Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195481
Published : 26/9/2018 17:44

لوگوں کی مشکلات دور کرنے میں امام حسین(ع) کی سیرت

امام حسین(ع) نے فرمایا: نہیں !میں بھولہ نہیں ہوں بلکہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں حالت اعتکاف میں ہوں لیکن میں نے اپنے جد حضرت رسول خدا(ص) کو فرماتے سنا ہے کہ’’اگر کوئی شخص کسی مؤمن کی حاجت کو پورا کرے وہ ایسا ہے جس نے9 ہزار برس تک دن میں روزہ رکھا ہو اور راتوں کو عبادت میں گذارا ہو‘‘۔
ولایت پورٹل: حضرت امام حسین علیہ السلام اور ابن عباس بیت اللہ کا طواف کرنے میں مشغول تھے تو ایک شخص امام علیہ السلام کے قریب آیا اور عرض کیا:فرزند رسول(ص)! میں فلاں شخص کا مقروض ہوں اگر آپ کے پاس کچھ ہو تو میرا قرض ادا کردیجئے۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: رب کعبہ کی قسم! میرے پاس اس وقت کچھ بھی نہیں ہے۔
اس شخص نے عرض کیا: مولا اگر ہوسکے تو مجھے اس شخص سے کچھ مہلت دلوا دیجئے چونکہ اس نے مجھے قید میں ڈلوانے کی دھمکی دی ہے۔
چنانچہ امام  علیہ السلام نے اسی وقت اپنے طواف کو چھوڑا اور اس شخص کے ساتھ روانہ ہوگئے۔
ابن عباس  نے عرض کی:فرزند رسول! کیا آپ بھول گئے کہ آپ خانہ خدا کے اندر حالت اعتکاف میں ہیں؟
امام حسین(ع) نے فرمایا: نہیں !میں بھولہ نہیں ہوں بلکہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں حالت اعتکاف میں ہوں لیکن میں نے اپنے جد حضرت رسول خدا(ص) کو فرماتے سنا ہے کہ’’اگر کوئی شخص کسی مؤمن کی حاجت کو پورا کرے وہ ایسا ہے جس نے9 ہزار برس تک دن میں روزہ رکھا ہو اور راتوں کو عبادت میں گذارا ہو‘‘۔

منبع: عدۃ الداعی و نجاح الساعی،صفحه ۲۳۲





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18