Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195561
Published : 2/10/2018 19:32

حُر بن یزید ریاحی اور زبیربن عوام میں فرق

حُر اور امام حسین(ع) کےمابین ہونے والے ہر مکالمے پر غور کرتے چلے جائیں، نتیجہ آپ کے سامنے خود واضح ہوجائیگا کہ نہ یہ دو خاندانوں کی جنگ تھی، نہ یہ کوئی سیاسی مسئلہ تھا اور نہ ہی کوئی حادثہ ،یہ صرف اور صرف امام حسین(ع) اور آپ کے بہتر ساتھیوں کا بپا کیا ہوا وہ آفاقی انقلاب تھا، جس نے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اسی لئے امام حسین(ع) نے یہ فرمایا تھا کہ جیسے ساتھی مجھے ملے، ایسے کسی اور کو نہ ملے۔
ولایت پورٹل: کربلا کا ہر کردار منفرد ہے، ہر کردار انسانی جذبات کو مختلف انداز سے اپیل کرتا ہے لیکن حُر بن ریاحی کا کردار شاید سب سے مختلف ہے۔یہ کردار ہم جیسے اُن گناہگاروں کو اپیل کرتا ہے جن کی زندگیاں گناہوں اور خطاؤں کے سائے میں گزرتی رہیں،حُر دراصل حق کےمتلاشیوں، گناہگاروں اور خطاکروں کے لئے نمونہ ہے  حر کے بارے میں بے اختیار قران کی وہ آیت ذہن میں آجاتی ہے جس میں اللہ نے بے انتہا شفقت، محبت اور کریمی کے ساتھ انسان کو بتلایا ہے کہ گناہ گار ہو؟ کوئی بات نہیں، میری رحمت سے مایوس مت ہو، میں تمہارے سب گناہ معاف کردوں گا۔
جنگ جمل میں امام علی(ع) اور زبیر کے مابین ایک مکالمے کا تذکرہ ملتا ہے زبیر جنگ جمل میں امام علی(ع) کے مخالف لشکر میں تھے  یہ وہی زبیر تھے جو امام علی(ع)کے بچپن کے ساتھی اور پھوپھی زاد بھائی تھے  یہ وہی زبیر تھے جو وصالِ پیغمر کے بعد امام علی(ع) کے مضبوط حمایتی تھے اور اُن کے گھر میں موجود تھے  یہی وجہ ہے کہ جنگ جمل میں جب یہ امام علی(ع) کے مقابل آئے تو امام نے بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ اُنہیں مخاطب کرکے کہا کہ زبیر تم تو میرے بچپن کے ساتھی ہو، میرے بھائی ہو، کیا تم بھی مجھ سے جنگ کرو گے؟ کچھ مختصر مکالمہ ہوا تھا اور پھر زبیر واپس کوفہ چلے گئے۔
حُر بن یزید ریاحی اور زبیر میں یہی فرق تھا کہ حُر اُس فیصلہ کُن موڑ پر باطل سے حق کی طرف آگیا اور زبیر نے بس میدان سے چلے جانے کو ترجیح دی اور بعض روایات کے مطابق واپسی کے راستے میں قتل کردئے گئے  تاریخ میں یہ دونوں کردار اپنے اپنے اندر ایک پیغام لئے ہوئے ہیں، اگر کوئی سمجھنا چاہے ! میرا مقصد کسی اختلافی معاملے کا ذکر کرنا نہیں بلکہ ان دونوں واقعات میں مماثلت کی طرف توجہ دلوانا ہے۔
کربلا میں امام حسین(ع) اور حُر کا تعلق سمجھنے کیلئے  یہی کافی ہے کہ ہم یہ سمجھ لیں کربلا کوئی حادثہ نہیں تھا بلکہ نواسہ رسول(ص) کے ذریعہ تکمیل تک پہونچنے والا اُس ذبحِ عظیم کا مرحلہ  تھا جس کا ذکر قران میں کیا گیا،  حُر اور امام حسین(ع) کےمابین ہونے والے ہر مکالمے پر غور کرتے چلے جائیں، نتیجہ آپ کے سامنے خود واضح ہوجائیگا کہ نہ یہ دو خاندانوں کی جنگ تھی، نہ یہ کوئی سیاسی مسئلہ تھا اور نہ ہی کوئی حادثہ  ،یہ صرف اور صرف امام حسین(ع) اور آپ کے بہتر ساتھیوں کا بپا کیا ہوا وہ آفاقی انقلاب تھا، جس نے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا  اسی لئے امام حسین(ع) نے یہ فرمایا تھا کہ جیسے ساتھی مجھے ملے، ایسے کسی اور کو نہ ملے۔


منبع:پیروان ولایت


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18