Sunday - 2018 Dec 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195094
Published : 23/8/2018 17:17

امام زمانہ(عج) اور خون کے آنسو

محققین کا کہنا ہے کہ انسان کی آنکھوں کے پیچھے خون کے تھیلے ہوتے ہیں جب انسان غم و حزن سے متأثر ہوتا ہے تو ان تھیلیوں کا خون پانی میں تبدیل ہو کر آنکھوں سے آنسؤوں کی شکل میں جاری ہو جاتا ہے اور اگر رونے کا یہ عمل غم کی شدت کی وجہ سے کچھ طویل اور شدید ہو جائے تو خون کو پانی میں تبدیل کرنے کا عمل مختل ہو جاتا ہے اور آنکھوں سے آنسؤوں کی جگہ خون بہنے لگتا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! حضرت امام زمان عجل الله تعالی فرجہ الشریف حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت ناحیہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’فَلاَندُبَنَّک صَباحاًوَمسآءًوَلَأَبکِیَنَّ بَدَلَ الدُّموعِ دَماً‘‘۔اے میرے آقا !خدا کی قسم؛میں دن رات آپ کی مظلومیت و مصیبت پر عزاداری کرتا اور آنسؤوں کے بدلے خون روتا ہوں۔(بحار الانوار،ج۱۰۱،ص۳۲۰)
محققین کا کہنا ہے  کہ انسان کی آنکھوں کے پیچھے خون کے تھیلے ہوتے ہیں جب انسان غم و حزن سے متأثر ہوتا ہے تو ان تھیلیوں کا خون پانی میں تبدیل ہو کر آنکھوں سے آنسؤوں کی شکل میں جاری ہو جاتا ہے اور اگر رونے کا یہ عمل غم کی شدت کی وجہ سے کچھ طویل اور شدید ہو جائے تو خون کو پانی میں تبدیل کرنے کا عمل مختل ہو جاتا ہے اور آنکھوں سے آنسؤوں کی جگہ خون بہنے لگتا ہے۔(بحار الانوار ،ج۴۴،ص۲۹۳)
شاید حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف بھی اسی نکتہ کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں کہ میں آپ(امام حسین علیہ السلام) کی مظلومیت اور مصیبت میں اس قدر عزاداری کرتا ہوں کہ میری آنکھوں سے آنسو جاری نہیں ہوتے بلکہ خون جاری ہوتا ہے اور کسی خاص وقت یہ عزاداری نہیں کرتا بلکہ پورا سال، دن رات اپنے جد کی مظلومیت پر خون کے آنسو بہاتا ہوں۔
نیز روایات میں وارد ہوا ہے کہ جب حضرت ظہور فرمائیں گے تو سب سے پہلے دنیا والوں کو مخاطب قرار دے کر جو فریاد بلند کریں گے ان میں سے تین جملے حضرت سید الشہداء علیہ السلام سے متعلق ہیں: ’’أَلا یا أهْلَ الْعالَمِ اَنَا الامامُ القائمُ الثانی عَشَرَ، أَلا یا أهْلَ الْعالَمِ اَنَا الصّمْضامُ المُنْتَقِم ،أَلا یا أهْلَ الْعالَمِ اَنَّ جَدّیَ الْحُسَیْن قَتَلوهُ عَطْشاناً، أَلا یا أهْلَ الْعالَمِ اَنَّ جَدّیَ الْحُسَیْن طَرَحوهُ عُریاناً، أَلا یا أهْلَ الْعالَمِ اَنَّ جَدّیَ الْحُسَیْن سَحَقوهُ عُدواناً ‘‘۔
اے دنیا والوں! میں  بارہ واں امام قائم ہوں ، میں انتقام کی تیز تلوار ہوں، میرے جد امجد حسین کو پیاسا شہید کردیا گیا، میرے جد امجد حسین کے مطہر جسم کو بے کفن خاک کربلا پر چھوڑ دیا گیا، میرے جد امجد حسین کے پاک و مطہر بدن کو دشمنی کی خاطر گھوڑوں کے سموں تلے پامال کردیا گیا۔(سید ابن طاؤس،لہوف،ص۱۱)




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Dec 16