Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195497
Published : 27/9/2018 19:19

امام حسین(ع) نے دین خدا کے تحفظ کے لئے کسی کوشش سے دریغ نہیں کیا:رہبر انقلاب

امام حسین(ع) کے اس اقدام نے اسلام کو حیات دوام بخشی، یہی اقدام معاشرہ میں اقدار کی پائیداری کا موجب ہوا اور باقی رہ سکا۔ اگر امام حسین علیہ السلام یہ خطرہ مول نہ لیتے، اقدام نہ کرتے اور ان کا خون نہ بہا ہوتا، تو یہ واقعہ تاریخ میں باقی نہ رہ پاتا۔

ولایت پورٹل: یہ تحفظ کا لفظ اور معنی اپنے تمامتر پہلوؤں کے ساتھ، سبھی ممکنہ وسائل و ذرائع کے ہمراہ حضرت سید الشہداء علیہ السلام کے وجود مقدس میں مجسم طور پرپایا جاتا ہے، ایسا نہیں ہے کہ دوسروں نے کوشش نہیں کی یا نہیں کرپائے، بلکہ اس پاسداری و تحفظ کے معنی نے تو حضرت سید الشہداء علیہ السلام کی امامت کے دس سالہ دور میں آپ کے طرز عمل اور سلوک میں گھر کرلیا تھا۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے نانا، بابا اور اسلاف کی عظیم میراث اور ان کے مقدس دین کی حفاظت ونگہداشت کے لئے ہر وہ راہ کہ جس کا تصور کیا جاسکتا ہے اسے آپ نے اپنایا، بیانات و ارشادات، تنبیہ، یاددہانی، تبلیغی طریقۂ کار، خاص عناصر کو بیدار کرنے اور ان میں حساسیت کو اجاگر کرنے اور خواص کو منیٰ میں دیئے جانے والے خطبے اورفرمودات و ارشادات سبھی امام حسین علیہ السلام کی زندگی کا حصہ ہیں، اس کے بعد اپنی جان کے ذریعہ ایک بڑے انحراف سے لڑائی لڑنے کے لئے مجاہدت اور اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا، ایسا نہیں تھا کہ امام عالی مقام کو اس اقدام کے انجام و نتیجہ کا پتہ نہیں تھا کہ امام(ع) کی معرفت و علم و آگاہی کی میزان اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے جو ہمارے ذہنوں کے تنگ خانے میں سمائے۔ بلکہ وہ ایک دستور حیات کی ترسیم و تجسیم کی حیثیت سے ڈٹ جاتے ہیں، سرنہیں جھکاتے ہیں۔
البتہ لوگوں سے مدد کی درخواست کرتے ہیں اور جب کچھ لوگ مل جاتے ہیں جو وہی اہالیان کوفہ ہوتے ہیں اور یہ اعلان کرتے ہیں کہ اس راہ میں امام علیہ السلام کا ساتھ دینے کو تیار رہیں تو حضرت(ع) ان کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے ان کے درمیان جاتے ہیں تاہم آدھے راستہ میں جاکر پچھتاوا نہیں کرتے ہیں۔ اگر حضرت کے کلام کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ حضرت اس کام کو سرانجام تک پہنچانے کا پختہ ارادہ کرچکے تھے۔ یہ کہ حضرت(ع) اس وقت کے بہت ہی خطرناک انحراف سے مقابلہ کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اپنی جگہ پر ایک سبق ہے کہ جس کو حضرت(ع) نے خود ہی بیان بھی کیا ہے یعنی آپ(ع) نے اپنے اقدام اور کام کو احکام اسلامی سے مستند و مرتبط کردیا۔
’’اِنَّ رَسُولَ اللہُ  قَالَ: مَنْ رَأَیٰ سُلْطَاناً جَائِراً مُسْتَحِلاًّ لِحُرُمَاتِ اللہِ  نَاکِثًا لِعَھْدِ اللہِ  مُخَالِفًا لِسُنَّۃِ رَسُولِ اللہِ  یَعْمَلُ فِی عِبَادِاللہِ  بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ فَلَمْ یُغَیِّرْ عَلَیْہِ بِفِعْلٍ وَلَاقَوْلٍ کَانَ حَقّاً عَلَی اللہِ  اَنْ یُدْخِلَہٗ مَدْخَلَہٗ‘‘۔
حضرت(ع) نے بیان فرمایا یعنی میرا فریضہ یہ ہے کہ میں جو کام کررہا ہوں، میرے لئے مخالفت کا اعلان ضروری ہے، مجھے مخالفت و استقامت کے راستہ پر گامزن ہونا ہی پڑے گا، اب اس راہ میں جو بھی ہونا ہے ہوجائے، اگر مقدر میں کامیابی لکھی ہے تو بہت ہی اچھا ہے لیکن اگر شہادت لکھی ہے تو بھی بہت اچھا ہے، یعنی اس طرح سے امام حسین علیہ السلام نے قیام کا آغاز کردیا۔
اس کو کہتے ہیں مکمل ایثار کہ جس کی وجہ سے اسلام کی حفاظت عمل میں آئی۔ اسی اقدام نے اسلام کو حیات دوام بخشی، یہی اقدام معاشرہ میں اقدار کی پائیداری کا موجب ہوا اور باقی رہ سکا۔ اگر امام حسین علیہ السلام یہ خطرہ مول نہ لیتے، اقدام نہ کرتے اور ان کا خون نہ بہا ہوتا، بعد شہادت،پیغمبر اکرم(ص) اور آپ کے اہل بیت(ع) کرام اور امیرالمؤمنین(ع)کی بیٹی جناب زینب(س) اور خاندان نبوی کے بچوں کے خلاف اس طرح کے جرائم پر مبنی واقعات رونما نہ ہوتے تو یہ واقعہ تاریخ میں باقی نہ رہ پاتا۔ یہ واقعہ جو کہ اس عظیم انحراف کی روک تھام کرسکتا تھا، اس عظیم انحراف کی مانند ایسے ہی معاشرے کو تاریخ میں باقی رہ کر ذہنوں کو کچوکے لگاتے ہوئے جھنجھوڑنے کا کام کرنا چاہیے تھا اور اس نے ایسا کرکے بھی دکھادیا۔ یہ ہے امام حسین علیہ السلام کی فدا کاری۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18