Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195511
Published : 29/9/2018 16:49

شعر گوئی آئمہ(ع) کے زمانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ابلاغ (2)

ادبیات عرب کے ایک معروف محقق جناب کاشانی شعر کی زبان کو مخاطبین کے قانع اور مطمئن کرنے کے لئے بہت اہم مانتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ بہت سا مطلب اور مفہوم ایسا ہوتا ہے کہ اسے عادی زبان میں بیان نہیں کیا جاسکتا چنانچہ امیرالمؤمنین(ع) کے خطبات میں بھی ہمیں جا بجا ملتا ہے کہ جب بحث اور گفتگو اپنے اوج پر ہوتی تھی تو حضرت کوئی ایک شعر درمیان میں پڑھتے تھے۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے اپنے گذشتہ کالم میں یہ عرض کیا تھا کہ شعرگوئی قدیم زمانے سے ہی ایک ایسا فن رہا ہے کہ جس کا اثر لوگوں کے احساسات،عواطف پر بہت جلد ہوتا ہے۔اب یہ شاعر کا اپنا ذوق،شوق ہے کہ اپنے شعر کے ذریعہ لوگوں کے سامنے توحید کے مراتب،مکارم اخلاق کی منظر کشی،جہاد و عبادت،پاکدامنی،اور محمد و آل محمد(ع) اور دیگر اولیائے الہی کی مدح ثرائی کرے  یا خیال پردازی کرے لیکن یہ امر مسلم ہے کہ آئمہ طاہرین(ع) کی توجہ شعراء کی طرف بہت زیادہ تھی چونکہ شاعر کا فن یہ ہے کہ اگر وہ محاذ حق پر ہو تو وہ بہترین مبلغ بن سکتا ہے اور معاشرے کی اصلاح کرسکتا ہے لیکن اگر باطل کے پرچم تلے رہے تو بہت سے افراد کو حق سے منحرف کرسکتا ہے۔قارئین ہمارے کل کے کالم کو پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
شعر گوئی آئمہ(ع) کے زمانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ابلاغ (1)
گذشتہ سے پیوستہ:
دعبل خزاعی کی امام رضا(ع) سے ملاقات
کبھی کبھی دیکھنے میں آیا ہے کہ خود آئمہ(ع) نے شعراء کو مادی تحائف کے ساتھ ساتھ معنوی تحفوں سے بھی نوازا ہے جیسا کہ امام رضا(ع) نے دعبل خزاعی کو اپنے دوش مبارک سے اتار کر عبا عنایت فرمائی،اور کبھی یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ خود آئمہ(ع) کے سامنے جب کوئی شاعر اپنا کلام پیش کررہا ہوتا تھا تو آپ ایک یا چند اشعار اس کلام میں اضافہ کردیتے تھے جیسا کہ خود دعبل کے بارے میں ملتا ہے:دعبل شہر مرو میں امام علی رضا(ع) کی خدمت میں شرفیاب ہوئے اور عرض کیا: فرزند رسول! میں نے آپ کی شان میں ایک قصیدہ کہا ہے اور یہ قسم کھائی ہے کہ میں اسے سب سے پہلے آپ ہی کی بارگاہ میں پیش کروں آپ نے فرمایا: دعبل سناؤ تم نے کیا کہا ہے۔غرض دعبل نے حضرت کی بارگاہ میں وہ قصیدہ پڑھا امام نے ان کے لئے دعا فرمائی اور پھر فرمایا: دعبل! اگر تمہارے اس قصیدہ میں یہ دو شعر اور ہوتے تو یہ قصیدہ کامل ہوجاتا،دعبل نے عاجزانہ گذارش کی ، فرزند رسول! آپ صاحب اختیار ہیں۔اور پھر آپ نے وہ دو اشعار دعبل کے قصیدہ میں اضافہ فرمادئیے۔(1)
