Sunday - 2018 Dec 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195167
Published : 29/8/2018 17:47

علی(ع) کی خلافت بلا فصل پر لاتعداد دلیلوں کے باوجود بھی کیوں خلافت آپ تک نہیں پہونچی؟

ابن طاؤس اپنے والد ماجد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے امام سجاد علیہ السلام کی بارگاہ جلالت پناہ میں عرض کیا:مولا! کیوں قریش علی کو ناپسند کرتے تھے؟فرمایا: چونکہ علی نے ان کے بڑے سرداروں کو جہنم رسید کیا تھا کہ جن کے جانے سے ان کے خاندان کے حصہ میں سوائے ذلت و رسوائی کے اور کوئی چیز ہاتھ نہیں آئی۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! قرآن مجید کی کئی آیات کا شان نزول واقعہ غدیر ہے اور اسی طرح سنی اور شیعہ کتب میں متفق علیہ سینکڑوں احادیث موجود ہیں کہ جو حضرت علی علیہ السلام کی خلافت بلا فصل کو ثابت کرتی ہیں لیکن ایسی کون سی چیز تھی جس کے سبب خلافت علی کا حق ہونے کے باوجود بھی آپ تک نہیں پہونچی؟
سب سے پہلی دلیل خود مولائے کائنات کی زبانی قریش کے بزرگوں اور اشراف کا علی علیہ السلام کی نسبت کینہ اور حسد تھا چنانچہ بنی اسد کے ایک شخص نے امیر المؤمنین سے سوال کیا : یا علی! جب کہ آپ سب سے زیادہ خلافت کے لئے لائق و مناسب و موزوں تھے پھر آپ کو خلافت سے دور کیوں کردیا گیا؟
آپ نے فرمایا: اے بنی اسد کے قبلہ سے تعلق رکھنے والے میرے بھائی! تم بہت ہی مضطربانہ اور پریشانی کے عالم میں اس وقت بے موقع سوال کربیٹھے، لیکن میں تمہارا احترام اور تمہارے سوال کا خیال کرتے ہوئے جواب ضرور دوں گا۔سنو! جب کے میرا نسب سب سے زیادہ شریف اور رسول خدا(ص) سے سب سے زیادہ قریب ہونے کے باوجود خلافت کو مجھ تک پہونچنے نہیں دیا گیا اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ لوگ خود غرضی اور ہوائے نفس میں ملوث ہوچکے تھے۔ایک گروہ لالچیوں کی طرح مسند خلافت سے چپک گیا اور دوسرے نے سخاوت دکھاتے ہوئے اس سے ہاتھ کھینچ لیا۔اب فیصلہ کرنے والا اللہ ہے وہی قیامت کے درمیان ہم سب کے درمیان فیصلہ کرے گا۔(نهج البلاغة ، خطبة 162)
*جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ حضرت امیر علیہ السلام ہی وہ ذات ہیں جنہوں نے صدر اسلام میں ہونے والی بڑی جنگوں جیسا کہ بدر و احد میں قریش کے بڑے بڑے سرداروں کو واصل جہنم کیا تھا لہذا ان کے اہل قبیلہ کے مسلمان ہونے کے بعد بھی ان کے دلوں میں اپنے کفار اباء و اجداد اور سرداروں کے لئے محبت کے جذبات موجزن رہے چنانچہ جب بھی علی علیہ السلام ان کے سامنے آتے تھے انہیں اسلام کا سب سے بڑا سورما نہیں بلکہ اپنے کافر باپ داداؤوں کا قاتل دیکھائی دیتا تھا۔اور ان کے دلوں میں کینہ حسد کے جراثیم دوڑنے لگتے تھے۔
ابن طاؤس اپنے والد ماجد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے امام سجاد علیہ السلام کی بارگاہ جلالت پناہ میں عرض کیا:مولا! کیوں قریش علی کو ناپسند کرتے تھے؟
فرمایا: چونکہ علی نے ان کے بڑے سرداروں کو جہنم رسید کیا تھا  کہ جن کے جانے سے ان کے خاندان کے حصہ میں سوائے ذلت و رسوائی کے اور کوئی چیز ہاتھ نہیں آئی۔( تاريخ مدينة دمشق ، ج 42 ، ص 290)
*اور صرف یہی نہیں بلکہ خود عثمان بھی علی کی نسبت قریش کے حسد کی طرف اشارہ کرتے ہیں چنانچہ ابن عباس سے نقل ہوا ہے کہ ایک دن علی و عثمان کے درمیان کسی بات کو لیکر نزاع ہوگئی عثمان نے کہا:اگر جنگ بدر میں آپ کے ہاتھوں مارے گئے قریش کے ۷۰ لوگوں کی وجہ سے وہ لوگ آپ سے حسد و کینہ رکھتے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔( شرح نهج البلاغة ، ج 9 ص 23 و التذكرة الحمدونية ، ابن حمدون ج 7 ، ص 168)
پس معلوم ہوا کہ کینہ اور حسد ہی دو ایسی چیزیں ہیں کہ جو انسان کو حق سے منحرف کردیتی ہیں جیسا کہ رسول اللہ(ص) کی وفات کے بعد اسلامی معاشرے کے اکثر لوگ ہوئے۔

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Dec 16