Monday - 2018 Nov 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195253
Published : 5/9/2018 14:36

نیکی کے دروازوں کا پتہ

اس حدیث مبارک کو اگرچہ پوری زندگی قابل عمل بنایا جاسکتا ہے لیکن ماہ مبارک رمضان ایک ایسا مہینہ ہے کہ اس میں انسان روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ صدقہ و فطرہ دیتا ہے نیز نصف شب کے بعد سحر کرنے کے لئے بیدار بھی ہوتا ہے جس میں بہر حال وہ یاد خدا سے بھی غافل نہیں ہوتا۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ایک دن ہمارے پانچویں امام حضرت محمد باقر علیہ السلام نے اپنے صحابی سلیمان بن خالد سے سوال فرمایا، کیا آج میں تمہیں نیکی کے دروازوں کا پتہ بتا دوں؟ سلیمان نے عرض کی :مولا! میری جان آپ پر قربان جائے میرے حق میں اس سے بہتر اور کیا ہوسکتا ہے۔
امام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:’’ الصَّوْمُ‏ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ وَ الصَّدَقَةُ تَذْهَبُ بِالْخَطِئَةِ وَ قِيَامُ الرَّجُلِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ بِذِكْرِ اللَّه‘‘۔(۱) روزہ جہنم کی آگ سے سِپر ہے،صدقہ گناہوں کو ختم کردیتا ہے اور انسان کا  آدھی رات میں اللہ کے ذکر کے واسطے محراب عبادت میں کھڑے ہونا۔ اس کے بعد حضرت نے سورہ سجدہ کی آیت:۱۶ کی تلاوت فرمائی:’’ تَتَجافى‏ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضاجِع‏‘‘۔یعنی (رات کے وقت) ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ مؤمن انسان کی رات بھی بیکار بسر نہیں ہوتی بلکہ وہ اس میں بھی یاد خدا کرتا ہے ۔دوسرے یہ کہ مؤمن کو فقط اپنی ہی فکر نہیں ہوتی بلکہ وہ ہمیشہ دوسروں کی بھلائی اور انہیں خیر پہونچانے کا بھی سوچتا رہتا ہے اسی وجہ سے وہ کبھی صدقہ اور انفاق کرنے سے غافل نہیں ہوتا۔
اس حدیث مبارک کو اگرچہ پوری زندگی قابل عمل بنایا جاسکتا ہے لیکن ماہ مبارک رمضان ایک ایسا مہینہ ہے کہ اس میں انسان روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ صدقہ و فطرہ دیتا ہے نیز نصف شب کے بعد سحر کرنے کے لئے بیدار بھی ہوتا ہے جس میں بہر حال وہ  یاد خدا سے بھی غافل نہیں ہوتا۔

منبع: الكافي، محمد بن يعقوب کلینی، دار الكتب الإسلامية، تهران‏، ۱۴۰۷ھ‏.



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Nov 19