Monday - 2019 January 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195540
Published : 1/10/2018 18:13

اپنے گھر والوں سے بھی نماز پڑھوائیے

رسول اسلام(ص) مولا علی(ع) کے در پر آتے تھے اور آواز دیتے تھے یہ اس لئے نہیں کہ علی(ع) کو بیدار کیا جائے بلکہ اس لئے کہ لوگوں کے سامنے نماز کی اہمیت واضح ہو کہ دیکھو نماز کتنی اہم ہے کہ میں خود در علی(ع) پر آکر’’ الصلوٰۃ، الصلوٰۃ‘‘ کی صدا دیتا ہوں جبکہ علی(ع) خود ہی ہزار ہزار رکعت نماز ہر روز و شب ادا کرتے ہیں تو انہیں بیدار کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صرف نماز کی اہمیت بتانے کے لئے علی(ع) کے در پر آنحضرت(ص) جاتے تھے ۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام! اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں سینکڑوں مرتبہ نماز پڑھنے کا تذکرہ کیا ہے اور ہمارے فقہاء نے بھی ان آیات سے یہ استنباط کیا ہے کہ ہر 15 برس کے لڑکے اور 9 برس کی لڑکی پر نماز پڑھنا واجب ہے۔لیکن اللہ نے جس طرح ہر فرد کو نماز کے لئے مامور کیا ہے اسی طرح اس سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں، اہل و عیال کو نماز پڑھنے کی تاکید کرے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’وَأَمُرْ اَھْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا‘‘۔(سورہ طہٰ:132)
 ترجمہ:اے میرے رسول(ص) اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس کے پابند رہو۔
روایتوں میں ملتا ہے کہ جب سے یہ آیت رسول خدا(ص) پر نازل ہوئی آپ اس دن سے حضرت علی(ع) کے دروازہ پر نماز صبح کے وقت تشریف لاتے اور ’’الصلوٰۃ ‘‘کے لفظ سے با آوازبلند علی(ع) و بتول(س) کو آواز دیتے اور آیۂ تطہیر کی تلاوت کرتے۔ اب سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا مولا علی(ع) صبح کے وقت بیدار نہیں رہتے تھے جو رسول اسلام(ص) آپ کے در پر آکر’’ الصلوٰۃ ، الصلوٰۃ‘‘ کی صدا دیتے تھے؟
 نہیں! یہ رسول اسلام(ص) جو مولا علی(ع) کے در پر آتے تھے اور آواز دیتے تھے یہ اس لئے نہیں کہ علی(ع) کو بیدار کیا جائے بلکہ اس لئے کہ لوگوں کے سامنے نماز کی اہمیت واضح ہو کہ دیکھو نماز کتنی اہم ہے کہ میں خود در علی(ع) پر آکر’’ الصلوٰۃ، الصلوٰۃ‘‘ کی صدا دیتا ہوں جبکہ علی(ع) خود ہی ہزار ہزار رکعت نماز ہر روز و شب ادا کرتے ہیں تو انہیں بیدار کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صرف نماز کی اہمیت بتانے کے لئے علی(ع) کے در پر آنحضرت(ص) جاتے تھے۔ پھر خدانے آواز دی قرآن مجید میں نماز کے سلسلہ سے آپ سورۂ انعام کی ان آیتوں 67، 92، 162 کو ملاحظہ کریں۔ آیت نمبر 162 میں ارشاد ہوتا ہے:
’’اے رسول(ص) ! آپ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ میری نماز، میری عبادت، میرا جینا مرنا سب خدا ہی کے لئے ہے تو ہم پیروان رسول اسلام(ص) کو بھی اپنی زندگی اسی طرح گزارنی چاہیئے کہ ہماری عبادت، ہمارا جینا مرنا بھی خدا ہی کے لئے ہو نہ کہ کسی اور کے لئے، اورہاں جب آپ نماز کو ادا کریں گے تو ایسا نہیں ہے کہ اس کا اجر و ثواب آپ کو نہیں ملے گا۔ خود قرآن مجید میں ہے:’’وَالَّذِیْنَ یُمَسِّکُوْنَ بِالْکِتَابِ وَأَقَامُوا الصَّلٰوۃَ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ‘‘۔(سورہ اعراف:170)
ترجمہ:جو لوگ کتاب خدا کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں اور پابندی سے نماز ادا کرتے ہیں انہیں اس کا ثواب ضرور ملے گا کیونکہ ہم ہر گز نیکو کاروں کا ثواب ضائع نہیں کرتے۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2019 January 21