Wed - 2019 January 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195512
Published : 29/9/2018 19:2

شفاعت کے متعلق ایک نادرست تصورکا ازالہ

خداوند عالم کی رحمت کا تقاضہ ہے کہ اس کا لطف اس کے بندوں کے شامل حال ہوجائے ،چونکہ اس کی رحمت تقاضہ کرتی ہے اسی لئے وہ کچھ سفارش کرنے والے اور شفاعت کرنے والوں کو اپنی جانب سے معین کرتا ہے تاکہ وہ فلاں شخص اور بندے کی میری بارگاہ میں شفاعت کریں،نیز شفاعت کرنے والے اللہ کے ارادے کے پابند ہوتے۔
ولایت پورٹل: شہید مطہری(رح) رقمطراز ہیں:بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ آخرت اور قیامت میں اللہ کے یہاں شفاعت کا معاملہ بھی بالکل دنیا کی طرح ہے یعنی جس طرح دنیا میں شفاعت و سفارش کرنے والے جب کسی کے یہاں کسی شخص کی شفاعت اور سفارش کرتا ہے تو مشفوع عندہ(جس سے شفاعت یا سفارش ہورہی ہے) اسے کوئی خاص دلچشپی نہیں ہوتی کہ وہ اپنے کسی ماتحت سے کہے کہ تم میرے یہاں فلاں کے شفیع بن جاؤ۔
بلکہ خود شفاعت کرنے والا اپنے مافوق کے پاس جاتا ہے تاکہ فلاں شخص کے بارے میں وہ اپنا نظریہ اور اپنی رائے سے منصرف ہوجائے  اور اس کے لئے فلاں کام کردے تاکہ اس کا بھلا ہوجائے۔
جبکہ ایسا تصور خدا کے لئے ممکن نہیں ہے بلکہ خداوند عالم کی رحمت کا تقاضہ ہے کہ اس کا لطف اس کے بندوں کے شامل حال ہوجائے ،چونکہ اس کی رحمت تقاضہ کرتی ہے اسی لئے وہ کچھ سفارش کرنے والے اور شفاعت کرنے والوں کو اپنی جانب سے معین کرتا ہے تاکہ وہ فلاں شخص اور بندے کی میری بارگاہ میں شفاعت کریں،یعنی اٹھو اور فلاں کی سفارش و شفاعت کرو،شفاعت کرنے والے اللہ کے ارادے کے پابند ہیں، اس کی مرضی و منشا کے مطابق عمل کرتے ہیں ایسا نہیں ہے کہ اللہ شفاعت کرنے والوں کی مرضی کا تابع ہو۔

منبع:شہید مطہری،آشنایی با قرآن، ج11، ص 199



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2019 January 16