Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195254
Published : 5/9/2018 16:26

مباہلہ ہر جھوٹے پر اللہ کی لعنت کا دن

اگلے دن جب عیسائیوں نے رسول اللہ(ص) کے ہمراہ حضرت علی(ع)،حضرت فاطمہ زہرا(س)،امام حسن اور امام حسین(ع) کو دیکھا تو ابو حارثہ نے کہا: اگر مجھے حکومت روم کا خوف نہ ہوتا تو میں ابھی مسلمان ہوجاتا۔ لہذاجس شرط پر بھی ہو سکے ان لوگوں سے ابھی صلح کرلو۔

ولایت پورٹل: ہجرت کا نواں سال تھا،مکہ اور طائف لشکر اسلام کے ہاتھوں فتح ہوچکے تھے،یمن،عمان اور ان کے اطراف کے سارے علاقے مسلمان ہوچکے تھے،لیکن حجاز اور یمن کے درمیان میں ایک علاقہ تھا جسے نجران کہتے تھے یہ ایک عیسائی نشین علاقہ تھا کہ جن کی حمایت شمالی افرایقہ اور قیصر روم کے عیسائی بادشاہوں کی طرف سے ہوتی تھی،شاید یہی وجہ تھی کہ سایہ اسلام کے نیچے آنے کا جذبہ ان کے یہاں ماند پڑ گیا تھا،لیکن پیغمبر اکرم(ص)نے ان پر لطف کرتے ہوئے انہیں اسلام کی طرف دعوت دی چنانچہ یہی دعوت دینا نجران کے عیسائیوں کے لئے سبب بنا کہ وہ تحقیق کرنے اور حقیقت حال سے واقفیت کے بہانے مدینہ میں خود سرکار رسالتمآب(ص) کی بارگاہ میں حاضر ہوں۔
جیسا کہ اسلامی تواریخ میں ملتا ہے کہ نجران کا یہ گروہ بڑی شان و شوکت،فاخرہ لباس پہنے بڑے طمطراق کے ساتھ مسجد النبی(ص) میں داخل ہوا لیکن اللہ کے رسول(ص) نے ان کی طرف چنداں توجہ نہیں فرمائی۔اور چونکہ خود سرکار نے ہی انہیں خود اسلام کی طرف دعوت دی تھی لہذا وہ آپ کے اس عمل سے سخت پریشان ہوئے چونکہ ان کے لئے یہ عمل خلاف توقع تھا۔لیکن وہ لوگ اس کی علت اور سبب نہیں جانتے تھے۔
حضرت علی(ع) نے عیسائیوں سے فرمایا:چونکہ آپ لوگ اس شان شوکت، سونا اور جواہرات سے سجے دھجے  آئے ہیں اگر آپ لوگوں کو خدمت رسول(ص) میں باریابی چاہیئے تو سادہ لباس پہن کر آئیں۔
چنانچہ کچھ دیر کے بعد نجرانی سادہ لباس و سادہ وضع قطع میں بارگاہ رسول(ص) میں حاضر ہوئے۔حضرت نے بڑھ کر ان کا استقبال کیا اور انہیں اپنے پاس بٹھایا اور اس گروہ کے سردار ابو حارثہ سے گفتگو کرنا شروع کیا،ابو حارثہ نہ کہا:آپ کا خط ہم تک پہونچا،اسی شوق میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ سے گفتگو کرسکیں،حضرت نے فرمایا:ہاں! وہ خط ہم نے ہی تم کو اور اپنے ہمسایہ تمام حکمرانوں کو لکھا تھا اور سبھی سے صرف ایک چیز کا مطالبہ کیا ہے کہ سب شرک و الحاد کو چھوڑ کر،خدائے واحد پر ایمان لے آئیں اور دین محبت و رافت اسلام کے دامن رحمت میں آجائیں۔
ابو حارثہ نے کہا اگر آپ کی نظر میں اللہ پر ایمان اسلام ہے تو ہم آپ سے بہت پہلے اس پر ایمان رکھتے ہیں۔
رسول خدا(ص) نے سوال کیا:اگر تم لوگ حقیقتاً وحدہ لا شریک خدا پر ایمان رکھتے ہو تو کیوں حضرت عیسٰی کو خدا مانتے ہو؟
ابو حارثہ:ہمارے پاس عیسٰی کے خدا ہونے کے بہت سے دلائل ہیں ،جیسا کہ عیسٰی مُردوں کو زندہ کردیتے تھے،اندھوں کو بینائی دیدیتے تھے،لاعلاج بیماروں کو شفایاب کردیتے تھے۔
