Sunday - 2018 Dec 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195166
Published : 29/8/2018 16:55

عید غدیر کی فضیلت اور اعمال

امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا: جہاں کہیں بھی رہو کوشش کرو کہ غدیر کے دن امام علی کی قبر اطہر پر حاضر ہوں ، اللہ اس دن ہر مؤمن اور مؤمنہ کے ساٹھ سال کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے اور اس دن، جہنم کی آگ سے ماہ رمضان ، شب قدر عید الفطر سے بھی دو گنا زیادہ لوگوں کو آزاد کردیتا ہے، اور اس دن مؤمن بھائی کو ایک درہم دینا ہزار درہم دینے کے برابر ہے ، اس دن اپنے مؤمن بھائی کے ساتھ ایک احسان کرو اور مؤمنین کو خوش کرو،خدا کی قسم اگر لوگوں کو اس دن کی فضیلت معلوم ہوجائے تو وہ دس بار فرشتوں سے مصافحہ کریں گے‘‘۔

ولایت پورٹل: تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہم کو امام علی علیہ السلام اور باقی آئمہ علیہم السلام کی ولایت سے متمسک و منسلک قرار دیا ہے۔
عید غدیر اللہ کی سب سے عظیم عید ہے اسے عید اللہ بھی کہا گیا ہے، آل محمد علیہم السلام کے لئے سب سے اہم عیدوں میں سے یہی عید ولایت ہے اللہ نے ہر نبی کے لئے اس دن کو  عید کا دن قرار دیتے ہوئے اسے اہم بتایا ہے اس کا نام آسمان میں ’’عید موعود‘‘ اور زمین میں ’’یوم میثاق ماخوذ‘‘ اور ’’جمع مشہود‘‘ طئے پایا ہے۔ پیغمبر اکرم (ص) نے امام علی علیہ السلام سے وصیت کی کہ غدیر کے دن کو عید کا دن سمجھیں اور ہر نبی نے اپنے وصی اور جانشین سے وصیت کی کہ اس دن کو عید قرار دیں یہ بے حد مبارک اور برکت والا دن ہے ۔ یہ شیعوں کے اعمال قبول ہونے کا دن ہے اور ان کے غموں کے دور ہونے کا دن ہے۔
اس دن یعنی 18 ذی الحجہ 10 ہجری کو پیغمبر اکرم(ص) نے اپنے آخری حج سے واپسی میں آئیہ بلغ نازل ہونے کے بعد اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے’’من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ‘‘ کہہ کر اپنے بعد کے لئے امام علی کو اپنا وصی اور جانشین اور بلا فصل خلیفہ ہونے کا اعلان کردیا جس کے بعد آئیہ اکمال نازل ہوئی جس میں اللہ نے فرمایا کہ :’’آج کے دن کافر مایوس ہوگئے اس لئے تم ان سے نہ ڈرو اور صرف مجھ سے ڈرو، آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور اپنے نعمتوں کو تمام کردیا اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کرلیا ہے‘‘۔
اس آیت کے بعد دین کے ہمیشہ باقی رہنے اور کافروں اور منافقوں کی مایوسی کا اعلان ہوگیا ۔چنانچہ امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا: جہاں کہیں بھی رہو کوشش کرو کہ غدیر کے دن امام علی کی قبر اطہر پر حاضر ہوں ، اللہ اس دن ہر مؤمن اور مؤمنہ کے ساٹھ سال کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے اور اس دن، جہنم کی آگ سے ماہ رمضان ، شب قدر عید الفطر سے بھی دو گنا زیادہ لوگوں کو آزاد کردیتا ہے، اور اس دن مؤمن بھائی کو ایک درہم دینا ہزار درہم دینے کے برابر ہے ، اس دن اپنے مؤمن بھائی کے ساتھ ایک احسان کرو اور مؤمنین کو خوش کرو،خدا کی قسم اگر لوگوں کو اس دن کی فضیلت معلوم ہوجائے تو وہ دس بار فرشتوں سے مصافحہ کریں گے‘‘۔
