Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195482
Published : 26/9/2018 18:55

عقیدہ تقیہ اور قرآن مجید

تقیہ در اصل ایک عقلی طریقۂ کار ہے اور ’’قاعدۂ اہم اور مہم ‘‘اس کی بنیاد ہے عقلاء عالم (چاہے وہ دیندار ہوں یا لامذہب)کی ہمیشہ سیرت یہ رہی ہے کہ جب بھی وہ اپنی جان،مال یا آبرو کے لئے کوئی خطرہ محسوس کرتے ہیں تو اس سے نجات پانے کے لئے اپنے مذہب اور عقیدہ کے بر خلاف اسی کے مذہب کے مطابق زبانی یا عملی اظہار کرتے ہیں جس کی طرف سے انھیں خطرہ در پیش ہوتا ہے اور اسی طرح تقیہ کے ذریعہ دشمن کے خطرہ کو اپنے سے دور کرتے ہیں اور آج بھی عالم بشریت میں یہی طریقہ کار جاری ہے کہ اگرجان و مال اور عزت و آبرو سے زیادہ اہم چیز کو خطرہ لا حق ہو جائے تو وہ اسے بچانے کے لئے جان اور مال سے دستبردار ہیں۔
ولایت پورٹل:(تقیہ کی تعریف):لغوی اعتبار سے تقیہ’’وقایہ‘‘سے ماخوذ ہے جسکے معنی:’’کسی چیز کو نقصان سے بچانا‘‘ہے جس طرح کہ تقوی کی اصل بھی یہی ہے ـــ،تقویٰ یعنی نفس کو محرمات الہٰیہ سے محفوظ رکھنا ، لہٰذا تقیہ کے معنی بھی یہی ہیں کہ جان، مال ، عزت و آبرو کو در پیش خطرہ سے بچانے کے لئے اپنے دین و عقیدہ کے بر خلاف یا دوسرے مذہب کے مطابق عقیدہ یاعمل کا اظہار کرنایہ تو ’’تقیہ کے لغوی اور عُرفی معنی تھے۔
لیکن شرعی اصطلاح میں تقیہ کا مطلب ہے حق کے بر خلاف کسی کے نظریہ، عقیدہ یا عمل کی موافقت کرنا تاکہ اس کی طرف سے در پیش خطرہ سے محفوظ رہا جاسکے۔(۱)
دوسرے الفاظ میں شرعی اعتبار سے تقیہ کے معنی یہ ہیں:’’کسی امر کا دین حق کے بر خلاف زبانی یا عملی طور پراظہار کرنا‘‘۔ تاکہ اس کے ذریعہ اپنی یا دوسروں کی جان، مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی جاسکے۔
عقل اور تقیہ:
تقیہ در اصل ایک عقلی طریقۂ کار ہے اور ’’قاعدۂ اہم اور مہم ‘‘اس کی بنیاد ہے عقلاء عالم (چاہے وہ دیندار ہوں یا لامذہب)کی ہمیشہ سیرت یہ رہی ہے کہ جب بھی وہ اپنی جان،مال یا آبرو کے لئے کوئی خطرہ محسوس کرتے ہیں تو اس سے نجات پانے کے لئے اپنے مذہب اور عقیدہ کے بر خلاف اسی کے مذہب کے مطابق زبانی یا عملی اظہار کرتے ہیں جس کی طرف سے انھیں خطرہ در پیش ہوتا ہے اور اسی طرح تقیہ کے ذریعہ دشمن کے خطرہ کو اپنے سے دور کرتے ہیں اور آج بھی عالم بشریت میں یہی طریقہ کار جاری ہے کہ اگرجان و مال اور عزت و آبرو سے زیادہ اہم چیز کو خطرہ لا حق ہو جائے تو وہ اسے بچانے کے لئے جان اور مال سے دستبردار ہیں۔
ممکن ہے کہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے در میان اہم اورمہم کے معیار و ملاک کے سلسلہ میں کچھ اختلاف نظر ضرور پایا جاتا ہو لیکن اصل تقیہ کے بارے میں عقلاء کے اتفاق نظر کے بعد اس طرح کے اختلاف سے تقیہ کے حکم پر کوئی اثر نہیں پڑتا البتہ بعض ایسے متعدد مصادیق ہیں جن کے بارے میں یکساں طور پر اتفاق نظرپایاجاتاہے جیسے تمام عقلاء امن عامہ کی اہمیت کے خصوصی طور پر قائل ہیں اور اس کے لئے اپنی جان اور مال بھی قربان کردیتے ہیں۔
قرآن اور تقیہ
قرآن مجید کی بعض آیات سے واضح طورپر معلوم ہوتاہے کہ تقیہ ایک شرعی قانون ہے۔
۱۔{ لاَیَتَّخِذْ الْمُؤْمِنُونَ الْکَافِرِینَ أَوْلِیَائَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِینَ وَمَنْ یَفْعَلْ ذَلِکَ فَلَیْسَ مِنْ ﷲِ فِی شَیْئٍ إِلاَّ أَنْ تَتَّقُوا مِنْہُمْ تُقَاۃً}۔(۲)
اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ مؤمنین کو ایک دوسرے کے ساتھ نصرت و محبت کا رابطہ رکھنا چاہئے نہ کہ ان کے ساتھ  عداوت و لا تعلقی کا، اور جو شخص بھی ایسا کرے گا خداوند عالم کے نزدیک اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے مگر یہ کہ کافروں سے خطرہ ہو اور تقیہ کے حالات پیدا ہو جائیں تو ایسی صورت میں کافروں سے نصرت ومودت کی اجازت ہے۔
مراغی نے اس آیت کی تقسیر میں یہ کہا ہے :علمائے اسلام نے اس آیت سے تقیہ کے جواب پر استدلال کیا ہے، یعنی اس نقصان سے بچنے کے لئے جو دشمن کی طرف سے اسکی جان ،مال یا عزت و آبرو کے لئے در پیش ہو۔انسان کوئی ایسی بات کہے یا کوئی ایسا کام کرے جو حق کے بر خلاف ہو (۳)
