دینے کا علامتی اظہار ہے۔ اس کے ذریعے سے بندہ اپنے وجود کو آخری درجہ میں اپنے آقا کے حوالے کرنے کا اعلان کرتا ہے۔ بندہ مؤمن کے یہ جذبات اس کے مالک تک پہنچ جاتے ہیں جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو ابدی رحمتوں کے لئے چن لیتا ہے۔ مزید براں دنیا میں بھی وہ ان جانوروں کا گوشت انھیں کھانے کی اجازت دے کر انھیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اپنی جان مجھے دے کر بھی تم مجھے کچھ نہیں دیتے۔ بلکہ دینے والا میں ہی رہتا ہوں۔ یہ گوشت کھاؤ اور یاد رکھو کہ مجھ سے سودا کرنے والا دنیا و آخرت دونوں میں نقصان نہیں اٹھاتا۔
ایک طرف قربانی کی یہ عظیم عبادت اور اس میں پوشیدہ حکمت ہے اور دوسری طرف ہمارا طرزِ عمل ہے جس میں ایک عام آدمی کا ذہن کبھی بھولے سے بھی قربانی کی اِس حقیقت کی طرف منتقل نہیں ہوتا۔ اِس سے بڑھ کر یہ کہ ریاکاری اور نمود و نمائش کا عنصراِس عظیم عبادت میں اِس طرح شامل ہو جاتا ہے کہ قیامت کے دن انسان کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ قربانی کے ذریعے سے اپنی بندگی کا اظہار تو دور کی چیز ہے،  کیونکہ  مخلوق کی نگاہ میں نمایاں ہونے کی نیت سے آدمی اگر حقیقت میں بھی اپنی جان دے دے تب بھی روزِ قیامت میں ایسے  شخص کو شہید راہ خدا نہیں مانا جائے گا۔
ایک آخری بات اِس ضمن میں یاد رکھنے کی یہ ہے کہ دینِ اسلام کا اصل مقصود انسان کا ’تزکیہ‘ ہے۔ یعنی انسان کو پاکیزہ بنانا۔ تاہم قربانی کے اِس عمل میں ہم لوگ نہ صرف جانور ذبح کرتے ہیں بلکہ اسلام کا یہ مقصود یعنی پاکیزگی بھی ذبح کر دیتے ہیں۔
قرآن پاک میں قربانی کے جانوروں کے متعلق ارشاد ہوا ہے:’’لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ‘‘۔(حج:۳۷)
ترجمہ:اللہ کو تمھاری ان قربانیوں کا گوشت یا خون کچھ بھی نہیں پہنچتا، بلکہ صرف تمھارا تقویٰ پہنچے گا۔
اب اگر قربانی کے عمل میں تقوا ہی نہ رہا تو خدا کی بارگاہ میں کیا پہنچے گا؟


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Dec 15