Thursday - 2018 Dec 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195154
Published : 28/8/2018 17:21

مسئلہ شفاعت پر وہابیوں کی تلملاہٹ

روز قیامت پیغمبر اکرم(ص)اور دوسرے شافعین کے ذریعہ شفاعت ہونا ایک مسلم امر ہے تو پھر بے شک مؤمنین کی جانب سے اس کی درخواست بھی جائز اور مشروع کام ہوگا ، شفاعت کرنے والوں سے شفاعت کی درخواست کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی کسی کے حق میں دعا کردے کہ جس کے حلال ہونے میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے جیسا کہ ابن عباس سے منقول پیغمبر اکرم(ص) کی حدیث میں اس کا تذکرہ موجود ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام جیسا کہ ہم نے اپنے گذشتہ کالم میں بیان کیا تھا کہ قیامت کے اہم واقعات میں سے ایک شفیع حضرات کے ذریعہ بعض گنہگاروں کی شفاعت کرنے والوں کی شفاعت بھی ہے پروردگار عالم شفاعت کے ذریعہ سے ان لوگوں کے گناہ بخش دے گا اور یہ بھی  اہل بہشت میں شامل ہوجائیں گے، عقیدۂ شفاعت کے بارے میں تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کیونکہ قرآن مجید اور سنت پیغمبر اکرم(ص) میں صراحت کے ساتھ مسئلہ شفاعت کو بیان کیا گیا ہے مسئلہ شفاعت قرآن کے مسلّم مسلمات میں سے ہے قرآن نے اس کے بعض احکام اور خصوصیات بھی بیان کئے ہیں مثلاً  شفاعت صرف خداوند عالم کی اجازت سے ہی ہوگی ہے:’’مَنْ ذَا الَّذِی یَشْفَعُ عِنْدَہُ إِلاَّ بِإِذْنِہِ‘‘۔ وغیرہ وغیرہ۔ آئیے آج کے اس کالم میں ہم شفاعت سے متعلق کوتاہ نظر وہابیوں کی بے تکی دلیلوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔چنانچہ اس سے پہلے والے مضمون کو پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
قیامت میں شفاعت پر اہل تشیع کا عقیدہ
گذشتہ سے پیوستہ:جب روز قیامت پیغمبر اکرم(ص)اور دوسرے شافعین کے ذریعہ شفاعت ہونا ایک مسلم امر ہے تو پھر بے شک مؤمنین کی جانب سے اس کی درخواست بھی جائز اور مشروع کام ہوگا ، شفاعت کرنے والوں سے شفاعت کی درخواست کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی کسی کے حق میں دعا کردے کہ جس کے حلال ہونے میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے جیسا کہ ابن عباس سے منقول پیغمبر اکرم(ص) کی حدیث میں اس کا تذکرہ موجود ہے۔
وہابی اور شفاعت
وہابی شفاعت کے تو قائل ہیں مگر جزئیات کے بارے میں ان کے اپنے کچھ خاص نظریات ہیں جن کی وجہ سے ان کا راستہ بقیہ مسلمانوں سے الگ ہے۔ کیونکہ ان کا اپنے فکری اور نظریاتی یا عقائدی مخالفین کے بارے میں خاص رویہ ہے لہٰذا وہ مسئلہ شفاعت کے بارے میں بھی اپنے علاوہ بقیہ تمام مسلمانوں کو مشرک کہتے ہیں، ان کے اور مسلمانوں کے درمیان شفاعت کے بارے میں بنیادی اختلاف یہ ہے کہ  شفاعت کرنے والوں سے شفاعت کی درخواست کی جاسکتی ہے یا نہیں ؟ کیونکہ شفاعت کرنے والوں سے شفاعت کی درخواست کرنا چاہے وہ زندہ ہوں یا مردہ مسلمانوں کے نزدیک سے جائز ہے لیکن وہابیوں کی نظر میں یہ کام حرام اور شرک ہے۔
