Saturday - 2018 Dec 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195152
Published : 28/8/2018 15:58

امام علی نقی(ع) کے دور کے سیاسی حالات اور آپ کی حکمت عملی

ایسے سخت سیاسی و اجتماعی حالات میں امام علی نقی علیہ السلام نے اسلام ناب اور مکتب اہل بیت(ع) کی حراست و حفاظت فرمائی اور اس سنگین الہی ذمہ داری کو ادا کیا۔چنانچہ آپ نے بارہا معاندین اور مخالفین کی طرف سے اٹھائے گئے عقیدتی شبہات کا ازالہ کیا کہ اگر آپ کی مستحکم حکمت عملی نہ ہوتی تو اسلام ان تحریف شدہ عقیدوں کے ڈھیر تلے دب کر رہ جاتا

ولایت پورٹل: امام علی نقی علیہ السلام کا دور عباسی حکومت کے لئے نہایت ہی بحران کا دور تھا سب سے پہلے تو خلافت اس دور تک آتے آتے اپنی وہ ساکھ کھو چکی تھی جس کا کبھی تقدس و ہیبت سے کوئی ناطہ تھا اگرچہ پہلے والے حکمراں مسلسل اپنے ظاہری تقدس کو باقی رکھنے کے لئے بہت کوششیں کیا کرتے تھے جس کے سبب اسلامی حکومت کے قلمرو میں آنے والے علاقوں میں ان کا سیاسی استحکام و دبدبہ نہ ہونے کے برابر سا ہوگیا تھا۔
خلافت چاہے اموی دور میں ہو چاہے عباسی دور میں اس کی اپنی ایک ہیبت اور جلالت  تھی اور عام مسلمان کے دل پر رعب سا طاری رہتا تھا لیکن امام علی نقی علیہ السلام کا زمانہ پہونچتے پہونچتے خلافت کے اہم مراکز میں ترکوں کا اثر و رسوخ بڑھ چکا تھا اور اس میں وہ ضعف طاری ہوگیا تھا کہ ترک جس طرف چاہتے حکمرانوں کے کان پکڑ کو موڑ دیتے تھے ۔ اور خلافت صرف ایک تشریفاتی عہدہ بن کر رہ گیا تھا۔
عباسی حکومت کے رو بزوال ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ملتی ہے کہ  حکمراں اس زمانے میں عیش و نوش کے بڑے دلداہ بن چکے تھے یہاں تک کہ ان کی پوری پوری راتیں محفلوں،اور شراب خوری میں بسر ہوتی تھیں اس طرح کے پورا خلافتی دربار فساد و گناہ میں ملوث ہوچکا تھا چنانچہ تاریخ کے دامن میں عباسی حکمرانوں کی شب نشینی کی داستانیں محفوظ ہیں۔
عباسی حکومت میں بیت المال کو غارت کرنے کا بازار گرم تھا اور درباری عیاشی و مستی کے عالم میں لوگوں پر بُری طرح ظلم کرتے تھے۔
تاریخ کے اس زمانے میں عباسی حکمرانوں کی مسلسل یہ کوشش تھیں کہ وہ علویوں کے خلاف سماج کو مسموم بنا دیں اور ان کے خلاف لوگوں میں نفرت کے بیج بو دیں اور ساتھ ہی علویوں کو سرکوب کرنے کے کسی بہانے کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے لیکن پھر بھی ان تحریکوں کا خوف موت کا سایہ بن کر ان کے سر پر منڈلاتا رہتا تھا۔
علویں کا طریقہ اس زمانہ میں یہ تھا کہ وہ کھل کر اپنی تحریکوں کی قیادت کے لئے کسی خاص شخص کا نام  پیش نہیں کرتے تھے بلکہ ان تحریکوں کی قیادت کا عہدیدار’’آل محمد میں منتخب شخص‘‘ کو قرار دیتے تھے۔چونکہ وہ جانتے تھے کہ ان معصوم پیشوا تو سامرا میں دشمن کی شدید حراست و حصار میں ہے اگر کسی خاص شخصیت کا نام پیش کردیا جائے تو ممکن ہے ان کے لئے مزید دشواریاں پیدا ہوجائیں۔ان پئے در پئے تحریکوں کا اٹھنا حکومت کی تشویش کا ایک بڑا سبب تھا چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ سن ۲۱۹ سے ۲۷۰ تک تقریباً ۱۸ منظم تحریکیں عباسیوں کے خلاف اٹھیں اگرچہ وہ سب کچل دی گئیں۔
