Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195526
Published : 30/9/2018 17:26

مہمان نوازی

جب مہمان آپ کے دولت کدے پر پہونچے تو بہتر ہے آپ اس کی مدد کیجئے( اس کا سامان وغیرہ پکڑ لیجئے)اور جب وہ جانے لگے کچھ دور تک اس کی ہمراہی کیجئے چنانچہ روایات میں ملتا ہے کہ مہمان کا سب سے کم احترام یہ ہے کہ گھر کے دروازے تک اسے چھوڑنے کے لئے آئیں۔
ولایت پورٹل: اسلام میں مہمان نوازی اور ضیافت کی بڑی اہمیت ہے اگر ہمارے گھر بن بُلائے اور بغیر اطلاع کے کوئی مہمان آجائے تو ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ جو کچھ گھر میں کھانے پینے کے لئے تیار ہو وہ سب لاکر اس کے سامنے رکھ دیا جائے لیکن اگر آنے والا مہمان خود نہیں آیا بلکہ ہم نے اسے مدعو کیا ہے تو جہاں تک ممکن ہو اس کے لئے بہترین انتظام کیا جائے اور عمدہ طریقہ سے اس کی ضیافت کی جائے۔
چونکہ یہ وعدہ کیا گیا ہے:کہ مہمان اپنے ساتھ اپنا رزق لیکر آتا ہے اور اہل خانہ کے گناہوں کو گھر سے لے جاتا ہے چنانچہ مہمانوں کی ضیافت کرنے سے کبھی ملول اور رنجیدہ نہیں ہونا چاہیئے۔
ایک روایت میں ملتا ہے کہ امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب(ع) کو غمگین و اداس پایا گیا حضرت سے سبب دریافت کیا  تو آپ(ع) نے فرمایا:7 دن ہوگئے گھر میں کوئی مہمان نہیں آیا۔
اور اسی طرح بعض روایات میں آیا ہے کہ کبھی مہمان سے یہ مت پوچھئیے کہ کیا آپ نے کھانا کھا لیا؟کیا آپ کے لئے کھانا لائیں؟ چونکہ یہ وہ سب تکلفات ہیں جن کے سبب اسے خجالت محسوس ہوسکتی ہے۔
رسول اکرم(ص) کی سیرت میں ملتا ہے کہ آپ مہمان کے کھانا شروع کرنے سے پہلے کھانا شروع کرتے تھے اور سب سے بعد میں ہاتھ روکتے تھے تاکہ مہمان سیر ہوکر کھانا کھا لے۔
جب مہمان آپ کے دولت کدے پر پہونچے تو بہتر ہے آپ اس کی مدد کیجئے( اس کا سامان وغیرہ پکڑ لیجئے)اور جب وہ جانے لگے کچھ دور تک اس کی ہمراہی کیجئے چنانچہ روایات میں ملتا ہے کہ مہمان کا سب سے کم احترام یہ ہے کہ گھر کے دروازے تک اسے چھوڑنے کے لئے آئیں۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18