Tuesday - 2018 Nov 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196146
Published : 1/11/2018 14:19

قرآن مجید میں بعض نبیوں کی طرف گناہ کی نسبت کیوں دی گئی ہے؟

کبھی کبھی پیامبران الہی سے کوئی ایسا عمل سرزد ہوا ہے کہ ان ذوات کے علمی و معنوی مقام کے پیش نظر اس کا ترک کرنا بہتر تھا(ترک اولٰی) نیز معرفت اولیاء الہی اور عبادت خدا کی نسبت ان کا عشق اس حد تک زیادہ ہوتا ہے کہ وہ ایک لمحہ بھی اللہ سے دور نہیں رہنا چاہتے اور دوسری طرف یہ حضرات بشر ہیں لہذا بشریت کا تقاضہ یہ تھا کہ اس سے مربوط ذمہ داریوں کو بھی پورا کریں،لیکن اس معنوی مقام و مرتبہ کے پیش نظر جو وہ رکھتے تھے ان سب امور میں خود کے مشغول ہوجانے کو ذنب اور سئیۃ سمجھتے تھے اور ان لحظات کو وہ غفلت اور گناہ کے لحاظات شمار کرتے تھے لہذا وہ گناہ کا اعتراف کرکے اور بندگی میں کوتاہی کا اعتراف کرکے حضرت حق کی بارگاہ میں اپنی معذرت پیش کرتے تھے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! وہ افراد جو قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں اور مفاہیم آیات نیز احادیث و فرامین آئمہ علیہم السلام سے کچھ آشنائی رکھتے ہیں ان کے ذہن میں کبھی کبھی یہ سوال ابھرتا ہے کہ اگر انبیائے الہی معصوم ہیں تو پھر قرآن مجید میں ان کی طرف گناہ کی نسبت کیوں دی گئی ہے؟
اور دوسرے یہ کہ انبیائے عظام اور آئمہ اطہار(ع) کے بعض کلمات سے یہ سمجھ میں آتا ہے جیسے کوئی گنہگار اپنے رب کی بارگاہ میں گڑگڑا رہا ہو  اور آپ لوگ انہیں معصوم بنانے پر مُصر ہیں؟
مذکورہ بالا سوالات و شبہات کا صحیح جواب حاصل کرنے کے لئے سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ گناہ کے بہت سے مصادیق اور مراتب ہوتے ہیں اگر ان مراتب و اقسام کو صحیح طور پر سمجھ لیا جائے تو عصمت کے باب میں بہت سے اشکالات اور اشتباہات خود بخود حل ہوجائیں گے چنانچہ ان امور کی طرف توجہ ضروری ہے:
۱۔اوامر و نواہی الہی کو مختلف پہلوؤں سے متعدد اقسام کی طرف تقسیم کیا جاتا ہے اور ان میں سے ایک تقسیم  ’’امر و نہی مولوی‘‘ بھی ہے ۔دوسرے لفظوں میں  اس طرح بیان کیا جائے کہ ’’امر مولوی‘‘ یعنی ایسے اعمال جن کا بجا لانا واجب ہو اور جن کے کرنے پر جنت کی بشارت دی گئی ہے،جیسے نماز پڑھنا،روزہ رکھنا وغیرہ اور ’’نہی مولوی‘‘ یعنی وہ کام جن سے اللہ تعالٰی نے انسان کو منع کیا ہے اور جن کے کرنے پر جہنم کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے جیسا کہ جھوٹ بولنا، چوری کرنا،ترک نماز و روزہ۔ غرض! اس اصطلاح کے مطابق کسی واجب کو ترک کرنے یا کسی حرام کام کو انجام دینے کا نام گناہ ہے اور اس کا سب سے رائج معنٰی بھی یہی ہوتا ہے اور ہمارے پاس ایک بڑی تعداد میں عقلی و نقلی دلائل موجود ہیں کہ اس معنٰی میں کوئی بھی گناہ انبیائے کرام کی طرف منسوب نہیں ہے یعنی جہاں بھی معصوم کی طرف لفظ’’ذنب‘‘ کی نسبت دی گئی ہے وہ اس رائج معنٰی میں نہیں ہے۔
