Monday - 2019 January 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195527
Published : 30/9/2018 18:19

کن لوگوں سے تقیہ کرنا چاہیئے؟

یعقوبی اور دوسرے حضرات نے نقل کیا ہے کہ جب بسر بن ارطاۃ نے مدینہ پر حملہ کیا اور جناب جابر بن عبداللہ انصاری کو طلب کیا تو جناب جابر نے جناب ام سلمہ سے کہا:اس کی بیعت کرنے کا مطلب بے دینی و گمراہی ہے اور اگر اس کی بیعت نہ کروں تو جان کا خطرہ ہے جناب ام سلمہ نے ان سے کہا:اس کی بیعت کرلیجئے کیونکہ اصحاب کہف بھی تقیہ کے باعث اپنی قوم کی مختلف تقریبات میں شرکت کیا کرتے تھے اور انہیں کی طرح کے مخصوص لباس پہنا کرتے تھے۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے ’’تقیہ‘‘ سے متعلق کالم میں یہ عرض کیا تھا کہ تقیہ ایک عقلی طریقۂ کار ہے اور ’’قاعدۂ اہم اور مہم ‘‘اس کی بنیاد ہے عقلاء عالم (چاہے وہ دیندار ہوں یا لامذہب)کی ہمیشہ سیرت یہ رہی ہے کہ جب بھی وہ اپنی جان،مال یا آبرو کے لئے کوئی خطرہ محسوس کرتے ہیں تو اس سے نجات پانے کے لئے اپنے مذہب اور عقیدہ کے بر خلاف اسی کے مذہب کے مطابق زبانی یا عملی اظہار کرتے ہیں جس کی طرف سے انھیں خطرہ در پیش ہوتا ہے اور اسی طرح تقیہ کے ذریعہ دشمن کے خطرہ کو اپنے سے دور کرتے ہیں اور آج بھی عالم بشریت میں یہی طریقہ کار جاری ہے کہ اگرجان و مال اور عزت و آبرو سے زیادہ اہم چیز کو خطرہ لا حق ہو جائے تو وہ اسے بچانے کے لئے جان اور مال سے دستبردار ہیں۔اس کے لئے ہم نے قرآن مجید سے مسلسل کئی آیات شاہد کے طور پر پیش کی تھیں چنانچہ آج انہیں آیات کے ذیل میں یہ بیان کرنے کی کوشش کریں گے کہ کن لوگوں سے تقیہ کیا جائے؟کیا صرف کفار کے سامنے تقیہ کیا جائے گا یا پھر ہر اس انسان کے سامنے تقیہ جائز ہے جس سے ہمیں خطرہ لاحق ہو؟قارئین! اس موضوع کو ابتداء سے پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
عقیدہ تقیہ اور قرآن مجید
گذشتہ سے پیوستہ: مذکورہ آخری تین آیتیں جن کے عام یا مطلق معنی سے تقیہ کے جائز یا واجب ہونے کے بارے میں استدلال کیا گیا ہے یہ مسلمان اور کافر ہر ایک سے تقیہ کرنے کو شامل ہیں اگر چہ سابقہ تین آیتیں کافر کے  سامنے کسی مسلمان کے تقیہ کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہیں مگر کسی خاص موقع پر نازل ہو جانے سے  آیات کا حکم اس موقع سے مخصوص نہیں ہوجاتا بلکہ عام ہی رہتا ہے لہٰذا اس قاعدہ کے تحت سابقہ آیات بھی مسلمان سے تقیہ کے حکم بیان کرتی ہیں۔
فخر الدین رازی نے پہلی آیت کی تفسیر کے بارے میں یہ تحریر کیا ہے:آیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آیت کفار سے تقیہ کے بارے میں ہے لیکن امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ جن حالات میں کفار سے تقیہ کرنا جائز ہے اگر ایسے ہی حالات مسلمانوں کے درمیان پیدا ہو جائیں تب بھی تقیہ جائز ہوگا،امام شافعی کی نظر میں جان کی حفاظت کے لئے تقیہ طے شدہ ہے اور مال کی حفاطت میں تقیہ کا احتمال ترجیح رکھتا ہے کیونکہ پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا ہے:’’حرمۃ مال المسلم کحرمۃ دمہ‘‘۔مسلمان کا مال اس کے خون کی طرح محترم ہے۔ نیز آپ(ص) نے فرمایا ہے:’’من قتل دون مالہ فھو شہید‘‘۔جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں قتل کردیا جائے وہ شہید ہے۔(۱)
مراغی نے دوسری آیت (نحل ۱۰۶)کی تفسیر میں کہا ہے:کافروں ،فاسقوں اور ظالموں سے ظاہری تعلقات رکھنا تقیہ کے حکم میں شامل ہے یعنی انسان ان کے ساتھ نرمی سے بات کرے اپنا کچھ مال انھیں دے دے،خندہ پیشانی کے ساتھ مسکرا کر پیش آئے تاکہ ان کی طرف سے اس کی جان و مال اور آبرو امان میں رہے۔(۲)
یعقوبی اور دوسرے حضرات نے نقل کیا ہے کہ جب بسر بن ارطاۃ نے مدینہ پر حملہ کیا اور جناب جابر بن عبداللہ انصاری کو طلب کیا تو جناب جابر نے جناب ام سلمہ سے کہا:اس کی بیعت کرنے کا مطلب بے دینی و گمراہی ہے اور اگر اس کی بیعت نہ کروں تو جان کا خطرہ ہے جناب ام سلمہ نے ان سے کہا:اس کی بیعت کرلیجئے کیونکہ اصحاب کہف بھی تقیہ کے باعث اپنی قوم کی مختلف تقریبات میں شرکت کیا کرتے تھے اور انہیں کی طرح کے مخصوص لباس پہنا کرتے تھے۔(۳)
طبری نے اپنی تاریخ میں مامون عباسی کے ذریعہ قرآن مجید کے مخلوق ہونے کے نظریہ کا واقعہ نقل کرنے کے بعد یہ تحریر کیا ہے کہ محدثین اور قاضیوں کی ایک بڑی تعداد جنہوں نے مامون عباسی کے خوف سے قرآن مجید کے مخلوق ہونے کا اظہار و اعلان کردیا تھا چنانچہ جب بعد میں جب اس بارے میں ان لوگوں کی مذمت ہوئی تو انہوں نے کفار کے سامنے جناب عمار یاسر(رض)کے عمل کو بطور دلیل بیان کرکے اپنے اس عمل کی تاویلکردی(۴)اس واقعہ سے صاف ظاہر ہے کہ تقیہ ایک عام حکم ہے جو صرف کافروں سے مخصوص نہیں ہے جب بھی ایسے حالات پیدا ہو جائیں تو تقیہ اختیار کرنا ہوگا چاہے وہ مسلمانوں کے در میان ہو یا کفار سے بچاؤ کے لئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔مفاتیح الغیب:۶/۱۳،تقسیر آیۂ ۲۸ آل عمران   
۲۔تفسیر مراغی ۳؍۱۳۶       
۳۔تاریخ یعقوبی۲؍۱۰۰
۴۔تاریخ طبری۱۰؍۲۸۴و۲۹۲

 

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2019 January 21