Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195525
Published : 30/9/2018 16:51

مشورہ کیوں اور کس سے؟

ظاہر سی بات ہے کہ ہر انسان کی زندگی میں بہت سے نشیب و فراز ہوتے ہیں اور ہر انسان اکیلا زندگی کی ان تمام مشکلات اور موانع کو حل کرنے اور انہیں برطرف کرنے پر قادر نہیں ہے اور صرف وہ تبادلہ افکار،اور دوسروں سے مشورہ کرنے کے سبب ہی ان سب مشکلات سے نپٹ سکتا ہے۔
ولایت پورٹل: ہر بالغ و عاقل انسان کو فطری طور پر کامیابی تک پہونچنے کے لئے بہت ہی قوی جذبے،ارادے اور پائدار عمل کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے مقصد تک پہونچنے کے لئے کسی کوشش سے دریغ نہ کرے لیکن ان سب تدابیر کے باوجود بھی کبھی یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ یہ شخص اپنے مقصد تک نہیں پہونچا ہے اور کمال اور ترقی کی بلندیوں تک نہیں پہونچ پایا ہے۔شاید اس ناکامی اور شکست کے متعدد اسباب ہوں کہ جن میں کچھ اسباب یہ بھی ہوسکتے ہیں:
۱۔وہ راستہ جو اس نے مقصد تک پہونچے کے لئے انتخاب کیا ہے وہ غلط تھا۔
۲۔اس کے سامنے اس کا مقصد واضح و شفاف نہیں تھا۔
۳۔اسے اپنے اوپر اعتماد نہیں تھا۔
۴۔اس نے اپنے مقصد اور اس تک پہونچے والے راستے کے انتخاب میں غلط معیاروں کا سہارا لیا تھا۔
اور یہ سب چیزیں ممکن ہے اس کے سامنے اس وجہ سے پیش آئی ہوں کہ اس نے خود کو عقل کل کا مصداق سمجھ سمجھ رکھا تھا اور اُس نے اس معاملے میں کسی سے مشورہ کرنے کی زحمت نہیں کی۔
ظاہر سی بات ہے کہ ہر انسان کی زندگی میں بہت سے نشیب و فراز ہوتے ہیں اور ہر انسان اکیلا زندگی کی ان تمام مشکلات اور موانع کو حل کرنے اور انہیں برطرف کرنے پر قادر نہیں ہے اور صرف وہ تبادلہ افکار،اور دوسروں سے مشورہ کرنے کے سبب ہی ان سب مشکلات سے نپٹ سکتا ہے۔
اگر ہم تھوڑا سا اپنے بارے میں غور کریں اور یہاں تک کہ اپنے سے پہلے والے انسانوں اور دنیا کے بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک کی طرف توجہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اکثر و بیشتر اختراعات،ایجادات،اور نئے علمی نظرئیے تبادلہ افکار اور ھم فکری،اور مشورہ کا لُب لباب ہیں۔
لہذا اگر ہم نے دوسروں کے تجربات اور افکار سے استفادہ نہ کیا تو طبیعی سی بات ہے کہ ہم ترقی و کامیابی کے اوج تک نہیں پہونچ سکتے،اور یاد رہے ہماری مراد ترقی سے ہمہ جہت ترقی ہے یعنی مادی،معنوی،اخلاقی،اجتماعی وغیرہ۔
اور چونکہ دین اسلام ایک کامل و اکمل دین ہے اور اس نے بشر کی سعادت اور اسے کمال تک پہونچانے کے تمام دروازے اس پر کھول رکھے ہیں لہذا اسلام نے ہمفکری، تبادلہ افکار، اور مشورہ وغیرہ پر خاص توجہ دی ہے،اور مشورہ کے فوائد کو لوگوں کے کانوں تک پہونچایا ہے۔
اسلام میں مشورہ کی اہمیت
اسلام کی حیات بخش تعلمات میں مشورہ کی اتنی تاکید ملتی ہے کہ اللہ نے اپنے حبیب حضرت ختمی مرتبت(ص) کو بھی مسلمانوں کے عمومی مسائل ،سیاسی و اجتماعی مسائل میں مشورہ کی تاکید فرمائی ہے۔۔( اگرچہ وحی الہی کے علاوہ  بھی آپ(ص) کی فکر اس قدر قوی تھی کہ آپ کو مطلق مشورہ کی کوئی ضرورت نہیں تھی)۔
پیغمبر اکرم(ص) نے بھی خود اس الہی حکم اور دستور پر عمل کیا اور کبھی کبھی تو آپ دوسروں کی رائے کے احترام کے پیش نظر اپنی رائے سے صرف نظر کرلیا کرتے تھے اور اس کا سب سے واضح مصداق ہم جنگ احد میں مشاہدہ کرسکتے ہیں اور بلکہ یہ تک کہا جاسکتا ہے کہ پیغمر اکرم(ص) کے ذریعہ اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت میں باہمی تفاہم کا بہت بڑا کردار تھا۔
نیز دنیا کے عظیم رہبروں و قائدین کی زندگی میں یہ امر بھی بکثرت دیکھنے کو ملتا ہے کہ وہ اہنے اہم کاموں کے لئے دوسروں سے مشورہ کرتے تھے شاید یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول نے فرمایا:’’کوئی ایسا شخص نہیں ہے کہ جو دوسروں سے مشورہ کرنے کا عادی ہو اور اسے کمال و ترقی نصیب نہ ہوئی ہو‘‘۔
کن لوگوں سے مشورہ نہیں کرنا چاہیئے
جہاں اسلام نے مشورہ کرنے کو بڑی اہمیت دی ہے وہیں بہت سے لوگوں کے ساتھ مشورہ کرنے سے منع بھی فرمایا ہے چنانچہ پیغمبر اکرم(ص) نے حضرت امیر علیہ السلام سے فرمایا: یا علی! ڈرپوک سے مشورہ مت کرنا،چونکہ وہ مشکلات سے باہر نکلنے کا راستہ آپ کے لئے مسدود کردے گا۔یا علی! بخیل سے مشورہ مت کرنا،چونکہ وہ آپ کو آپ کے مقصد تک پہونچنے سے روک دے گا۔
یا علی! کسی لالچی سے مشورہ مت کرنا،چونکہ وہ لالچ کرنے کو آپ کے سامنے اس طرح خوبصورت بنا کر پیش کرے گا کہ وہ آپ کی نظر میں اچھا لگنے لگے۔(علل الشرايع ج2، ص559، ح1)


 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18