۲۔{مَنْ کَفَرَ بِاﷲِ مِنْ بَعْدِ إِیمَانِہِ إِلاَّ مَنْ أُکْرِہَ وَقَلْبُہُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِیمَانِ وَلَکِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْکُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْہِمْ غَضَبٌ مِنْ اﷲِ وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ}۔(۴)
’’اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد اپنے ارادہ و اختیار سے کافر ہو جائے تو وہ غضب الٰہی کا مستحق ہے مگر جن لوگوں پر زور زبردستی کی جائے اور ان کا دل ایمان سے سرشار ہو اور وہ اپنی جان کی حفاظت کے لئے کفر کا اظہار کریں تو ایسے لوگ غضب الٰہی سے محفوظ رہیں گے‘‘۔مذکوہ مفہوم، تقیہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔
اسلامی مفسرین(شیعہ اور سنی دونوں)نے یہ نقل کیا ہے کہ یہ آیت جناب عمار یاسر کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جب انہیں ان کے والد اور والدہ (یاسر،سمیہ)کے ساتھ مشرکوں نے سخت سزائیں دی تو جناب یاسر و سمیہ انھیں سختیوں کے باعث شہید ہوگئے اور جناب عمار نے زبان سے ایسی بات کہہ دی جو مشرکین کے مطالبہ کے مطابق تھی اس طرح وہ مشرکین کی سزاؤں سے نجات پاگئے اور انہوں نے اپنی جان بچالی،پھر انھیں اپنے اس عمل سے پشیمانی ہوئی آپ اشکبار پیغمبر اکرم(ص)کی خدمت میں پہنچے اور آنحضرت(ص) کو آپ نے ساری داستان سنائی ، پیغمبر اکرم(ص) نے ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر اس کے بعد بھی وہ تم سے ایسا مطالبہ کریں تو تم اسے پورا کردینا اسی وقت مذکورہ آیۂ کریمہ نازل ہوئی۔(۵)
۳۔{ وَقَالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ یَکْتُمُ إِیمَانَہُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ یَقُولَ رَبِّی اﷲُ}۔(۶)
مؤمن آل فرعون حضرت موسی(ع) پر ایمان لاچکے تھے اور آپ سے ان کا خفیہ رابطہ بھی تھا اور انہوں نے حضرت موسی(ع) کو اس سازش سے آگاہ کردیا تھا جو فرعونیوں نے ان کے قتل کے لئے کی تھی،چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوتاہے:{قَالَ یَامُوسَی إِنَّ الْمَلَأَ یَأْتَمِرُونَ بِکَ لِیَقْتُلُوکَ فَاخْرُجْ إِنِّی لَکَ مِنْ النَّاصِحِینَ}۔(۷)
’’انہوں نے کہا اے موسی قوم والے تمہیں قتل کرنے کی سازش کررہے ہیں لہٰذا میں تمہیں یہ نصیحت کررہا ہوں کہ یہاں سے چلے جاؤ‘‘۔
مگر وہ خود اپنے ایمان کو فرعونیوں سے چھپائے رہتے تھے جس کاصرف یہی طریقہ تھا کہ وہ حق کے بر خلاف اور فرعونیوں کے عقیدہ کے مطابق کام انجام دیا کرتے تھے،اور اسی طرح انہوں نے اپنی جان بھی بچارکھی تھی اور جناب موسی(ع) کو بھی فرعونیوں کے خطرات سے محفوظ رکھا اس طرح انہوں نے تقیہ کے قانون پر عمل کیا اور خداوند عالم نے بھی ان کے اس عمل کی تعریف کی ہے۔
۴۔مذکورہ آیتوں کے علاوہ مندرجہ ذیل آیات بھی تقیہ کے جائز یا واجب ہونے کی دلیل ہیں:
{وَلاَتُلْقُوا بِأَیْدِیکُمْ إِلَی التَّہْلُکَۃِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اﷲَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ}۔(۸)
{ولاَیُکَلِّفُ اﷲُ نَفْسًا إِلاَّ مَا آتَاہَا سَیَجْعَلُ اﷲُ بَعْدَ عُسْرٍ یُسْرًا}۔(۹)
{مَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّینِ مِنْ حَرَجٍ}۔(۱۰)
.........................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔التحفظ علی ضرر الغیر بموافقتہ فی قول او فعل مخالف للحق (شیخ انصاری رسالہ تقیہ)۔(اظہار خلاف الواقع قی الامور الدینیہ بقول اوفعل خوفاً و حذر اعلی النفس او المال او العرض المعبر عنہ فی ہذا الزمان بالشرف علی نفسہ او علی غیرہ‘‘ ،نقض الوشیعہ مولفہ محسن امین عاملی ص ۱۸۱)۔
۲۔آل عمران/۲۸
۳۔تفسیر مراغی ۳؍۱۳۶   
۴۔ نحل/ ۱۰۶
۵۔مجمع البیان ۳/۳۸۸،تفسیر کشاف ۲/۳۰،تفسیر ابن کثیر۴؍۲۲۸
۶۔مومن / ۲۸
۷۔قصص /۲۰       
۸۔ بقرہ /۱۹۵
۹۔طلاق/۷   
۱۰۔حج/ ۷۸



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18