رسول خدا(ص) نے فرمایا: تم لوگوں نے عیسٰی علیہ السلام کے جن معجزات کا تذکرہ کیا ہے وہ سب اپنی جگہ صحیح ہیں اور یہ سب کچھ انہیں خدائے وحدہ لاشریک نے ہی عطا کئے تھے  اس سبب عیسٰی کی پرستش کرنے کے بجائے خود خدائے واحد کی عبادت کرنا چاہیئے۔
ابو حارثہ یہ سن کر خاموش ہوگیا، اسی درمیان شرحبیل نامی دوسرے پادری نے سکوت کو توڑتے ہوئے کہا:عیسٰی علیہ السلام اللہ کا بیٹا ہے چونکہ ان کی ماں مریم(س) نے شادی کے بغیر ہی انہیں جنم دیا ہے۔
اللہ کے رسول(ص) نے اس کے اس شبہہ کے جواب میں قرآن مجید کی اس آیت کی تلاوت فرمائی:’’ إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثِمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ‘‘۔(سورہ آل عمران:59) بے شک اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے کہ اللہ نے انہیں مٹی سے پیدا کیا پھر حکم دیا کہ ہو جا سو وہ ہوگیا۔
جب اس نے یہ آیت سنی تو خاموش ہوگیا اور سب کے سب اپنے سردار ابوحارثہ کی طرف دیکھنے لگے اور اس کی نگاہیں شرحبیل کی طرف تھیں کہ جو اب اپنی نظروں کو زمین میں گڑائے گہری فکر میں ڈوبنے لگا تھا۔
بحث و مباحثہ کا دور جب رسوائی پر تمام ہونے لگا تو انہوں نے بہانہ تراشی کرتے ہوئے کہا:ہم آپ کے ان دلائل سے قانع اور مطمئن نہیں ہوئے ہیں لہذا حق کو ثابت کرنے کے لئے مباہلہ ہونا چاہیئے، اللہ کی بارگاہ میں دعا کریں اور جو جھوٹا ہو اس کے لئے اللہ کا عذاب طلب کریں،اس وقت اللہ کے رسول(ص) نے اس آیت کی تلاوت فرمائی:’’ فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةُ اللّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ‘‘۔(سورہ آل عمران:61) (اے پیغمبر(ص)) اس معاملہ میں تمہارے پاس صحیح علم آجانے کے بعد جو آپ سے کٹ حجتی  کرے تو آپ ان سے کہیں کہ آؤ ہم اپنے اپنے بیٹوں، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر مباہلہ کریں (بارگاہِ خدا میں دعا و التجا کریں) اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔
اگلے دن جب عیسائیوں نے رسول اللہ(ص) کے ہمراہ حضرت علی(ع)،حضرت فاطمہ زہرا(س)،امام حسن اور امام حسین(ع) کو دیکھا تو ابو حارثہ نے کہا: اگر مجھے حکومت روم کا خوف نہ ہوتا تو میں ابھی مسلمان ہوجاتا۔ لہذاجس شرط پر بھی ہو سکے ان لوگوں سے ابھی صلح کرلو۔(1)
نتیجہ:
اگر ہم آج بھی رسول خدا اور آپ کی آل پاک کی حقیقی اتباع کریں تو دنیا کے کونے کونے میں اسلام کا پرچم لہرائے گا۔آئیے اللہ کی بارگاہ میں دعا کریں کہ ہمیں اسلام پر صحیح طریقہ سے عمل پیرا ہونے اور محمد و آل محمد کی تعلیم پر عمل کرنے کا جذبہ عطا فرمائے۔
....................................................................................................................................
منبع:
1۔محمد ابن محمد مفید، الارشاد للمفید، (ترجمه رسولی محلاتی) ، اسلامیه 1413، ج1، ص 154۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21