Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195142
Published : 28/8/2018 6:49

ہر طرح کا فوجی ساز وسامان بھی صیہونیوں کو شکست سے نہیں بچا سکا:سید حسن نصراللہ

حزب اللہ نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے گردوپیش کے بحران پر غلبہ پانے کی پوری توانائی رکھتی ہے۔

ولایت پورٹل:حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے تکفیری دہشت گردوں کے قبضے سے لبنان کے علاقے ہرمل کی آزادی کی سالگرہ کی مناسبت سے اپنے ایک خطاب میں کہا ہے کہ مشرقی لبنان کے شہر ہرمل کی آزادی اور داعش کے خلاف کامیابی لبنانی فوج، عوام اور تحریک استقامت کے شاندار باہمی تعاون کا نتیجہ ہے،گذشتہ برس انہی دنوں لبنان کی تحریک استقامت کے جوانوں نے لبنان کی فوج اور عوام کے شاندار تعاون سے ملک کے مشرقی شہر ہرمل کو تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے قبضے سے آزاد کرا لیا تھا،اس فتح اور کامیابی کو لبنان میں علاقوں کی آزادی کی دوسری فتح کے نام سے یاد کیا جاتا ہے،اس سے پہلے جنوبی لبنان کے علاقوں کو سن دو ہزار میں صیہونی حکومت کے غاصبانہ قبضے سے آزاد کرایا گیا تھا،حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے دہشت گرد گروہ داعش کے قبضے سے مشرقی شہر ہرمل کی آزادی کی پہلی سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ داعش کے خلاف یہ کامیابی لبنانی فوج، عوام اور تحریک استقامت کے  شاندار باہمی تعاون کا نتیجہ ہے،انہوں نے کہا کہ استقامتی گروہوں نے برق رفتاری کے ساتھ تکفیری اور دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کیا اور لبنانی فوج، عوام اور استقامتی تحریک کے اتحاد اور باہمی تعاون سے یہ شاندار فتح نصیب ہوئی،سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے اپنے بہت سے فوجی ساز و سامان اور وسائل کو اپ گریڈ اور جدید طرز پر بنا لیا ہے لیکن اس کے یہ اقدامات بھی اس کو شکست سے نہیں بچا سکے،حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ جب داعش کے عناصر شام کے کسی علاقے میں محاصرے میں آجاتے ہیں تو امریکی طیارے ان دہشت گردوں کو بچانے کے لئے پہنچ جاتے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ داعش کے خلاف جنگ کے تعلق سے امریکی حکام کے بیانات جھوٹے ہیں کیونکہ امریکی حکام کی پوری کوشش ہے کہ جیسے بھی ہو داعش کو باقی رکھا جائے،واضح رہے کہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے مقابلے میں حزب اللہ کی کامیابی سے لبنان کے اندر بھی اور علاقائی اور عالمی سطح پر بھی حزب اللہ کا قد اور زیادہ بلند ہوا ہے اور اس کی پوزیشن پہلے سے بھی زیادہ مستحکم ہوئی ہے،ایک طرف جہاں لبنان کے اندر حزب اللہ کو ملک کی اندرونی سلامتی کا ضامن سمجھا جاتا ہے وہیں دوسری جانب اس نے تکفیری دہشت گردی کے خلاف کئی سال کی جنگ کے بعد ثابت کر دیا ہے کہ وہ جنگی میدان کی اعلی صلاحیتوں اور توانائیوں کی مالک ہے،ساتھ ہی حزب اللہ کی ان کامیابیوں اور فتوحات سے غاصب صیہونی حکومت کے مقابلے میں میں بھی اس کی دفاعی توانائیوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے، صیہونی حکومت کا ایک مقصد حزب اللہ کی دفاعی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے اور تل ابیب نے اس مقصد کے لئے حزب اللہ کے اثر و رسوخ والے اطراف کے علاقوں کو بدامنی سے دوچار کرنے کے منصوبے پر کام شروع  کر رکھا ہے تاکہ حزب اللہ وہاں الجھ کر رہ جائے اور اس کی دفاعی توانائیاں کمزور پڑ جائیں لیکن حزب اللہ نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے گردوپیش کے بحران پر غلبہ پانے کی پوری توانائی رکھتی ہے،لبنان کے حالات اور واقعات نے بھی ثابت کر دیا ہے کہ یہ ملک عوام، فوج اور استقامتی محاذ کی شاندار ہم آہنگی اور آپسی تعاون و اتحاد کے ذریعے ہر طرح کے خطرات اور بحران کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ وہ حقیقت ہے جس کی جانب حزب اللہ کے سربرہ سید حسن نصراللہ نے اپنے خطاب میں واضح طور پر اشارہ بھی کیا ہے-
سحر



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11