بہ الفاظ دیگر شفاعت کرنے والوں سے دو طریقہ سے شفاعت کی درخواست کی جاسکتی ہے  ایک تو یہ کہ انسان براہ راست خدا سے یہ مطالبہ کرے کہ پیغمبر اکرم (ص) یا شفاعت کی اجازت رکھنے والے افراد اس کی شفاعت کردیں مثلاً وہ کہے :
’’ اللّٰھم شفع لی محمدا ‘‘ ۔’’ بارالٰہا حضرت محمد مصطفیٰ(ص) کو میرا شفیع قرار دیدے ‘‘ ۔
اور دوسرے یہ کہ خود پیغمبر اکرم(ص) یا دوسرے شفاعت کرنے والوں سے یہ درخواست کرے کہ آپ حضرات میری شفاعت کردیں مثلاً یہ کہے :’’ یا محمد اشفع لی عند ا للّٰہ ‘‘یا ’’ کن لی شفیعاً عندا للّٰہ‘‘ وغیرہ
’’ اے محمد آپ اللہ کے نزدیک میری شفاعت فرمادیں ۔ ‘‘ یا ’’ اللہ کے نزدیک میرے شفیع بن جائیں‘‘ ۔ وغیرہ وغیرہ
وہابی مذکورہ صورتوں میں صرف پہلی صورت کو قبول کرتے ہیں اور دوسری صورت کو حرام اور شرک قرار دیتے ہیں۔
وہابیوں کے دلائل یا شبہات
انہوں نے اپنے مدعیٰ کو ثابت کرنے کے لئے مندرجۂ ذیل دلیلیں پیش کی ہیں۔
۱ ۔ شافع سے شفاعت طلب کرنے کا مطلب اس سے دعا کرنا ہے اور غیر خدا سے دعا کرنا عبادت میں شرک ہے اور خداوند عالم نے اس سے منع فرمایا ہے:’’فَلَا تَدْعُوْامَعَ اللّٰہِ اَحَداً‘‘۔(۱) خدا کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو ۔
اس بناء پر شفاعت کرنے والوں سے شفاعت طلب کرنا عبادت میں شرک ہے ۔
۲ ۔ قرآن مجید نے عصر رسالت کے مشرکین کو اس بناء پر مشرک قرار دیا ہے کہ وہ لوگ غیر خدا سے شفاعت طلب کرتے تھے اور پیغمبر اکرم(ص) نے ان کے خون کو مباح قرار دیا تھا اور ان سے جہاد کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے ، اس بارے میں قرآن کریم میں ارشادہوتا ہے:’’وَیَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اﷲِ مَا لاَیَضُرُّہُمْ وَلاَیَنْفَعُہُمْ وَیَقُولُونَ ہَؤُلَائِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اﷲِ‘‘۔ (۲)
۳ ۔ قرآن کریم نے شفاعت کو پروردگار عالم کا مخصوص حق قرار دیا ہے جیسا کہ ارشادہوتا ہے:’’قُلْ لِلَّہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیعًا‘‘۔(۳)
 لہٰذا صرف خداوند عالم سے ہی شفاعت طلب کرنا چاہئے اور غیر خدا سے شفاعت طلب کرنا اس کے خدا سے مخصوص ہونے کے منافی ہے۔
بعض وہابیوں نے کچھ دوسری دلیلیں بھی بیان کی ہیں لیکن ان کی اہم دلیلیں یہی تھیں جو ابن تیمیہ یا محمد بن عبدا لوہاب کی کتابوں میں درج ہیں۔ (۴) 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔جن /۱۸
۲۔یونس/۱۸
۳۔زمر/ ۴۴
۴۔وہابیوں کی تمام دلیلوں کو ان کی کتابوں کے حوالوں کے ساتھ علامہ سید محسن امین عاملی نے اپنی کتاب کشف الارتیاب باب سوم فصل اول ص ۲۳۸ ۔ ۲۶۶ میں تجزیہ کے ساتھ نقل کیا ہے۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Dec 13