Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195459
Published : 25/9/2018 16:58

تفسیر شہادت

امام حسین(ع) کے قیام کے جو کچھ بھی اسباب اور وجوہات دوسروں نے بیان کئے ہیں ان میں کوئی نہ کوئی نقص ضرور ہے اور اگر ہم آپ کے قیام کے اسباب کو جاننا چاہیں تو ہمارے لئے سب سے بہتر یہی ہے کہ ہم خود امام حسین(ع) کے کلمات اور خطبات میں اس مقدس قیام کے مقاصد و اہداف کو تلاش کریں۔کہ صاحب نہضت اور صاحب تحریک کیا بیان کررہے ہیں؟
ولایت پورٹل:قارئین کرام! شہید کربلا حضرت امام حسین(ع) کا مقدس قیام اور نہضت کسی بھی انسان اور خاص طور پر مسلمانوں کے لئے مخفی نہیں ہے یعنی ہر انسان جسے تاریخ سے تھوڑی سی بھی دلچسپی ہے وہ یہ جانتا ہے کہ سن 61 ہجری میں رسول اللہ(ص) کے نواسہ اور علی و بتول(س) کے دلبند نے کربلا کے میدان میں اپنی اور اپنے اقرباء کی قربانیاں پیش کیں اور تا قیام قیامت دین اور اس کی اقدار کو مٹنے سے بچا لیا۔
اس دلخراش واقعہ میں جو بات قابل ملاحظہ ہے وہ یہ ہے کہ ہر انسان اور مفکر نے اس واقعہ کے پس منظر پر غور کرنا شروع کیا تو اس نے اس قیام اور تحریک کی الگ تفسیر پیش کی۔ آیئے مختصر طور پر یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں نے امام حسین کے اس قیام کو کس طرح دیکھا اور خود سرکار سید الشہداء کہ جو خود اس منظر کے خالق ہیں وہ اس کے بارے میں کیا بیان فرماتے ہیں:
پہلی تفسیر: گناہوں سے پاک کرنے کے لئے قیام
صوفی حضرات عاشورا کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ چونکہ امام حسین(ع) ایک انسان کامل تھے لہذا آپ نے اپنی شہادت سے دوسروں کے لئے یہ زمینہ فراہم کیا تاکہ وہ لوگ آپ سے توسل کرکے تمام آلودگیوں سے پاک ہوکر سعادت اور کمال تک پہونچ جائیں۔
لہذا انسان پورے سال میں جتنی بھی خطائیں کرتا ہے ، یا جو بھی گناہ اس سے سرزد ہوتے ہیں یا ہم اپنے کسی ذمہ داری کو صحیح ڈھنگ سے اگر ادا نہیں کرتے تو بس محرم آئے اور ہم گریہ کرلیں، ان سب غلطیوں کا خود بخود ازالہ ہوجاتا ہے۔
دوسری تفسیر:عاشورا  عشق کا مظہر
نہضت عاشورا کی یہ تفسیر کسی حد تک عرفانی پہلو کو پیش کرتی ہے اور ان کی نظر میں امام حسین(ع) انسان کامل تھے آپ نے قضائے الہی کے سامنے تسلیم رہتے ہوئے ابراہیم کی طرح جام شہادت نوش کیا اور ذات معبود میں فنا ہوگئے ۔چنانچہ عمان سامانی نے اپنی کتاب ’’مخزن الاسرار‘‘ میں نہضت عاشورا کی یہ تفسیر بیان کی ہے۔(1)
یعنی عمان سامانی کی نظر میں امام حسین علیہ السلام نے کربلا کے میدان میں اپنے عشق کا جلوہ پیش کیا اور بس!
نہضت اور قیام عاشورا کے متعلق دونوں تفسیریں ان روایات سے کما حقہ مطابقت نہیں رکھتیں جو خود امام حسین نے بیان فرمائی ہیں۔چونکہ پہلی تفسیر تو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے جبکہ دوسری تفسیر میں بھی صرف ایک پہلو کو مد نظر رکھا گیا ہے چونکہ خود امام حسین علیہ السلام نے اپنے قیام کا جو مقصد بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے:’’ اني لم اخرج اشراً و لا بطراً ولا ظالماً و لا مفسداً و انما خرجت لطلب الاصلاح في امة جدي، اريد ان آمر بالمعروف و انهي عن المنكر ‘‘۔(2)
بے شک میں خود نمائی کرنے،ہرج و مرج ایجاد کرنے،ظلم و فساد پھیلانے کے لئے قیام نہیں کررہا ہوں بلکہ میں اپنے جد کی امت کی اصلاح کرنے اور امر بالمعروف کرنے و نہی عن المنکر کرنے کے لئے اپنا وطن چھوڑ رہا ہوں۔
تیسری تفسیر:امام حسین(ع) امت اسلامی کے لئے عیسٰی کی طرح ہیں
یہ بھی ایک تفسیر ہے جو نہضت حسینی کے بارے میں بیان کی جاتی ہے اور یہ مسحیت سے لی گئی تفسیر ہے جیسا کہ خود شہید مطہری اپنی مایہ ناز کتاب’’ حماسہ حسینی‘‘ میں اسے نقل کرتے ہیں اور پھر تنقید کرتے ہیں۔ اور اس کا ماحصل یہ ہے کہ جس طرح حضرت مسیح کو صلیب پر اس وجہ سے چڑھایا گیا کہ ان کی امت پاک ہوجائے۔(یہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے) جس طرح عیسٰی اس وجہ سے قتل ہوئے کہ آدم(ع) نے جو گناہ کیا تھا وہ داغ آدمیت کے دامن پر موجود تھا اور عیسٰی نے اپنی قربانی دی تاکہ وہ داغ آدمیت کے دامن سے دُھل جائے اسی طرح امام حسین(ع) شہید ہوئے تاکہ امت کے واسطے’’ باب نجات‘‘ اور سامان نجات بن جائیں۔
شہید مطہری(رح) اس تفسیر پر تنقید کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:’’امام حسین(ع) نے تو اس وجہ سے قیام کیا تاکہ امت گناہ میں ملوث نہ رہے اور گناہوں سے بچے،جبکہ اس تفسیر کا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ امام حسین(ع) نے اس وجہ سے قیام کیا تاکہ گنہگاروں کے لئے امن کی جگہ اور پناہ گاہ بن جائیں،یعنی تم لوگ جتنا چاہے گناہ کرو بس مجھے اور میرے با وفا اصحاب پر گریہ کرلو تو میں تمہارے گناہ بخشوادوں گا چاہے تم کردار کے لحاظ سے ابن زیاد ہوں یا عمر سعد۔(3)
نتیجہ: قارئین کرام! امام حسین(ع) کے قیام کے جو کچھ بھی اسباب اور وجوہات دوسروں نے بیان کئے ہیں ان میں کوئی نہ کوئی نقص ضرور ہے اور اگر ہم آپ کے قیام کے اسباب کو جاننا چاہیں تو ہمارے لئے سب سے بہتر یہی ہے کہ ہم خود امام حسین(ع) کے کلمات اور خطبات میں اس مقدس قیام کے مقاصد و اہداف کو تلاش کریں۔کہ صاحب نہضت اور صاحب تحریک کیا بیان کررہے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔ماجرای تفقد میرزای شیرازی از عمان سامانی/ مرکز خبر حوزه، در گفت وگو با دکتر علیزاده۔
2۔سيد هاشم رسولي محلاتي، زندگاني امام حسين (ع)، دفتر نشر فرهنگي اسلامي، ص‏152۔
3۔مجموعه آثار استاد شهید مطهری جلد 17 ، ص 109



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18