Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195276
Published : 6/9/2018 16:27

اہل و عیال کے خرچ میں وسعت و فراخدلی

کچھ روایات میں آیا ہے کہ اللہ تعالٰی ہر انسان کو اس کی ضرورت کے حساب سے عطا کرتا ہے پس کہیں ایسا نہ ہو کہ گھروالوں پر بے جا سختی کرنے کے سبب اللہ بھی عطا کرنے میں سختی کردے۔ اور بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ مؤمن کی زندگی تابع خدا ہونا چاہیئے جب اس کی پاس زیادہ ہو وہ اپنے گھروالوں پر زیادہ خرچ کرے اور انہیں زندگی میں سختی نہ دکھائے۔

ولایت پورٹل:ہر انسان پر اس کے اہل و عیال اور گھر والوں کی نظریں ٹکی ہوئی ہوتی ہیں،گھر کا ایک باپ اس حیثیت سے کہ وہ گھر کا ذمہ دار اور ایک خاتون کا شوہر ہے اسے اپنے اہل و عیال کے لئے دلسوز اور دردمند ہونا چاہیئے،اگر اس کے پاس کوئی مال ہے وہ بھی انہیں کا ہے اور اگر وہ زحمتیں اور مشقتیں اٹھاتا ہے وہ بھی انہیں کے لئے ہی اٹھاتا ہے لہذا اسے اپنے گھر میں اس طرح پیش آنا چاہیئے کہ گھر والوں کی زندگی آرام وسکون میں بسر ہو۔
کسی طرح کی سختی ،بدمزاجی،یا ان کی نسبت بے توجہی اور مطلق العنانی ممکن ہے زندگی کو تلخ اور ان کے دلوں سے اس کی محبت کو ہی نکال نہ دے۔
چنانچہ بے جا سختی اور تندی کرنا اور اہل و عیال کو مشکلات میں ڈالنے میں بھلائی نہیں ہے ،ان کی زندگی کے اخراجات اور ضرریات میں اقتصادی مشکلات کا ایجاد کرنا اور سختی کرنا یا ان کہ رفت و آمد پر بے جا پابندیاں عائد کرنا درست نہیں ہے۔
لہذا جس طرح گھر کے مرد یا باپ کو صحیح نظارت و نصیحت کرنا چاہیئے اسی طرح اسے بے جا سختی اور تندی سے پرہیز بھی کرنا چاہیئے۔
کچھ روایات میں آیا ہے کہ اللہ تعالٰی ہر انسان کو اس کی ضرورت کے حساب سے عطا کرتا ہے پس کہیں ایسا نہ ہو کہ گھروالوں پر بے جا سختی کرنے کے سبب اللہ بھی عطا کرنے میں سختی کردے۔ اور بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ مؤمن کی زندگی تابع خدا ہونا چاہیئے جب اس کی پاس زیادہ ہو وہ اپنے گھروالوں پر زیادہ خرچ کرے اور انہیں زندگی میں سختی نہ دکھائے۔
چنانچہ امام علی رضا علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:’’ ینبغی للرجل ان یوسع علی عیاله‘‘۔انسان کے لئے مناسب ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے میں فراخ دلی کا مظاہرہ کرے۔






آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21