Saturday - 2018 Dec 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195126
Published : 26/8/2018 16:40

پیغمبر(ص)کے جانشین کا معصوم ہونا کیوں ضروری ہے؟

وہ شریعت اور دین جسے رسول اکرم(ص) لیکر آئے ہیں اسے قیامت تک باقی رہنا ہے لہذا اسے ایک محافظ کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ محافظ معصوم ہونا چاہیئے چونکہ اگر محافظ، معصوم عن الخطاء نہ ہو تو اس قانون میں تبدیلی و تحریف کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوسکتا۔

ولایت پورٹل:اللہ تبارک و تعالٰی نے ابنیاء کرام اور رسولان ذی وقار کو اس وجہ سے مبعوث کیا تاکہ وہ لوگوں کو ابدی و دائمی کمال کی طرف رہنمائی کریں۔اور یہ مقصد اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے کہ جب ایک مکمل ضابطہ حیات اور قانون ہونے کے ساتھ ساتھ اس کو نافذ کرنے والی ایسی ہستیاں ہوں جن میں خطا کا امکان نہ پایا جائے اور اگر ایسا نہ ہو تو رسولان الہی کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اللہ کا دین لوگوں کے ہاتھوں میں آجائے گا اور زمانے کے ساتھ ساتھ اس میں کم و کاستی یا انحراف و زیادتی کا دروازہ کھل جائے گا اور عام انسان میں حق کو باطل سے تشخیص دینے کی اتنی سمجھ نہیں ہے کہ وہ عصمت کی پشت پناہی کے بغیر ان انحرافات سے دین کو بچا سکے اور حفاظت کرسکے۔
مذکورہ بالا تمہید کی روشنی میں ہم یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح وحی کے حصول اور اس کے ابلاغ کے لئے ایک معصوم نبی اور پیغمبر کی ضرورت ہے اسی طرح اس وحی کی تفسیر و شرح کے لئے ایسے جانشین کی ضرورت ہے جو معصوم ہوں تاکہ ابنیاء(ع) کے مبعوث کئے جانے کا مقصد ادھورا نہ رہ جائے۔
چونکہ اسلام صرف کسی خاص زمانے کے لئے تو نہیں آیا بلکہ یہ شریعت ہمیشہ ہمیشہ اور قیامت تک کے لئے ہے اور اپنے ماننے والوں کو سعادت کی ضمانت دیتی ہے لہذا اس قانون کی حفاظت ضروری ہے ۔دوسری طرف یہ شریعت اسی وقت محفوظ رہ سکتی ہے جب اس کے نگہبان و محافظ میں لازم و کافی شرائط پائے جاتے ہوں،یعنی وہ انسان کہ جس پر شریعت کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری ہے اس میں اتنی استعداد ہو کہ جو بغیر کسی تحریف کے لوگوں تک دین کو صحیح و سالم طور پر پہونچا سکے۔
پس وہ شریعت اور دین جسے رسول اکرم(ص) لیکر آئے ہیں اسے قیامت تک باقی رہنا ہے لہذا اسے ایک محافظ کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ محافظ معصوم ہونا چاہیئے  چونکہ اگر محافظ، معصوم عن الخطاء نہ ہو تو اس قانون میں تبدیلی و تحریف کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوسکتا۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Dec 15