ایسا شعر جسے سن کر امام بیتاب ہوکر رونے لگے
امام جعفر صادق(ع) کے ایک صحابی جناب ابو ہارون مکفوف بیان کرتے ہیں:میں امام صادق(ع) کی خدمت میں شرفیاب ہوا فرمایا:ہارون میرے لئے میرے جد حسین(ع) کا مرثیہ پڑھو! چنانچہ میں نے مرثیہ پڑھنا شروع کیا فرمایا:’’ لا، كَما تَنْشِدُونَ وَ كَما تَرْثِیهِ عِنْدَ قَبْرِهِ‘‘۔ہارون میں ایسے مرثیہ سننا نہیں چاہتا بلکہ ایسا مرثیہ پڑھو جیسے تم قبر امام حسین(ع) پہ کھڑے ہوکر مرثیہ پڑھ رہے ہو اور پھر میں نے پڑھا:
                                                                     أُمْرُرُ عَلى جَدَثِ الْحُسَیْنِ                                                              فَقُلْ لَأَعْظُمِهِ الزَّكِیَّةِ(2)
قبر حسین(ع) سے گذرو تو اور آپ کی پاک ہڈیوں پر سلام و درود بھیجو
میں نے دیکھا امام صادق(ع) گریہ فرما رہے ہیں ،میں خاموش ہوگیا آپ نے فرمایا: ابو ہارون اپنے مرثیہ کو جاری رکھو لہذا میں حضرت کی خدمت میں مرثیہ پڑھتا رہا۔(3)
یہاں تک کہ میں اس شعر پر پہونچا:
                                                                   یا مَرْیَمُ قُومی وَانْدُبِی مَوْلاكِ                                                         وَ عَلَى الْحُسَینِ فَاسْعَدی بِبُكاكِ (4)
اے مریم! اٹھو اور اپنے مولا کے اوپر بین کرو،اور امام حسین(ع) پر گریہ کرنے کے سبب کامیابی و کامرانی طلب کرو۔
ابو ہارون مکفوف کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا حضرت زار و قطار رو رہے ہیں اور گھر کے اندر سے مخدرات عصمت کے شیون و فریاد کی صدائیں بلند ہورہی ہیں ۔جب سب خاموش ہوگئے  حضرت نے فرمایا۔(5)’’ یا أَبا هارُونَ مَنْ أَنْشَدَ فِى الْحُسَیْنِ فَأَبْكى عَشْرَةً فَلَهُ الْجَنَّةُ‘‘ ابو ہارون جو شخص امام حسین علیہ السلام پر مرثیہ پڑھے اور دس لوگوں کو رُلائے اس کی جزا بہشت ہے۔(6)
وحی کے مانند اشعار
علوم اسلامی کے مایہ ناز محقق علی موحدی آئمہ طاہرین(ع) کے یہاں بعض شعراء کے مرتبہ کے بارے میں رقمطراز ہیں:کبھی کبھی آئمہ معصومین(ع) بڑے ہی با عظمت الفاظ کے ساتھ شعراء کی تائید و تکریم فرماتے تھے،جیسا کہ دعبل خزاعی کے بارے میں ملتا ہے کہ جب انہوں نے اپنا وہ مشہور قصیدہ امام رضا(ع) کی بارگاہ میں پڑھا تو آپ نے فرمایا: دعبل ان اشعار کو روح القدس نے تمہاری زبان پر جاری کیا ہے یعنی امام رضا(ع) نے دعبل کے اشعار کو وحی کے مانند قرار دیا۔