امام علی نقی(ع) کی حکمت عملی
1۔ایسے سخت سیاسی و اجتماعی حالات میں امام علی نقی علیہ السلام  نے اسلام ناب اور مکتب اہل بیت(ع) کی حراست و حفاظت فرمائی اور اس سنگین الہی ذمہ داری کو ادا کیا۔چنانچہ آپ نے بارہا معاندین اور مخالفین کی طرف سے اٹھائے گئے عقیدتی شبہات کا ازالہ کیا کہ اگر آپ کی مستحکم حکمت عملی نہ ہوتی تو اسلام  ان تحریف شدہ عقیدوں کے ڈھیر تلے دب کر رہ جاتا
2۔آپ کی دوسری حکمت عملی رشید اور ہونہار شاگردوں کی تربیت کرنا تھی چنانچہ آپ نے اپنے اجداد طاہرین کے بعض شاگردوں اور اصحاب کو علم سے آراستہ کیا اور ان کے علم میں اضافہ فرمایا اور دین اسلام کی خدمت کے لئے ان کی حمایت اور پشت پناہی کی چنانچہ ان شاگردوں میں بہت سے خود اپنے آپ میں ایک علمی چہرہ تھا جیسا کہ ابوہاشم جعفری،اسماعیل بن مہران،علی بن مہزیار،حسین بن سعید اہوازی کہ جو خود 30 کتابوں کے مصنف تھے ،فضل بن شاذان کہ جو خود بہت سی کتابوں کے مؤلف تھے،ابو حماد رازی،عبد العظیم حسنی یہ سب امام علی نقی علیہ السلام کے وہ برجستہ شاگرد تھے جن کی آپ نے تربیت فرمائی۔
3۔انہیں کاوشوں اور حکمت عملی میں سے امام علیہ السلام کا دیگر مذاہب و فرق کے علماء کے ساتھ مناظرے تھے کہ جن میں امام علیہ السلام کی غرض صرف یہ تھی کہ یہ سب لوگ ہدایت پاجائیں چنانچہ ماوراء النھر کے بہت سے ترک سپاہیوں نے امام علیہ السلام کی زبان اطہر سے اسلام کا پیغام سن کر مذہب حقہ قبول کیا۔
4۔امام علی نقی علیہ السلام کے دور کی ایک بڑی مشکل خود شیعوں کے درمیان غلو کے بڑھتے ہوئے جراثیم تھے اور بہت سے صوفی مشرب لوگ تشیع کو اس کے اصلی راستے سے منحرف کرنا چاہتے تھے چنانچہ امام علیہ السلام نے اپنے شاگردوں اور اصحاب اور وکلاء کو غالیوں سے دوری برتنے کی سخت تاکید فرمائی چنانچہ آپ کی مشہور زیارت جامعہ کبیرہ اس باب میں بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ جہاں آپ نے اہل بیت(ع) کے اتصال کو اللہ کے ساتھ اس طرح بیان کیا ہے کہ جہاں غلو کا شائبہ بھی نہیں ہوسکتا۔
5۔امام علی نقی علیہ السلام کا ایک اہم اقدام اسلام میں وکالت اور نیابت کے سسٹم کا ایجاد کرنا تھا جو آج تک شیعوں کے درمیان چلا آرہا ہے اور ہمارے عقیدے کے مطابق مراجع تقلید امام(ع) کے نائبین عام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چونکہ جس دور میں آپ زندگی بسر کررہے تھے وہ بھی عباسیوں کے مرکز سامرا میں کہ جہاں آپ کی ہر نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی  تھی اور چونکہ امام اپنی امت سے زیادہ تر نہیں مل پاتے تھے لہذا لوگوں کی پریشانیوں اور گھتیوں کو سلجھانے کے لئے آپ نے نظام وکالت کو ایجاد کیا اور فروغ دیا اور یہیں سے آپ نے مؤمنین کے دلوں کو غیبت کے زمانے کے لئے تیار کیا۔
 قارئین کرام! اس زمانے کے سیاسی و اجتماعی حالات کے پیش نظر امام علی نقی علیہ السلام کے یہ اقدام کتنے اہم تھے اس کا اندازہ ہم آج لگا سکتے ہیں کہ فوجی چھاونی میں دشمن کی نظروں کے نیچے سے حق کے پیغام کو دور دور تک پھیلانا کتنا بڑا کارنامہ تھا۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Dec 15