۲۔گناہ کا ایک مرتبہ یہ ہوتا ہے کہ کسی ایسے شخص سے، کہ جو ایک غیر معمولی علمی و معنوی مقام رکھتا ہے،کوئی ایسا فعل کا سرزد ہوجائے کہ جو اس کے مقام و مرتبہ کے اعتبار سے اس کے شایان شان اور مناسب نہیں ہوتا اگرچہ وہ دیگر فعل مکلفین کی نسبت کوئی نامناسب عمل نہ ہو ایسے گناہ کو علمی اصطلاح میں ’’ترک اولٰی‘‘ کہا جاتا ہے۔
۳۔بندگان خدا کے تمام عبادتی اعمال چاہے وہ جس طرح بھی انجام دیئے گئے ہوں پھر بھی وہ اللہ تعالٰی کی عظمت اور شأن و منزلت اور اس کی عطا کردہ نعمتوں کے مقابل ناچیز و ناقص و حقیر ہیں اور بنیادی طور پر ان سب چیزوں سے ان اعمال کا مقائسہ نہیں کیا جاسکتا یہی وجہ ہے کہ جو ذوات، اللہ تعالٰی کی عظمت و جبروت سے زیادہ آشنا وہتی ہیں وہ اپنے اعمال کو نہایت ہی حقیرانہ انداز میں اس کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں اور ہمیشہ یہ اعتراف کرتے ہیں کہ پروردگار! جیسی تیری شأن کبریائی ہے میرا یہ عمل اس کے مقابل بالکل ناچیز ہے۔(یعنی اللہ کی جلالت و و عظمت کے سامنے اپنے عمل کی لا شئیت اور حقارت کو پیش کرنے کے لئے انبیائے الہی لفظ’’ذنب‘‘ یا ’’سئیۃ‘‘ کی تعبیر لاتے ہیں۔
مذکورہ بالا تینوں اقسام کے درمیان فرق واضح ہوجانے کے بعد نتیجہ تک پہونچنا بہت آسان ہوجاتا ہے کہ: قرآن مجید کے اندر رسولان برحق اور اولیاء الہی کے بارے میں ذنب و گناہ کی جو نسبت دی جاتی ہے اس کا تعلق مذکورہ آخری دو اقسام سے ہے اور  گناہ کے یہ دونوں اقسام مقام عصمت انبیاء سے تضاد نہیں رکھتیں۔
یعنی کبھی کبھی پیامبران الہی سے کوئی ایسا عمل سرزد ہوا ہے کہ ان ذوات کے علمی و معنوی مقام کے پیش نظر اس کا ترک کرنا بہتر تھا(ترک اولٰی) نیز معرفت اولیاء الہی اور عبادت خدا کی نسبت ان کا عشق اس حد تک زیادہ ہوتا ہے کہ وہ ایک لمحہ بھی اللہ سے دور نہیں رہنا چاہتے  اور دوسری طرف یہ حضرات بشر ہیں لہذا بشریت کا تقاضہ یہ تھا کہ اس سے مربوط ذمہ داریوں کو بھی پورا کریں،لیکن اس معنوی مقام و مرتبہ کے پیش نظر جو وہ رکھتے تھے ان سب امور میں خود کے مشغول ہوجانے کو ذنب اور سئیۃ سمجھتے تھے اور ان لحظات کو وہ غفلت اور گناہ کے لحاظات شمار کرتے تھے لہذا وہ گناہ کا اعتراف کرکے اور بندگی میں کوتاہی کا اعتراف کرکے حضرت حق کی بارگاہ میں اپنی معذرت پیش کرتے تھے۔
جیسا کہ امام حسین علیہ السلام سے منسوب دعائے عرفہ کا یہ فراز اسی طرف اشارہ ہے:’’ يَا مَنْ ألْبَسَ أولِيَاءَهُ مَلَابِسَ هَيْبَةِ، فَقَامُوا بَيْنَ يَدَيْهِ مُستَغْفِرِينَ‘‘۔ اے وہ ذات کہ جو اپنے اولیاء اور دوستوں کو ہیبت کا لباس پہنا دیتی ہے اور اسی وجہ سے اس کے اولیاء اس کے حضور استغفار و معذرت کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 13