خود اسی طرح کی تعبیر ہمیں رسول اکرم(ص) سے حسان بن ثابت کے لئے بھی ملتی ہے کہ جب حسان ایمان لے آئے اور اسلام اور رسول خدا(ص) کی زحمات کے سلسلہ سے اشعار کہے تو آپ نے فرمایا: جب تک تم اپنے اشعار کے ذریعہ ہماری حمایت کرتے رہو گے تم پر روح القدس سایہ فگن رہیں گے‘‘ لہذا حدیث غدیر کو سب سے پہلے فی البدیع حسان نے ہی نظم کے قالب میں ڈھالا تھا۔(7)
اسی طرح کُمیت بن زید اسدی کہ جو ایک توانا خطیب اور شجاع شہسوار تھے جب انہوں نے اہل بیت (ع) کی شان میں قصیدے کہے  آئمہ(ع) کی ان پر خاص نظر تھی،چنانچہ وہ بیان کرتے ہیں:’’جب میں امام باقر علیہ السلام کی خدمت میں نے حاضر ہوکر اپنا معروف قصیدہ پڑھا’’ من لقلب متیّم مستهام غیر ما صبوهٍ و لا احلام‘‘ کون پُر آشفتہ اور بے قرار دل کی فریاد کو سنتا ہے کہ جسے نہ کسی چیز کی خواہش ہے اور نہ کسی چیز کی تمنا؟۔تو امام باقر(ع) نے ارشاد فرمایا:’’تمہارے لئے ہم وہی  کہیں گے جو حسان بن ثابت کے لئے ہمارے جد رسول اللہ(ص) نے فرمایا تھا:’’ لَنْ یَزالَ مَعَكَ رُوحُ القُدُسِ ما ذَبَیْتَ عنّا‘‘ ہمشہ روح القدس تمہارے ساتھ رہے جب تک تم ہمارا دفاع کررہے ہو۔(8)
شعر مخاطب کو قانع کرنے کا بہترین ذریعہ
ادبیات عرب کے ایک معروف محقق جناب کاشانی شعر کی زبان کو مخاطبین کے قانع اور مطمئن کرنے کے لئے بہت اہم مانتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ بہت سا مطلب اور مفہوم ایسا ہوتا ہے کہ اسے عادی زبان میں بیان نہیں کیا جاسکتا چنانچہ امیرالمؤمنین(ع) کے خطبات میں بھی ہمیں جا بجا ملتا ہے کہ جب بحث اور گفتگو اپنے اوج پر ہوتی تھی تو حضرت کوئی ایک شعر درمیان میں پڑھتے تھے۔
خلاصہ گفتگو یہ ہے کہ اپنے زمانے کے شعراء سے آئمہ(ع) کا رویہ ہمارے لئے درس اور سبق ہے کہ آپ کی بارگاہ سے وہ کیسے ہدایا اور تحائف حاصل کرتے تھے ہمیں بھی اپنے معاشرے میں ہر اس حلال اور جائز طریقہ کار اور اس سے متعلق لوگوں کو سراہانا چاہیئے جو اسلام کی تبلیغ،تفسیر،اور اسلامی اقدار کے تحفظ میں اثر گذار  ہوسکتے ہیں اہل بیت اطہار(ع) سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہر زمانے میں مخلص اور متدین آرٹسٹ،فنکار،شعراء،خطباء کو عزت دیں اور انہیں سراہائیں،تاکہ اسلام کی عزت کی آواز کو بشریت کے کانوں تک ماہرانہ انداز میں پہونچایا جاسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات
1۔ شیخ جواد قیومی، صحیفه الرضا، چاپ اول، قم، دفتر انتشارات اسلامی 1373هـ ،ص 75۔
2۔عاشورا ریشه ها، انگیزه ها، رویدادها، پیامدها ؛ ص53۔
3۔سابق حوالہ۔
4۔سابق حوالہ۔
5۔سابق حوالہ۔
6۔ بحارالانوار، ج 44، ص 287۔
7۔عبد الحسین شبستری مشاهیر شعراء شبعه، ج1، چاپ، 1، قم مكتبه الادیبه المختصه، 1421، ص 338۔
8۔سفینة البحار، ج 2، صفحه 4954،پیام قرآن ؛ ج 9 ؛ ص125۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18