Wed - 2019 January 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195559
Published : 2/10/2018 18:34

امام سجاد(ع) کا مختصر زندگی نامہ

امام سجاد(ع) نے سن 61 سے سن 95 تک مسلسل پیغام کربلا کو پہونچایا اور دعاؤں اور اذکار کے ذریعہ امت کو صحیفہ سجادیہ کی صورت میں ہدایت کا منشور دیا ۔ایک روایت کی بنیاد پر 25 محرم سن 95 ہجری کو عبد الملک بن مروان یا اس کے بیٹے ہشام بن عبدالملک کے ہاتھوں زہر دغا سے 75 برس کی عمر میں شہید کردیئے گئے۔
ولایت پورٹل: شہید مطہری چوتھے امام حضرت سید الساجدین و زین العابدین علی بن الحسین(ع) کے بارے میں تحریر کرتے ہیں کہ: آپ نے ایسے زمانے میں امامت کی ذمہ داری سنبھالی کہ جب پورے عالم اسلام پر بنی امیہ کا منحوس سایہ تھا کہ جو جاہلیت کی منسوخ شدہ فرسودہ رسم و رواج  کو دوبارہ احیاء کرنے میں لگے ہوئے تھے اور جو بھی ان پر اعتراض کرتا تھا اسے بڑی بے دردی کے ساتھ خاموش کردیا جاتا تھا۔اس خاندان کے حصہ میں تاریخ کے بڑے بڑے مظالم آئے جن میں امام حسین(ع) اور آپ کے با وفا اصحاب کی شہادت،مدینہ میں قتل عام کروانا،اور خانہ کعبہ میں آگ لگوانا ۔یہ سب ایسے واقعات ہیں جو رہتی دنیا تک ان کے ماتھے کا کلنک رہیں گے۔
ایک روایت کے مطابق 4 شعبان سن 38 ہجری کو امام سجاد علیہ السلام کی مدینہ منورہ میں ولادت ہوئی،آپ کے والد ماجد تیسرے امام اور جوانان جنت کے سردار امام حسین(ع) اور والدہ ایران کے بادشاہ یزدگرد کی بیٹی شہر بانو تھیں۔جیسا کہ تاریخ سے واقفیت رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ 38 سے 40 ہجری کا زمانہ ایسا تھا جس میں علی(ع) مارقین و قاسطین کے مد مقابل برسر پیکار رہے۔
امیر المؤمنین(ع) کی شہادت کے بعد امام حسن علیہ السلام کے دور امامت کا آغٓاز ہوا جس میں آپ نے معاویہ کے وہ ترفند اور حربے دیکھے جس میں معاویہ نے امام حسن(ع) کو مسند خلافت سے ہٹا کر بنام صلح قبضہ کرلیا،لہذا آپ نے اپنی جوانی کا دور اپنے چچا کے ساتھ اور ان کی معیت میں گذارا۔امام مجتبیٰ(ع) کے بعد امام حسین(ع) کی امامت کا آغٓاز ہوا اور آپ نے سماج کے وہ تمام تحولات اور تبدیلیاں دیکھیں جو اس زمانے میں پیش آئیں،یہ وہی دور تھا جس میں امام حسین(ع) نے اسلام کی امداد کے لئے مسلحانہ قیام کیا عالم اسلام میں ایک ایسا انقلاب برپا کیا جس کی نظیر تاریخ عالم و آدم میں نہیں ملتی۔
آپ نے اپنے والد ماجد امام حسین(ع) کے ساتھ مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا سفر کیا اور پھر آپ نے اپنی آنکھوں سے وہ منظر دیکھے جو کبھی چشم فلک نے اس سے پہلے نہیں دیکھے تھے اس طرح کے رسول اللہ(ص) کا مکمل گلشن آپ کی آنکھوں کے سامنے اجڑ گیا اور کربلا کے بن میں وہ میتیں پڑی رہیں جن کا کفن صحرا کی خاک و غبار تھا۔
امام حسین(ع) اور آپ کے باوفا اصحاب کی دلسوز شہادت کے بعد آپ کے دوش پر امامت اور منصب خدا کی عظیم ذمہ داری آئی اور آپ اسیران اہل بیت(ع) کے ہمراہ کربلا سے کوفہ پہونچے جہاں وقت کا ظالم و جابر حاکم عبید اللہ بن زیاد رسول و آل رسول(ص) کی توہین کر رہا تھا آپ نے اسے اس کے محل ہی میں ذلیل کیا پھر اس کے بعد آپ شام گئے اور آپ نے راستے میں ان صعوبتوں کو برداشت کیا جس کے تصور سے دل پھٹنے لگتا ہے اور جس کے متعلق خود آپ نے سوال کرنے والے کے جواب میں فرمایا: کہ ہم پر سب سے زیادہ مصیبتیں شام میں پڑیں۔شام میں یزید جیسے ظالم سے مقابلہ کیا اور وہ آتشی خطبہ ارشاد فرمایا جس میں بنی امیہ کی تمام مکاریوں سے پردہ اٹھادیا،شام میں اہل بیت اطہار(ع) کا تعارف اس انداز میں کروایا کہ جو لوگ کل تک آپ کو خارجی کہہ رہے تھے وہ اب یزید اور اس کے آباء و اجداد پر لعنت کرنے لگے۔
ایک سال قید میں رہنے کے بعد کربلا ہوتے ہوئے مدینہ آئے اور لوگوں کو یزید کی بربریت اور مظالم سے آگاہ کیا۔ابھی کچھ عرصہ بھی نہ گذرا تھا کہ مدینہ پر یزید کے لشکر نے پھر چڑھائی کردی جس میں بہت سے لوگ قتل ہوئے اور ہزاروں عفتیں پامال ہوئیں۔
امام سجاد(ع) نے سن 61 سے سن 95 تک مسلسل پیغام کربلا کو پہونچایا اور دعاؤں اور اذکار کے ذریعہ امت کو صحیفہ سجادیہ کی صورت میں ہدایت کا منشور دیا ۔ایک روایت کی بنیاد پر 25 محرم سن 95 ہجری کو عبد الملک بن مروان یا اس کے بیٹے ہشام بن عبدالملک کے ہاتھوں زہر دغا سے 75 برس کی عمر میں شہید کردیئے گئے۔





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2019 January 16