Saturday - 2018 Dec 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195153
Published : 28/8/2018 16:43

عید غدیر کا ایک مؤمن سے مطالبہ

یہ وہ دن ہے جب ہم سے مطالبہ کیا گیا کہ خوش رہیں اور خوشی کا اظہار کریں۔ ایک دوسرے کے ساتھ خوشیاں بانٹے کہ پروردگار نے ہمارے اوپر احسان کیا اور نعمت ولایت کو ہمیں عطا کیا ۔روز عید غدیر ایسا بڑا دن ہے اور عید غدیر اتنی بڑی عید ہے کہ پروردگار کی خاص طور پر حمد بجا لانے کی روایات میں تاکید کی گئی ہے اور اسکا شکر ادا کرنے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ یقیناً اگر اس نے ہمیں اس ولایت کی عظیم نعمت سے نہ نوازا ہوتا تو ہم کہاں ہوتے؟ نہیں معلوم کس راہ پر چل رہے ہوتے؟ کچھ پتہ نہیں۔ اس لئے یہ دن خاص کر شکر و حمد الہی بجا لانے کا دن ہے اور شکر و حمد الہی کا ایک طریقہ روزہ رکھنا ہے جس کی اس دن بہت تاکید کی گئی ہے۔

ولایت پورٹل: ہر قوم و مذہب میں انکا ایک یادگار دن ہوتا ہے، ایک بڑا دن ہوتا  ہے جو کسی بڑے واقعہ کی یادگار قرار پاتا ہے اس دن خاص پروگرام ہوتے ہیں اور اس دن کو یاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعہ کسی قوم و مذہب کی تاریخ میں ایک بڑا فیصلہ کن موڑ آیا ہو دین اسلام میں بھی ایسے بہت سے یادگار واقعات ہیں جن میں یا تو کسی خاص وجہ سے  اللہ نے انہیں عید قرار دیتے ہوئے اس میں خوشی منانے اور مخصوص عبادتوں کو انجام دینے کے لئے کہا ہے یا پھر خود پروردگار نے انعام و اکرام کے طور پر اسے عید قرار دیا ہے جیسے عید سعید فطر رب العزت کی طرف سے اپنے ان بندوں کو ایک تحفہ ہے جنہوں نے پورے ایک مہینہ اللہ کی عبادت و بندگی میں گزارا اسی طرح اگر بڑے واقعہ کی مناسبت کو دیکھا جائے تو عید قربان کو عید قرار دیا گیا ہے  چنانچہ روایات میں ایسے بڑے ایام اور یادگار دنوں کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے جو کسی نہ کسی سبب مالک حقیقی کے نزدیک پسندیدہ ہیں حتی ان ایام کے بارے میں ہے کہ یہ خدا کے حضور روز قیامت ویسے ہی جائیں گے جیسے عروس نو حجلہ عروسی کی طرف جاتی ہے ۔(1)لیکن اسلام میں جو مرتبہ عید غدیر کو حاصل ہے وہ کسی کو حاصل نہیں اور چونکہ اس دن حضور سرورکائنات  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امیر المؤمنین علیہ السلام کو اپنا جانشین و خلیفہ مقرر کیا تھا جسکی بنیاد پر اسلام ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوگیا اسی سبب اس دن کو عید قرار دیا گیا۔(2) بلکہ یہ عید سب سے بڑی عید ہے اور روایات میں  اس دن کو عید اکبر۔(3)  کہا گیا ہے  اور سب سے افضل عید ۔(4)کے طور پر پہچنوایا گیا ہے  لہذا ضروری ہے کہ اس عید کی فضیلت کو سمجھتے ہوئے یہ دیکھا جائے کہ اس عید میں ہمیں کیا کرنا چاہیے تاکہ اس عید کی عظمت کے ادراک کے ساتھ ساتھ ہم وہ سب کر سکیں جس کا اس دن ہم سے مطالبہ و تقاضا کیا گیا ہے۔
خوشی و مسرت کے ساتھ حمدو شکر الہی بجا لانے کا دن :
یہ وہ دن ہے جب ہم سے مطالبہ کیا گیا کہ خوش رہیں اور خوشی کا اظہار کریں۔(5)  ایک دوسرے کے ساتھ خوشیاں بانٹے کہ پروردگار نے ہمارے اوپر احسان کیا اور نعمت ولایت کو ہمیں عطا کیا ۔روز عید غدیر ایسا بڑا دن ہے اور عید غدیر اتنی بڑی عید ہے کہ پروردگار کی خاص طور پر حمد بجا لانے کی روایات میں تاکید کی گئی ہے اور اسکا شکر ادا کرنے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ یقیناً اگر اس نے ہمیں اس ولایت کی عظیم نعمت سے نہ نوازا ہوتا تو ہم کہاں ہوتے؟ نہیں معلوم کس راہ پر چل رہے ہوتے؟ کچھ پتہ نہیں۔  اس لئے یہ دن خاص کر شکر و حمد الہی بجا لانے کا دن ہے اور شکر و حمد الہی کا ایک طریقہ روزہ رکھنا ہے جس کی اس دن بہت تاکید کی گئی ہے۔(6)
