Saturday - 2018 Dec 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195121
Published : 26/8/2018 5:56

عید الضحیٰ اور یمنی خواتین وبچوں کی قربانی(ایک تحریر)

عید الاضحی کے صرف ایک دن بعد سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے الحدیدہ کے ضلع الدریھمی کے علاقے الکوعی پر بمباری کر کے ستائیس بچوں اور چار عورتوں کو شہید کر دیا۔

ولایت پورٹل:یمن کے مختلف علاقوں پر بمباری اور اس میں بچوں اور عورتوں کا قتل عام یمنی عوام کے لئے ایک قصہ ناتمام بن گیا ہے کہ جو سعودی جنگی طیاروں کے ذریعہ انجام پا رہا ہے- یہ جرائم صرف یمن کے کسی ایک صوبے سے مخصوص نہیں بلکہ سعودی عرب کے یہ جرائم یمن کے مختلف علاقوں میں انجام پا رہے ہیں- اس بار جارحانہ حملے صوبہ الحدیدہ میں انجام پائے ہیں جبکہ سعودی جنگی طیاروں نے اس سے قبل نو اگست کو صوبہ صعدہ کے شہر ضحیان میں بھی یمنی بچوں کی بس پر بمباری کر کے ایک سو بیس سے زیادہ بچوں کو شہید اور زخمی کردیا تھا- اس میں کوئی شک نہیں کہ بچوں اور عورتوں کو قتل اور زخمی کرنا کہ جو کسی معاشرے کا سب سے مظلوم اور بے گناہ طبقہ ہوتا ہے، جنگی جرم شمار ہوتا ہے- یمن کی قومی حکومت کے ترجمان عبدالسلام علی جابر کا کہنا ہے کہ عام شہریوں کے خلاف سعودی اتحادیوں کے جرائم کے جاری رہنے سے اس اتحاد کی سفاکیت اور وحشی پن کا پتہ چلتا ہے- درایں اثنا بچوں اور خواتین کے حقوق کا دفاع کرنے والے ادارے انتصاف نے سعودی جنگی طیاروں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے بچوں اور عورتوں پر حملے کو کہ جو معاشرے کا سب سے کمزورطبقہ ہوتاہے، دین اسلام کے منافی اور انسان دوستانہ بین الاقوامی قوانین و انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور جنگی جرم قرار دیا ہے-
یمنی خواتین اور بچوں کے خلاف آل سعود کے بار بار کے حملے اور جرائم کے سلسلے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ جرائم پوری طرح منظم سازش کا نتیجہ ہیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت عالمی برادری کی کمزور کارکردگی کے سبب انجام پا رہے ہیں اور یہ ایک ایسا موضوع ہے کہ جس کی طرف انقلاب یمن کی اعلی کونسل کے سربراہ محمد علی الحوثی نے بھی اشارہ کیا ہے - محمد علی الحوثی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ یمنی بچوں اور خواتین کا قتل عام جارح اتحاد کی مستقل پالیسی اور منظم منصوبے کا حصہ ہے کہا کہ بین الاقوامی ادارے اوراقوام متحدہ نے یمن میں ریاض کے جرائم کے سلسلے میں کمزور موقف اختیار کر کے اپنی بچی کھچی آبرو بھی کھو دی ہے-
 ایسے عالم میں کہ جب شام کا بحران عالمی طاقتوں کے مذاکرات کا ایک اہم پہلو اور اقوام متحدہ کی سرگرمیوں کا ایک اہم ترین موضوع بنا ہوا ہے ، یمن کے خلاف جنگ کہ جس کی اصلی قربانی بچے اور خواتیں ہیں، کسی بھی مذاکرات اور اجلاس کا حصہ نہیں ہیں- یمن کے خلاف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جنگ کو اکتالیس مہینے گذر رہے ہیں لیکن عالمی برادری خاص طورپر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے آل سعود کے ان جرائم پر کوئی ٹھوس ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے - اگر عالمی برادری اور سلامتی کونسل نے کوئی ٹھوس ردعمل ظاہر کیا ہوتا تو آل سعود اوراس کے اتحادیوں کے اندر اس طرح کے جرائم کو دہرانے کی ہمیت نہ ہوتی، بین الاقوامی اداروں کی پسپائی و کمزوری نے آل سعود کو جنگی جرائم کو بار بار دہرانے کے سلسلے میں جری کردیا ہے-
 یہ صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نہیں ہیں کہ جنھیں جنگ یمن میں شکست کا سامنا ہے بلکہ اقوام متحدہ اور بڑی طاقتیں بھی یمن کے خلاف جنگ میں بھاری خسارہ اٹھانے والوں میں ہیں کیونکہ اقوام متحدہ نے اپنی کمزور کارکردگی سے ثابت کردیا ہے کہ وہ بڑی طاقتوں کی آلہ کار ہے اور انسانی حقوق کی دعوے دار بڑی طاقتوں نے بھی یمن کے خلاف آل سعود کے جرائم کو نظرانداز کرکے یہ ظاہر کردیا ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ ویٹو کا حق رکھنے کے لائق نہیں ہیں بلکہ عالمی امور میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتیں-
سحر




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Dec 15