Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196147
Published : 1/11/2018 13:56

فکر قرآنی:

نوح علیہ السلام کا 950 برس کا تبلیغی دور اور ایمان والوں کی مختصر تعداد

نوح علیہ اسللام کا ایک بیٹا بھی تھا جس نام’’کنعان‘‘ ملتا ہے جس نے باپ سے اختلاف کیا یہاں تک کہ کشتی نجات میں آپ کے ساتھ بیٹھنے کے لئے بھی تیار نہ ہوا اس نے بُرے لوگوں کے ساتھ صحبت رکھی اور خاندان نبوت کے اقدار کو ضائع کردیا اور قرآن کی صراحت کے مطابق آخر کار وہ بھی باقی کفار کے مانند طوفان میں غرق ہوگیا اس بارے میں کہ اس طویل مدت میں کتنے افراد نوح پر ایمان لائے، اور ان کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے، اس بارے میں بھی مفسرین کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے بعض نے 80 اور جبکہ بعض مفسرین نے صرف 7 افراد کا تذکرہ کیا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے کل کے آرٹیکل میں مختصر طور پر جناب نوح علیہ السلام کی داستان زندگی کو بیان کرتے ہوئے کل آپ کا نام ، باپ کا نام نیز یہ گذارش کی تھی کہ حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹے تھے’’حام‘‘سام‘‘یافث‘‘ اور مورخین کا نظریہ یہ ہے کہ کرہ زمین کی اس وقت کی تمام نسل انسانی کی بازگشت نوح کے انہیں تین بیٹوں کی طرف ہوتی ہے۔ انسانوں کا ایک گروہ’’حامی‘‘ نسل سے ہے جو افریقہ کے علاقہ میں رہتے ہیں اور دوسرا گروہ’’سامی‘‘ نسل ہے جو شرق اوسط اور مشرق قریب کے علاقہ جات میں رہتے ہیں اور’’یافث‘‘ کی نسل کو چین کے ساکنین سمجھتے ہیں۔ آئیے اس سلسلہ کے پہلا آرٹیکل پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
مورخین و مفسرین کے درمیان اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ جناب نوح  علیہ السلام طوفان کے بعد کتنے سال زندہ رہے۔بعض نے 50 برس لکھے ہیں اور بعض نے 60 سال۔(1) نوح علیہ اسللام کا ایک بیٹا بھی تھا جس نام’’کنعان‘‘ ملتا ہے جس نے باپ سے اختلاف کیا یہاں تک کہ کشتی نجات میں آپ کے ساتھ بیٹھنے کے لئے بھی تیار نہ ہوا اس نے بُرے لوگوں کے ساتھ صحبت رکھی اور خاندان نبوت کے اقدار کو ضائع کردیا اور قرآن کی صراحت کے مطابق آخر کار وہ بھی باقی کفار کے مانند طوفان میں غرق ہوگیا  اس بارے میں کہ اس طویل مدت میں کتنے افراد نوح پر ایمان لائے، اور ان کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے، اس بارے میں بھی مفسرین کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے بعض نے 80 اور جبکہ بعض مفسرین نے صرف 7 افراد کا تذکرہ کیا ہے۔
نوح علیہ السلام کی داستان عربی اور فارسی ادبیات میں بہت زیادہ بیان ہوئی ہے، اور زیادہ تر طوفان اور آپ کی کشتی نجات پر تکیہ ہوا ہے نوح علیہ السلام صبر و شکر اور استقامت کی ایک داستان تھے اور محققین کا کہنا ہے کہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے انسانوں کی ہدایت کے لئے وحی کی منطق کے علاوہ عقل و استدلال کی منطق سے بھی مدد لی(جیسا کہ سورہ نوح کی آیات سے اچھی طرح ظاہر ہے) اور اسی بنا پر آپ اس جہان کے تمام خدا پرستوں پر ایک عظیم حق رکھتے تھے۔
جناب نوح کی ہلا دینے والی سرگزشت
اس میں شک نہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کا قیام اور آپ کا اپنے زمانے کے متکبروں کے ساتھ شدید اور مسلسل جہاد اور ان کے برے انجام کی داستان تاریخ بشریت کے فراز میں ایک نہایت اہم اور عبرت انگیز درس کی حامل ہے۔
قرآن مجید پہلے مرحلے میں اس عظیم دعوت کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:’’ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور اس نے انھیں بتایا کہ میں واضح ڈرانے والا ہوں‘‘۔(2)
اس کے بعد اپنی رسالت کے مضمون کو صرف ایک جملہ میں بطور خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے میرا پیغام یہ ہے کہ’’اللہ‘‘ کے علاوہ کسی دوسرے کی پرستش نہ کرو۔(3) پھر بلا فاصلہ اس کے پیچھے اسی مسئلہ انذار اور اعلان خطر کو تکرار کرتے ہوئے کہا:’’میں تمہارے بارے میں دردناک دن سے ڈرتا ہوں‘‘۔(4)اصل میں اللہ (خدائے یکتا و یگانہ) کی توحید و عبادت ہی تمام انبیاء کی دعوت کی بنیاد ہے۔
اب ہم دیکھیں گے کہ پہلا رد عمل اس زمانے کے طاغوتوں، خودسروں اور صاحبان زر و زور کا اس عظیم دعوت اور واضح  اعلان خطر کے مقابلے میں کیا تھا؟ مسلماً سوائے کچھ بیہودہ اور جھوٹےغذر بہانوں اور بے بنیاد استدلالوں کے علاوہ کہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا جیسا کہ ہر زمانے کے جابروں کا طریقہ یہی رہا ہے۔
انہوں نے حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کے تین جواب دیئے :’’قوم نوح کے سردار اور سرمایہ دار کافر تھے انہوں نےکہا: ہم تو تجھے صرف اپنے جیسا انسان دیکھتے ہیں‘‘۔(5)
حالانکہ اللہ کی رسالت اور پیغام تو فرشتوں کو اپنے کندھوں پر لینا چاہیئے نہ کہ ہم جیسے انسانوں کو اس بھاری اور سنگین ذمہ داری کو اٹھانا چاہیئے۔اس گمان کے ساتھ کہ انسان کا مقام فرشتوں سے نیچے ہے یا انسان کی ضرورت کو فرشتے انسان سے بہتر طور پر جانتا ہے۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔ یہودیوں کی کتاب(موجودہ توریت میں بھی نوح کی زندگی کے بارے میں تفصیلی بحث آئی ہے، جو کئی لحاظ سے قرآن سے مختلف ہے اور توریت کی تحریف کی نشانیوں میں سے ہے ، یہ مباحث توریت کے سفر’’تکوین‘‘ میں فصل6 ،7 ،8  اور 9 ، 10 میں بیان ہوئے ہیں۔
2۔سورہ ہود:25۔
3۔سورہ ہود:26۔
4۔سورہ ہود:26۔
5۔سورہ ہود:27۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16