Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195461
Published : 25/9/2018 19:17

امام حسین(ع) کے قاتل شیعہ یا یزید؟

اس معرکہ میں ساری تدبیر یزید کی تھی،سارے اخراجات حکومت دمشق نے برداشت کئے تو پھر کیسے ہوسکتا ہے کہ قتل امام حسین(ع) کا سارا بوجھ اور گناہ شیعوں کے سر ڈال دیا جائے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! جیسےہی محرم الحرام کا چاند نمودار ہوتا ہے ویسے ہی کچھ یزید کے طرفداروں کی طرف سے یہ ہمیشہ کے تکراری جملات سننے کو ملتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کو خود شیعوں ہی نے بلاکر قتل کردیا اور سارا الزام یزید کے سر تھونپ دیا ہے ؟
جبکہ تاریخ کا یہ مسلم الثبوت مسئلہ ہے جسے صرف مسلمانوں نے ہی نہیں بلکہ غیر مسلموں اور خاص طور پر مستشرقین نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں جگہ دی ہے کہ معاویہ کی موت کے فوراً بعد یزید مسند نشین ہوا اور اس نے جہاں دوسرے اشراف و سرداروں سے بیعت کا مطالبہ کیا وہیں امام حسین(ع) سے بھی بیعت طلب کی اور مدینہ کے حاکم کو خط میں تحریر کیا کہ فلاں فلاں سے بیعت لے لینا لیکن حسین(ع) پر سختی کرنا اور اگر بیعت نہ کریں تو سر قلم کرکے میرے پاس بھیج دینا۔
اب کوفیوں کے امام حسین علیہ السلام کو جو کچھ خطوط ملے ہیں وہ مدینہ چھوڑنے کے بعد ملے ہیں۔
ہاں! ہم یہ تو نہیں کہتے کہ کوفی اس معرکہ میں بے خطا رہے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ابن زیاد کو یزید نے کوفہ کا والی و گورنر بنا کر بھیجا اور اس نے ایک عظیم لشکر امام حسین(ع) کو شہید کرنے کے لئے مہیا و تیار کیا جو کربلا آیا اور حضرت سے جنگ کی۔
اس معرکہ میں ساری تدبیر یزید کی تھی،سارے اخراجات حکومت دمشق نے برداشت کئے تو پھر کیسے ہوسکتا ہے کہ قتل امام حسین(ع) کا سارا بوجھ اور گناہ شیعوں کے سر ڈال دیا جائے۔
دوسرے کوفہ میں خط لکھنے والے سبھی لوگ شیعہ نہیں تھے بلکہ ان میں سے بہت سے بنی امیہ کے بہی خواہ  بھی تھے لیکن انہیں یزید کے طرز حکومت پر اعتبار نہیں تھا جیسا شبث بن ربعی یہ وہ نام ہے جس نے امام حیسن کو خط لکھا اور کربلا میں یزید کی طرف سے پیادہ فوج کی کمان اس کے ہاتھ میں تھی۔
تیسرے شیعہ کبھی اپنے اس امام کو جسے وہ مفروض الطاعۃ تسلیم کرتا ہے کبھی قتل تو کیا اس کی نافرمانی بھی اس کے یہاں حرام ہے ۔
چوتھے خود يزيد بن معاويه نے خود کو  قتل حسین علیہ السلام  کے الزام سے بچانے کے لئے یہ نہیں کہا کہ حسین علیہ السلام  کو ان کے شیعوں نے ہی قتل کیا ، اور اگر اس جھوٹ کی اس زمانہ میں ذرہ برابر گنجایش ہوتی اور اگر یہ بات کسی حد تک بھی قابل قبول ہو سکتی تھی  تو ایسی بات کہنے سے یزید جیسا عیار  ایک لمحہ بھی نہ چوکتا،  وہ اس وقت ایسا جھوٹ بول سکتا تھا جیسے کم سے کم کچھ سادہ لوح افراد قبول کر سکیں لہذا اس نے کوفہ کے حاکم عبید اللہ ابن زیاد کو مورد الزام ٹھہرایا، تاکہ اپنے آپ کو اس الزام سے بری کرسکے اور اپنے دامن کو خون حسین علیہ السلام  سے بچا سکے ۔
ابن کثیر نے کتاب’’البداية والنهاية‘‘ اور ذهبي نے کتاب ’’سير أعلام النبلاء‘‘ میں اور دوسروں نے بھی نقل کیا ہے:
’’لما قتل عبيدُ الله الحسينَ وأهله بعث برؤوسهم إلي يزيد، فسُرَّ بقتلهم أولاً، ثم لم يلبث حتي ندم علي قتلهم، فكان يقول: وما عليَّ لو احتملتُ الأذي، وأنزلتُ الحسين معي، وحكَّمته فيما يريد، وإن كان عليَّ في ذلك وهن، حفظاً لرسول الله صلي الله عليه وسلم ورعاية لحقه، لعن الله ابن مرجانة يعني عبيد الله فإنه أحرجه واضطره، وقد كان سأل أن يخلي سبيله أن يرجع من حيث أقبل، أو يأتيني فيضع يده في يدي، أو يلحق بثغر من الثغور، فأبي ذلك عليه وقتله، فأبغضني بقتله المسلمون، وزرع لي في قلوبهم العداوة‘‘۔
جب عبید اللہ نے حسین اور ان کے اصحاب اور اہل کو قتل کر دیا اور اس نے سب کے سروں کو یزید کے لئے بھیج دیا ، تو پہلے تو وہ ان کے قتل پر بہت خوش ہوا ، پھر کچھ ہی دن گذرنے کے بعد ان کے قتل پر ندامت کا اظہار کرنے لگا؛ اور کہنے لگا: اللہ ابن مرجانہ یعنی عبید اللہ بن زیاد کو غارت کرے اسی نے حسین کا راستہ روکا اور انہیں مجبور کیا ، حالانکہ  انہوں نے کہا تھا کہ ان کا راستہ نہ روکے وہ جہاں سے آئے ہیں انہیں وہیں جانے دے، یا انہیں میرے پاس آنے دے تو وہ براہ راست مجھ سے ہاتھ ملا لیتے ، یا ان کو کسی دور دراز کے علاقہ میں جانے دے ، لیکن عبید اللہ نے ہر تجویز کو  ٹھکرا دیا اور انہیں قتل کر دیا، اس طرح اس نے حسین علیہ السلام  کے قتل کی وجہ سے  مسلمانوں کو میرے خلاف ناراض کیا اور ان کے دلوں میں میرے خلاف دشمنی کا بیج بو دیا۔

سير أعلام النبلاء، ج 3، ص 317 ـ البداية والنهاية، ج 8، ص 35 ـ الكامل في التاريخ، ج 4، ص 87.

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18