روزہ رکھنا وہ عمل ہے جس کے لئے صرف ہم سے ہی مطالبہ نہیں ہے بلکہ انبیاء کرام و اصیاء الہی بھی  اس دن روزہ رکھا کرتے تھے ۔(7)یہ دن انکے عمل کی تاسسی کا دن بھی ہے  اسلئے کہ یہ دن ان کے لئے بھی عید کا دن تھا ۔
آسمانی عید :
یہ وہ عید ہے جس کے لئے روایات میں ملتا ہے کہ زمین سے زیادہ آسمانوں میں اس کی بات ہے۔(8) یہ عید زمین پر بھلے ہی مظلوم واقع ہو لیکن آسمانوں پر اس کی شہرت کہیں زیادہ ہے ،  اور آسمانوں میں زمین سے زیادہ اسکی اہمیت کا ہونا اس بات کو بیان کرنے کے لئے کافی ہے کہ اس آسمانی عید کو چھوٹے چھوٹے مسائل میں گھر کر چھوٹی چھوٹی باتوں  پر ہرگز قربان نہیں کرنا چاہیے  ۔
عہد و پیمان کی عید :
امام علی علیہ السلام فرماتے  ہیں یہ عید اتنی بڑی عید ہے کہ اس میں گشایش و وسعت حاصل ہوئی، منزلت کو اوج ملی، خدا  کی حجتیں روشن اور اس کے براہین واضح ہو گئے  یہ وہ دن ہے جب دین الہی کامل ہوا یہ دن عہد و پیمان کا دن ہے۔(9)
........................................................................................................................................
حوالہ جات:
1.قال ابو عبد الله (ع) :اذا کان يوم القيامة زفت اربعة يام الى  الله عز و جل کما تزف العروس الى خدرها :يوم الفطر و يوم الاضحى و يوم الجمعةو يوم غدير خم . ( اقبال سيد بن طاووس : .466 )
2 ۔ روى زياد بن محمد قال :دخلت على ابى عبد الله (ع) فقلت :للمسلمين عيد غير يوم الجمعة والفطر والاضحى ؟ قال:نعم ، اليوم الذى نصب فيه رسول الله (ص) اميرالمؤمنين (ع) مصباح المتهجد: .736، قيل لابى عبد الله (ع) للمؤمنين من الاعياد غير العيدين و الجمعة ؟قال : نعم لهم ما هو اعظم من هذا ، يوم اقيم اميرالمؤمنين (ع) فعقد له رسول الله الولية فى  اعناق الرجال والنساء بغدير خم . ( وسائل الشيعه ، 7: 325، ح .5 )
3۔عن الصادق(ع) قال: هو عيد الله الاکبر،و ما بعث الله نبيا الا و تعيد فى هذا اليوم و عرف حرمته و اسمه فى السماء يوم العهد المعهود و فى الارض يوم الميثاق الماخوذ و الجمع المشهود. وسائل الشيعه، 5: 224، ح 1.
4 ۔ يوم غدير خم افضل اعياد امتى و هو اليوم الذى امرنى الله تعالى ذکره فيه بنصب اخى على بن ابى طالب علما لامتى، يهتدون به من بعدى و هو اليوم الذى کمل الله فيه الدين و اتم على امتى فيه النعمة و رضى لهم الاسلام دينا . ( امالى صدوق : 125، ح .8 )
5. قال ابو عبد الله (ع) :انه يوم عيد و فرح و سرورو يوم صوم شکرا لله تعالى . ( وسائل الشيعه 7: 326، ح .10 )
6 ۔ قال ابو عبد الله (ع) :... هو يوم عبادة و صلوة و شکر لله و حمد له ، و سرور لما من الله به عليکم من ولايتنا ، و انى احب لکم ان تصوموه . ( وسائل الشيعه 7: 328، ح .13 )
7.  ... تذکرون الله عز ذکره فيه بالصيام والعبادة و الذکر لمحمد و آل محمد ، فان رسول الله (ص) اوصى اميرالمؤمنين ان يتخذ ذلک اليوم عيدا ، و کذلک کانت الانبياء تفعل ، کانوا يوصون أوصيائهم بذلک فيتخذونه عيدا . ( وسائل الشيعه 7: 327، ح .1 )
8۔ قال الرضا (ع) : حدثنى ابى ، عن ابيه (ع) قال:إن يوم الغدير فى السماء اشهر منه فى الارض . ( مصباح المتهجد : .737 )
9۔ امام على (ع) :إن هذا يوم عظيم الشأن ، فيه وقع الفرج ، ورفعت الدرج و وضحت الحجج و هو يوم اليضاح والافصاح من المقام الصراح ، ويوم کمال الدين و يوم العهد المعهود ... ( بحارالانوار ، 97: .116 )

 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Dec 15