Wed - 2019 January 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195552
Published : 2/10/2018 9:53

ایران ہراسی؛امریکہ اور بعض عرب ممالک کا مشترکہ مشغلہ(ایک تجزیہ)

امریکہ اس وقت علاقے میں ایران فوبیا کے دائرے میں رائے عامہ کو منحرف کرنے کی کوشش میں ہے۔
ولایت پورٹل:واشنگٹن میں متعدد عرب ملکوں کے حکام کی  ملاقاتیں اور اجلاس  اسی دائرے میں رہے ہیں کہ جس کی تازہ مثال جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائن میں امریکی وزیر خارجہ مائک پمپیئو کا متعدد عرب ملکوں کے وزراء خارجہ کے ساتھ  مشترکہ اجلاس ہے۔  خبری حلقوں نے اعلان کیا ہے کہ یہ اجلاس عرب نیٹو کی تشکیل اور علاقے میں ایران کی سرگرمیوں پر غور کے لئے منعقد ہوا ہے۔  جریدے نیشنل نے چند روز قبل اپنی ایک رپورٹ  کہا ہے کہ خلیج فارس کے علاقے کے ملکوں کے امور میں امریکی وزیر خارجہ کے معاون ٹیم لنڈرکینگ نے گذشتہ تین ہفتوں کے دوران علاقے کے ملکوں کے ساتھ سفارتی سرگرمیاں تیز کرتے ہوئے عرب نیٹو کی تشکیل کے لئے ماحول کو ساز گار بنانے کی کوشش کی ہے۔ ٹرمپ حکومت کو یہ امید ہے کہ مشرق وسطی کے اسٹراٹیجیک اتحاد کے نام سے موسوم اس اتحاد کے حوالے سے، بارہ اور تیرہ اکتوبر کو واشنگٹن میں ہونے والے اجلاس کے لئے ابتدائی گفتگو کو حتمی شکل دیں۔ اس میں کسی قسم کا شک نہیں کہ ان تمام ترسرگرمیوں کا مقصد و ہدف علاقائی ملکوں کی سیکورٹی کو امریکہ سے وابستہ کرنا ہے۔  ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ عرب ممالک منجملہ سعودی عرب اگر سیکورٹی چاہتے ہیں تو حتمی طور پر رقم خرچ کریں۔ ٹرمپ نے گذشتہ اپریل میں واضح الفاظ میں کہا تھا کہ مشرق وسطی کے بعض ممالک امریکہ کی حمایت کے بغیر ایک ہفتہ تک بھی اپنی سیکورٹی کا تحفظ نہیں کرسکتے  اور ان کا ملک گذشتہ اٹھارہ برسوں کے دوران سات ٹریلین ڈالر خرچ کرچکا ہے اور امیر ممالک حتمی طور پر اب رقم خرچ کریں۔ ان سرگرمیوں کا مقصد و ہدف ایران کے خلاف اتحاد تشکیل دینے سے ہٹکر، امریکی حکومت کی جانب سے ایک نئے منصوبے کی تیاری کے مترادف ہے تاکہ اس نئے منصوبے کے ذریعے عرب ملکوں کو اس میں پھنسایا جائے۔ معروف عرب تجزیہ نگار اور مصنف عبدالباری عطوان نے اس بارے میں کہتے ہیں کہ اس اتحاد کا حقیقی ہدف و مقصد ایران فوبیا کے بے بنیاد دعوؤں کے ذریعے غاصب صہیونی حکومت کے ساتھ عرب ملکوں کے تعلقات کو ساز گار بنانا اور خلیج فارس کے علاقے کے عرب ملکوں  کی دولت و ثروت کو امریکہ کے مالی منصوبوں  کو پورا کرنے پر خرچ کرنا ہے ، اور یہ وہی بات ہے کہ جس کا اظہار ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کیا تھا۔  امریکی حکومت نے اپنے اس نئے سیاسی کھیل میں آل سعود اور بعض علاقائی عرب ملکوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے، ایران پر الزام تراشی کو ایک حربے کے طور پر استعمال کیا ہے تاکہ ایک طرف پیٹرو ڈالر سے فائدہ اٹھائے اور دوسری طرف علاقے میں نئی امریکی سیکورٹی پالیسی سے، علاقے میں اپنی موجودگی کے تحفظ کی  زمین ہموار کرے تاکہ اس طرح کام کو دو حصوں میں آگے بڑھائے۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ یہ تمام سرگرمیاں کسی بھی قیمت پر علاقے کے فائدے میں نہیں رہیں گی۔ لہذا مسلط کردہ جنگ کے تجربے سے نشاندہی ہوتی ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے کردار ادا کرنے کے دائرے میں ایران کے ساتھ امریکہ کی مقابلہ آرائی میں پہلی شکست خلیج فارس تعاون کونسل کی ہوگی۔
سحر




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2019 January 16