Saturday - 2018 Dec 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195095
Published : 23/8/2018 18:40

ربا کے مقابل اسلام کا قرض الحسنہ سسٹم

اسلام نے نہ صرف یہ کہ معاشرے میں پھیلی ربا اور سود کی جڑوں کو کاٹا بلکہ ایک ایسا طرز معیشت عطا فرمایا جس سے ہر وہ سماج ابھرے گا اور ترقی کرے گا جہاں ایک دوسرے کو قرض دینا رائج ہوگا۔مزید بر آن اللہ نے دنیا میں خیر و برکت کے ساتھ ساتھ اس پر آخرت میں اجر و ثواب بھی عطا کیا ہے جو ہر مسلمان کے لئے اپنے آپ میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! آپ نے ربا جیسا منحوس لفظ تو سنا ہی ہوگا؟ ہاں یہ دیکھنے میں تو ایک تین حرفی لفظ ہے لیکن اس کے سبب نہ جانے کتنے آباد گھر برباد ہوگئے اور کتنے بسے بسائے لوگ سڑک پر آگئے۔
ربا کی دو قسمیں ہیں:
۱۔قرض میں ربا: یعنی اگر ایک شخص کسی دوسرے کو قرض دیتے وقت کوئی ایسی شرط لگائے کہ جس کا فائدہ قرض دینے والے کو ہو اسے قرض ربوی کہتے ہیں مثلاً یہ کہتے کہ میں تجھے ۱۰۰ روپیئے دے رہا ہوں لیکن لوٹاتے وقت ۱۲۰ روپیہ لونگا،یا قرض دینے کے عوض اس سے کوئی اضافی کام لے یا کوئی گھر یا زمین اس سے کیرائے پر بازار سے سستے داموں میں لے۔
۲۔معاملات میں ربا: اگر کوئی شخص کوئی ایسی چیز کہ جسے ناپ یا تول کر فروخت کیا جاتا ہو اسے اسی جنس اور چیز سے زیادہ وزن کے عوض فروخت کردے مثلاً ۱۰۰ کیلو بہترین گیہوں دے اور ۱۲۰ کیلو گیہوں اس سے تھوڑا کم درجے کا لے ۔یا ۱۰۰ کیلو گیہوں دے اور ۱۲۰ کیلو گیہوں کے اس کے عوض ۶ مہینہ بعد لے اس شرط پر یہ یہ قرض نہ ہو بلکہ فروخت ہو۔( تحریر الوسیله امام خمینی(ره)، ج1 ، ص536 ، م9 و ص536)
خداوند عالم سوره «بقره»کی آیت ۲۷۵ میں فرماتا ہے : قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے : خدا نے بیع اور تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے ۔ یعنی ان دونوں کے درمیان واضح فرق ہے ۔ انہیں ایک دوسرے سے مشتبہ نہیں کرنا چاہئے ( و احل اللہ البیع و حرم الربا ) قرآن نے اس کی مزید تفصیل بیان اسلئےنہیں کی کہ یہ بالکل واضح ہے ۔ اس سلسلے میں بعض پہلو یہاں ذکر کیے جاتے ہیں :
۱۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:’’وَلاَ تَأْكُلُوا أَمْوَلَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَطِلِ‘‘۔ ( بقرہ ۱۸۸)(تم ایک دوسرے کے اموال کو باطل کے ذریعہ نہ کھاؤ)۔اور ربا اکل مال بالباطل کا ایک مصداق ہے۔
۲۔   قرآن میں ظلم کی سختی سے مخالفت کی گئی ہے اور ربا ظلم کا ایک واضح مصداق ہے کیونکہ عام خرید و فروخت میں طرفین نفع و نقصان میں برابر کے شریک ہوتے ہیں ۔ بعض اوقات دونوں کو نفع ہوتا ہے اور بعض اوقات دونوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور کبھی ایک کو نفع اور دوسرے کو نقصان ہوتا ہے جبکہ سودی معاملات میں سود خور کو کبھی نقصان نہیں ہوتا اور نقصان کے احتمال کا سارا بوجھ دوسرے کے کندھے پر پڑ جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سودی ادارے دن بدن بڑے سرمایہ دار بنتے چلے جاتے ہیں۔ ضعیف نحیف تر ہوتے چلے جاتے ہیں اور دولت مندوں کی ثروت کا حجم ہمیشہ بڑھتا رہتا ہے۔
۳۔عام تجارت اور خرید و فروخت میں طرفین نئے پروڈیکٹ ایجاد کرنے کی راہ میں قدم اٹھاتے ہیں جبکہ سود خور اس سلسلے میں کوئی مثبت عمل سر انجام نہیں دیتا۔
۴۔ سود خوری کے عام ہوجانے سے سرمایہ غلط اور غیر صحیح راستے پر استعمال ہونے لگتا ہے اور اقتصاد کے ستون جو معاشرے کی بنیاد ہیں متزلزل ہوجاتے ہیں جبکہ تجارت سرمائے کی درست اور صحیح گردش کا سبب ہے۔
۵۔ سود خوری طبقاتی کشمکشوں اور جنگوں کا ذریعہ ہے جب کہ صحیح تجارت اس طرح نہیں ہے وہ معاشرے کو کبھی طبقاتی تقسیم اور اس سے پیدا ہونے والی جنگوں کی طرف نہیں لے جاتی۔(تفسیر نمونه، جلد 2، صفحه 428)
یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ ہر دور اور زمانہ میں سامراج نے غریبوں اور کمزور لوگوں کا ہر قسم سے استحصال کیا ہے آئے دن ان لوگوں نے کمزوروں اور غریبوں کا خون چوسا ہے۔ دورِ حاضر کی طرح دورِ جاہلیت میں بھی سرمایہ دار لوگ غریبوں کا معاشی استحصال کرنے میں مختلف طریقے اپناتے تھے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت کے وقت تمام عرب معاشرہ سودی کاروبار میں مبتلا تھا۔وہ بیع اور سود کو ایک جیسا سمجھتے تھے کیونکہ ان دونوں میں نفع مقصود ہوتا ہے۔اس لئے ان دونوں کی حیثیت ایک جیسی ہے۔لہٰذا اُصولی طور پر بیع اور سود میں کوئی فرق نہیں ہے۔علاوہ ازیں چند اونچے خاندان والے دولت اور تجارت کے مالک تھے یعنی دولت چند گنتی کے افراد کے پاس موجود تھی،بقیہ معاشرہ بری طرح افلاس اور بھوک کا شکار تھا الغرض انسانیت کا ہر لحاظ سے اخلاقی، معاشرتی اور معاشی استحصال کیا جا رہا تھا۔ قرض لینے کی صورت کچھ یوں تھی کہ جب غریب آدمی بوجہ غربت قرضہ لینے کے لئے امیر آدمی کے در پر جاتا، سرمایہ دار غریب آدمی کو اپنے دروازے پر حاضر دیکھ کر اتنا خوش ہوتا تھا جس طرح کہ بھیڑیا بکری کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔
بیچارگی اور لاچاری کے پیش نظر غریب شخص امیر آدمی کی ہر قسم کی جائز و نا جائز شرائط کو قبول کر لیتا تھا۔قرضہ کی ادائیگی کےلئے وقت کا تعین کیا جاتا تھا اور اس کے ساتھ ہی اصل رقم کے علاوہ میعاد کے بدلے اس وقت کے مقرر کردہ شرح کے لحاظ سے مزید رقم بھی غریب آدمی کو ادا کرنا پڑتی تھی اس مزید رقم کو سرمایہ دارنفع سے تعبیر کرتے تھے۔اکثر ایسا بھی ہوتا تھا کہ مقروض شخص مقررہ وقت پر قرضہ ادا کرنے سے قاصرہو جاتا اسلئےاسے مزید وقت کی ضرورت درکار ہوتی تھی مزید وقت دینے کے لئے سرمایہ دار اصل رقم کے ساتھ مقرر کردہ شرح کے لحاظ سے مزید رقم بڑھا دیتا تھا یہ سلسلہ سال درسال تک جاری رہتا تھا۔نوبت بایں جا رسید کہ چند سالوں کے بعد اصل قرض سے سود کی رقم بڑھ جاتی تھی۔
ربا میں گرفتار معاشرے کو اوپر اٹھانے اور فقر کے دلدل میں پھنسے انسانوں کو باہر نکالنے کے لئے اسلام نے قرض الحسنہ کے چراغ جلائے اور لوگوں کو سود و ربا کی لالچ میں پڑنے کے بجائے انسانیت کا دردمند بنانے کا فیصلہ کیا اس کی پہلی کڑی کا نام قرض الحسنہ ہے۔
قرآن مجید میں بہت سی آیات بغیر کسی سود کمائے مصیبت میں کسی انسان کے ساتھ بھلائی و نیکی کرنے کی جگہ جگہ تلقین فرمائی ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’ مَنْ ذَا الَّذِی یقْرِضُ اللَّهَ قَرْضاً حَسَناً فَیضاعِفَهُ لَهُ أَضْعافاً کثِیرَةً وَ اللَّهُ یقْبِضُ وَ یبْصُطُ وَ إِلَیهِ تُرْجَعُونَ ‘‘۔(سورہ بقرہ:۲۴۵)
ترجمہ: ہے کوئی ایسا جو خدا کو قرض حسنہ دے تاکہ خدا اسے کئی گُنا کرکے واپس کرے۔ خدا ہی تنگی کرتا ہے اور وہی کشادگی دیتا ہے۔ اور (تم سب) اسی کی طرف پلٹائے جاؤگے۔
یا سورہ مزمل میں ارشاد ہوتا ہے:’’ وَ أَقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضاً حَسَناً وَ ما تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِکمْ مِنْ خَیرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَیراً وَ أَعْظَمَ أَجْراً... ‘‘۔(سورہ مزمل:۲۰)
ترجمہ: اور اللہ کو قرضۂ حسنہ دو اور تم لوگ جو کچھ بھلائی (نیک عمل) اپنے لئے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاؤ گے وہی تمہارے لئے بہتر ہے۔
یعنی اسلام نے نہ صرف یہ کہ معاشرے میں پھیلی ربا اور سود کی جڑوں کو کاٹا بلکہ ایک ایسا طرز معیشت عطا فرمایا جس سے ہر وہ سماج ابھرے گا اور ترقی کرے گا جہاں ایک دوسرے کو قرض دینا رائج ہوگا۔مزید بر آن اللہ نے دنیا میں خیر و برکت کے ساتھ ساتھ اس پر آخرت میں اجر و ثواب بھی عطا کیا ہے جو ہر مسلمان کے لئے اپنے آپ میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Dec 15