Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195513
Published : 29/9/2018 17:58

نشہ ایک لعنت

ہر وہ چیز جو انسانی جسم میں نشہ پیدا کرتی ہے یعنی مدہوشی پیدا کرتی ہےاور ذہین کو ماوف کرتی ہے،اسلام میں حرام قرار دی گئی ہے۔
ولایت پورٹل: اسلام عین فطرت ہے،جس نےانسان کو احسن تقویم پر پیدا کیا،اور انسانی جان کو محترم ٹھرایا۔اس کو حلال اور حرام چیزوں کی معلومات دی، اور کہا "حلال و حرام کی جو قیود تم پر عائد کی گئی ان کی پابندی کرو۔ جیسے مردار، خون، سور کا گوشت، ایسا ذبیحہ جو غیر اللّٰہ کے نام سے کیا گیا ہو۔ اور نشہ بھی حرام کیا گیا۔چنانچہ اللّہ کے رسول(ص) نے فرمایا:’’اللّہ کی لعنت ہے شراب پینے والے، پلانے والے، بیچنے والے، بنانےے والے، اور اس پر مزدوری کرنے والے پر۔
ہر وہ چیز جو انسانی جسم میں نشہ پیدا کرتی ہے یعنی مدہوشی پیدا کرتی ہےاور ذہین کو ماؤف کرتی ہے، حرام قرار دی گئی ہیں۔
آج کل نوجوان نشہ  کئی طریقوں سے کررہے ہیں:سگریٹ ، الکحل، ڈرگس،  آیوڈکس، گٹکا، نشہ آور دوائیں وغیرہ۔
کچھ چیزیں پی جاتی ہے،کچھ دھویں کی شکل میں لی جاتی ہیں، اور کچھ زبان کے نیچے داڑھوں میں رکھی جاتی ہے،انڈین گورنمنٹ کا سروے ہے کہ منسٹری آف ہیلتھ کی رپورٹ کے مطابق 7۔ 5  کڑور لوگ منشیات کے عادی ہے۔ جس میں 90فیصد بچے فٹ پاتھ پر رہنے والے ہیں۔
نشہ کی لت۔ ۔ ۔ ایسے بچے اور نوجوان جن کو غلط دوستوں کی صحبت میسر آتی ہے جونشے کے عادی ہوتے ہیں ان کے ساتھ رہ کر وہ بھی نشہ کرنے لگ جاتے ہیں۔ والد نشے کے عادی ہوتے اور نشے والی چیزیں اپنے بچوں کے ذریعے منگواتے ہیں۔ اور ایسے گھر جہاں ماحول کشیدہ رہتا ہے اور ہمیشہ لڑائی جھگڑے ہوتےرہتےہیں، اور جھگی جھونپڑیوں میں رہنے والے بچوں میں نشے کی لت ہوتی ہے۔ اسکے علاوہ وہ طبقہ جوپڑھا لکھا اور ہر طرح کی سہولیات رکھتا ہے۔ لیکن اپنا اسٹینڈرڈ، مغربی طرز زندگی مغربی کلچر کو سمجھتا ہے۔ اور ان کی نقالی میں اہم فنگشن اور پارٹیوں میں نشہ کرنا ضروری سمجھتا ہے۔
نشہ کے اثرات
صحت کی بربادی کا دوسرا نام نشہ ہے۔ ایک ایسا زہر ہے جو جسم اور ذہین دونوں کو تباہ کردیتا ہے۔ پہلے گھبراہٹ، بےچینی، غصہ وغیرہ آتا ہے، آہستہ آہستہ ذہنی اور جسمانی تھکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور پھر بیماریاں جنم لینے لگتی ہیں، پھپڑے، گردے، جگر، خراب ہونے لگتے ہیں، جسم کے مختلف حصوں میں کینسر کے جراثیم پنپنے لگتے ہے۔ مختصراً نشہ زندگی کا خاتمہ کر دیتا ہے،ہر انسان کا تعلق صرف اپنی ذات تک  محدود نہیں رہتا بلکہ اس کا تعلق ماں باپ، بھائی بہن، بیوی بچے، دوست احباب اور سماج سے ہوتا ہے۔ اس کا بگاڑ مندرجہ بالا تمام رشتوں پر پڑتا ہے۔ ہم جانتے ہیں شراب نے کتنے گھر اجاڑ دیئے ، شرابیوں کے ہاتھوں کتنے اپنوں کا قتل ہوا، کتنے لوگ اپنوں کو بلکتا چھوڑ کر دنیا سے چلے گئے۔
احتیاطی تدابیر
والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی نگرانی کرے،دوست احباب کے بارے میں معلومات رکھے، برے دوستوں کی صحبت سے بچائے، بچوں کے بیگ سے حاصل شدہ چیزوں سے بچے کے بارے میں پتہ لگایا جاسکتاہے۔ اگر کھانے پینے کی اشیاء نکلے تو کھانے پینے کا شوقین ہے، پین ڈرائیو یا سی ڈی اور فوٹوس نکلے تو فلمیں دیکھنے کا شوقین ہے اور اگر گٹکا، سگریٹ نکلے تو نشے کا عادی ہے، جب آپ کو بیماری کا پتہ ہو تو علاج بھی آسان ہو جاتا ہے، اس طرح اسکولس میں بھی بچوں کے بیگ اور جیب کی تلاشی لی جائے،اسکول میں نشہ بیداری پروگرام رکھے جائیں۔
قانونی تدابیر
سب سے اہم نقطہ ہر طرح کے نشے پر مکمل پابندی ہو، نشیلی اشیاء بیچنے والوں پر شکنجہ کسا جائے،اور نشہ کرنے والوں کو سزا اور جرمانہ لگایا جائے۔

تحریر:خان عرشیہ شکیل



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18