Monday - 2019 January 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195496
Published : 28/9/2018 16:50

شعر گوئی آئمہ(ع) کے زمانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ابلاغ (1)

آئمہ طاہرین(ع) کی توجہ شعراء کی طرف بہت زیادہ تھی چونکہ شاعر کا فن یہ ہے کہ اگر وہ محاذ حق پر ہو تو وہ بہترین مبلغ بن سکتا ہے اور معاشرے کی اصلاح کرسکتا ہے لیکن اگر باطل کے پرچم تلے رہے تو بہت سے افراد کو حق سے منحرف کرسکتا ہے۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام! شعرگوئی قدیم زمانے سے ہی ایک ایسا فن رہا ہے کہ جس کا اثر لوگوں کے احساسات،عواطف پر بہت جلد ہوتا ہے۔اب یہ شاعر کا اپنا ذوق،شوق ہے کہ اپنے شعر کے ذریعہ لوگوں کے سامنے توحید کے مراتب،مکارم اخلاق کی منظر کشی،جہاد و عبادت،پاکدامنی،اور محمد و آل محمد(ع) اور دیگر اولیائے الہی کی مدح ثرائی کرے (یاد رکھئے کہ اسلام میں  اس طرح کے شعر کہنے سے منع نہیں کیا گیا ہے بلکہ خود آئمہ اہل بیت(ع) بھی اس طرح کے شعر انشاء فرماتے تھے اور جو اس طرح کے دیگر شعراء تھے انہیں ان ذوات مقدسہ کی طرف سے انعامات و تحائف سے بھی نوازا جاتا تھا۔
لیکن اگر شعر گوئی میں مذکورہ عناصر نہ ہوں بلکہ اس میں خیال پردازی،حق و حقیقت سے خالی منظر،عورتوں کی تعریف،نا مناسب لوگوں کی مدح،بیہودہ فخر فروشیاں،ہجو،کسی کی توہین اور تحقیر پر مشتمل اشعار کسی صورت اسلام میں جائز نہیں ہیں اور قرآن مجید نے ان سے منع فرمایا ہے،چنانچہ اس آئیہ کریمہ:’’ وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ‘‘۔(اور جو شعراء ہیں ان کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں۔(سورہ الشعراء:۲۲۴) میں ایسے ہی شعراء مراد ہیں۔ اور اسی سورہ مبارکہ کی اگلی آیت میں:’’ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ‘‘۔(سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے۔(سورہ الشعراء:۲۲۷) بایمان شعراء اور پہلے گروہ کا تذکرہ ہوا ہے۔یعنی ایسے شعراء جو اپنے اشعار اور اپنے افکار سے دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں اور انہیں فکر و عمل کی دعوت دیتے ہیں۔
زمانہ آئمہ(ع) کا مؤثر ذریعہ ابلاغ
آئمہ طاہرین(ع) کی توجہ شعراء کی طرف بہت زیادہ تھی چونکہ شاعر کا فن یہ ہے کہ اگر وہ محاذ حق پر ہو تو وہ بہترین مبلغ بن سکتا ہے اور معاشرے کی اصلاح کرسکتا ہے لیکن اگر باطل کے پرچم تلے رہے تو بہت سے افراد کو حق سے منحرف کرسکتا ہے۔
جیسا کہ ہم آج اپنے اس ترقی یافتہ دور میں بہت سے ذرائع ابلاغ رکھتے ہیں جن میں اخبار،میگزینس،ٹی وی چینلس وغیرہ،قدیم زمانہ میں لوگوں کی توجہات مبذول کرنے کے لئے دو اہم اسٹیج اور پلیٹ فارم تھے کہ جن کے ذریعہ لوگوں میں کسی فکر کو پیش کیا جاتا تھا اور خاص طور پر جس طرح آج کے زمانہ میں برسر اقتدار پارٹی اور حزب اپنی سیاست کو ٹی وی چنلس کے ذریعہ انہیں خرید کر پیش کرتی ہے اسی طرح اس زمانے میں بھی حکومتیں اپنی سیاست اور پالیسیز کو لوگوں تک پہونچانے کے لئے ان دو اہم  ذرائع کا سہارا لیا کرتی تھیں۔یعنی شعراء اور خطباء۔
