Wed - 2019 January 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195495
Published : 27/9/2018 16:46

شبہ کا جواب:

پیغمبر اکرم(ص) نے کیوں کچھ یہودیوں کو بندر کہا؟کیا یہ توہین نہیں ہے؟

مذکورہ بالا دونوں آیات کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اللہ کے رسول(ص) نے بلا وجہ اپنے کسی یہودی پڑوسی کو بندر وغیرہ نہیں کہا بلکہ جس طرح قرآن مجید نے کچھ سرکش و نافرمان یہودیوں کو بندر کہا اور مسخ کیا اسی طرح اللہ کے رسول نے بھی صرف انہیں یہودیوں کو بندر کہا کہ جو سرکش تھے اور حدود خدا کا لحاظ نہیں کرتے تھے۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام! بعض روایات میں ملتا ہے کہ سرکار ختمی مرتبت(ص) نے بعض یہودیوں کو ’’بندر‘‘ کہہ کر خطاب کیا ہے۔ اب جبکہ ہم مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ کا رسول(ص) خُلق عظیم کے مرتبہ پر فائز ہے تو وہ کیسے کسی کی توہین و تحقیر کرسکتا ہے چاہے سامنے والا یہودی ہی کیوں نہ ہو؟
اس شبہہ کے جواب میں اس امر پر توجہ ضروری ہے کہ یہودیوں کو ’’بندر‘‘ سب سے پہلے خود اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں کہا ہے چونکہ جب کچھ یہودیوں نے اللہ کے فرمان اور حکم کی خلاف ورزی کی تو اللہ نے انہیں عبرت کے واسطے بندر بنا دیا جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے :’’ وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِینَ اعْتَدَوْا مِنْکُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنا لَهُمْ کُونُوا قِرَدَةً خاسِئِینَ‘‘۔(سورہ بقرہ:65)
ترجمہ:اور بتحقیق تم ان لوگوں کو جانتے ہو جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے دن کے بارے میں تجاوز کیا لہذا ہم نے ان سے کہا کہ دھتکارے ہوئے بندر ہوجاؤ۔
اور اسی طرح سورہ مائدہ کی آیت:60 میں ارشاد ہوتا ہے:’’ قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُم بِشَرٍّ مِّن ذَٰلِكَ مَثُوبَةً عِندَ اللَّـهِ ، مَن لَّعَنَهُ اللَّـهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ ، أُولَـٰئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَأَضَلُّ عَن سَوَاءِ السَّبِيلِ‘‘۔(مائدہ:60)
ترجمہ: اے میرے رسول کہدیجئے! کیا میں بتاؤں؟ کہ اللہ کے نزدیک انجام کے اعتبار سے زیادہ بُرا کون ہے؟ وہ ہے جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر وہ غضبناک ہے۔ اور جس میں سے اس نے بعض کو بندر اور بعض کو سور بنایا ہے اور جس نے شیطان (معبود باطل) کی عبادت کی ہو یہی وہ لوگ ہیں جوکہ درجہ کے لحاظ سے بدترین ہیں اور راہِ راست سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔
لہذا مذکورہ بالا دونوں آیات کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اللہ کے رسول(ص) نے بلا وجہ اپنے کسی یہودی پڑوسی کو بندر وغیرہ نہیں کہا بلکہ جس طرح قرآن مجید نے کچھ سرکش و نافرمان یہودیوں کو بندر کہا اور مسخ کیا اسی طرح اللہ کے رسول نے بھی صرف انہیں یہودیوں کو بندر کہا کہ جو سرکش تھے اور حدود خدا کا لحاظ نہیں کرتے تھے۔

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2019 January 16