اس دن جناب موسٰی نے جادوگروں پر کامیابی حاصل کی ، اسی دن اللہ نے جناب ابراہیم کے لئے نمرود کی آگ کو بجھایا ، اسی دن جناب موسٰی نے یوشع بن نون کو اپنا جانشین بنایا، اسی دن جناب سلیمان نے آصف بن برخیا کے خلیفہ ہونے پر امت کو گواہ بنایا،اور پیغمبر اسلام(ص) نے اصحاب کے درمیان رشتہ اخوت(بھائی چارے) قائم کیا۔
اس دن کے کچھ اعمال
روزہ رکھنا،(یہ روزہ اس دنیا کی عمر کے برابر ،100 مقبول حج اور 100 مقبول عمرے اور 60 سال کے گناہوں کا کفارہ ہے)غسل کرنا، امام علی علیہ السلام کی زیارت پڑھنا،عید کی نماز پڑھنا اور دعائے ندبہ پڑھنا۔
اس دن زیادہ سے زیادہ عبادت کرنا ،زیادہ سے زیادہ محمد و آل محمد کو یاد کرنا،اور ان پر درود و سلام بھیجنا،اور ان پر ظلم کرنے والوں سے بیزاری کا اظہار کرنا،امام علی(ؑ) کی قبر کی زیارت،مؤمنین کو عیدی دینا،مؤمن بھائیوں کے ساتھ نیکی کرنا ، اچھے کپڑے پہننا،سجنا سنورنا، خوشبو لگانا،مؤمن بھائیوں کی غلطی کو معاف کرنا،ان کی ضرورتوں کو پورا کرنا،روزہ رکھنے والوں کا افطار کروانا،اور ان کے لئے اچھی زندگی کا انتظام کرنا،مؤمنین سے ملاقات کے لئے جانا،بیوی بچوں کو خوش کرنا،اور ان کے لئے اچھی زندگی کا انتظام کرنا،مؤمنین سے ملاقات کے لئے جانا،ان لے تحفہ وغیرہ لیکر جانا،ولایت جیسی عظیم نعمت پر شکر ادا کرنا۔
آج کے دن کسی مؤمن کی ایک روپیہ سے مدد عام دنوں میں ایک لاکھ کے برابر ہے۔
اور اسی طرح آج کے دن اپنے کسی بھائی کو کھانا کھلانا سارے نبیوں اور صدیقین کو کھانا کھلانے جیسا ہے اور خود امام علی علیہ السلام کے خطبہ میں ہے کہ غدیر کے دن جو شخص کسی روزے دار کو افطار کے وقت افطار کروائے تو ایسا ہے جیسے اس نے ایک لاکھ،نبی،صدیق اور شہیدوں کو افطار کروایا ہے، تو اب سوچیئے اس انسنا کے ثواب کا کیا عالم ہوگا جو اپنے دستر خوان پر بہت سے مؤمن اور مؤمنات کو کھانا کھلائے اور افطار کروائے ، اور پھر آپ نے فرمایا:کہ جو ایسا کرے گا میں اس کے کافر نہ ہونے اور فقیری سے ہمشیہ دور رہنے کی ضمانت لیتا ہوں۔
غدیر کی نماز
امام جعفرصادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ زوال سے کچھ دیر پہلے (اللہ کا شکر بجا لانے کی نیت سے)2 رکعت نماز پڑھے ہر رکعت میں 10 مرتبہ سورہ فاتحہ اور 10 مرتبہ سورہ توحید ، 10 مرتبہ آیت الکرسی اور 10 بار سورہ قدر پڑھے ، اس نماز کے پڑھنے والے کو اللہ ایک لاکھ حج ایک لاکھ عمرے کا ثواب دے گا اور وہ دنیا و آخرت کی جس حاجت کا بھی سوال کرے گا اللہ اسے ضرور قبول کرے گا۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Dec 16