یہی وجہ تھی طلوع اسلام سے پہلے سے لیکر جدید ذرائع ابلاغ کے رائج ہونے تک یہ دونوں پلیٹ فارم خاص اہمیت کے حامل رہے ہیں اور ہر دربار میں کچھ شعراء اور خطباء ہوا کرتے تھے جن میں مسلمان خلفاء اور امراء بھی اپنے پہلے والوں سے کچھ کم نہ تھے چنانچہ تاریخ سے شغف رکھنے والے افراد جانتے ہیں کہ بنی امیہ اور بنی عباس نے اپنے دربار میں کتنے بڑے بڑے شعراء اور خطیبوں کو رکھا ہوا تھا۔
رہبر انقلاب حضرت آیت اللہ خامنہ ای کتاب’’العباسیون الاوائل‘‘ سے نقل کرتے ہوئے شعر گوئی اور شاعری کی تاثیر کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:شاعری دلوں میں اثر کرتی تھی اور لوگوں کے رجحان اور رغبتوں کا رخ کسی ایک طرف موڑ دیتی تھی ،اس زمانے میں شعراء اور خطباء آج کے زمانے کے اخبار کی طرح تھے کہ ان میں سے ہر ایک، ایک خاص سیاسی پالیسی کو پیش کرتا تھا اور پھر اس کے دفاع میں بڑی شستہ و رُفتہ زبان میں اس کی حقانیت پر اپنے اشعار کے ذریعہ دلائل پیش کرتا تھا اور اپنے دیگر رقیبوں کے دلائل کو کاٹتا تھا۔(1)
آئمہ(ع) کے منظور نظر شعراء
اہل بیت اطہار(ع) کے زمانے کے شعراء بھی دیگر ادوار کی طرح متعدد افکار اور نظریات کے مالک تھے ہم اگر تاریخ کا مطالعہ کریں تو بہت سے شاعر اہل بیت(ع) کی مورد تائید تھے چنانچہ محمد علی موحدی بیان کرتے ہیں کہ کچھ شعراء سے آئمہ(ع) کہا کرتے تھے کہ وہ کوئی شعر کہے جیسا کہ امام سجاد علیہ السلام بشیر یا بشر نامی شاعر سے ہمیشہ یہ فرمائش کرتےتھے کہ وہ کوئی شعر کہے،اور کبھی کبھی آئمہ(ع) کی سیرت میں یہ بھی دکھنے کو ملتا ہے کہ آپ نے صرف دو شعر کہنے کے عوض گرانقدر تحفے دیئے ہیں جیسا کہ خود فرزدق کے بار میں ملتا ہے کہ جب ہشام کے سامنے اس نے امام سجاد(ع) کی شان میں اپنا 35 بند کا معروف قصیدہ میمیہ کہا تو اس کے بعد بنی امیہ کے دربار سے معتوب قرار پائے اور انہیں قید کردیا گیا جب یہ خبر امام سجاد علیہ السلام کو پہونچی تو آپ نے اس کے 40 برس کا خرچ دیا،اگرچہ فرزدق نے قبول کرنے سے منع کیا اور کہا فرزند رسول! میں نے ہمیشہ دربار میں رہ کر حاکموں کے لئے قصیدہ گوئی کی ہے یہ پہلی بار ہے کہ میں نے حق و حقیقت کے لئے اشعار کہے ،میں نے انعام و اکرام کے لئے یہ قصیدہ نہیں کہا بلکہ اللہ کے لئے کہا تھا۔آپ نے پیغام بھجوایا کہ تمہاری نیت کا ثواب اللہ کے یہاں محفوظ ہے۔(2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔ذبیح الله صاحبكار، سیری در مرثیه عاشورای، تهران انتشارات تاسوعا، چاپ اول، 1379، ص 55.
2۔عبد الحسین شبستری، مشاهیر شعراء الشیعه، ج2، قم، مكتبه الادبیه المغتصه، چاپ اول 1421 هـ ، ص 133.


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2019 January 21