Sunday - 2018 Nov 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196175
Published : 3/11/2018 15:20

گناہ؛نیکیوں میں کیسے بدل جاتے ہیں(1)

اس کام کے لئے صبر تحمل،اور مسلسل کوشش کی ضرورت پڑتی ہے۔توبہ کرنے والے کو ایک دلسوز باغبان کی طرح ہونا چاہیئے جو باغ کی اچھے سے دیکھ بھال کرتا ہے اور پھر اس کے درختوں پر خوشبودار پھل و پھول آتے ہیں اور یہ عدل خدا کے عین مطابق ہے چونکہ انسان اپنی کوشش کے ذریعہ اپنے مقصد تک پہونچ جاتا ہے یہی اللہ کا قانون ہے:’’ لَیْسَ لِلإِنْسانِ إِلاَّ ما سَعی‘‘۔(سورہ نجم:39) اور یہ کہ انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! توبہ اللہ تعالٰی کی رحمت کا ایسا دروازہ ہے جو ہمیشہ اس کے بندوں کے لئے کھلا رہتا ہے گویا اللہ تعالٰی ایسے بہانوں کی تلاش میں رہتا ہےجن کے سبب وہ نادانی کے بیابان میں سرگراں اپنے بندوں کو رحمت کے شہر میں پہونچا دے۔
اگر ہم توبہ کے آثار و برکات پر نظر کریں تو انسان کا ذہن حیرت و تعجب کے دریا میں غرق ہوجاتا ہے چونکہ توبہ کا قانون ایسا عجیب و حیرت آور ہے کہ دنیا کے اس معاملاتی  نظام میں اسے سمجھنا دشوار ہے۔
لیکن یہ کہ اللہ تعالٰی توبہ کے سبب اپنے بندوں کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اس امر میں کسی قسم کے شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ‘‘۔(آل عمران:89) مگر وہ جنہوں نے اس کے بعد توبہ کرلی اور اپنی اصلاح کر لی تو بے شک خدا بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔
اور یہ بھی تعجب خیز ہے کہ اللہ تعالٰی نامہ اعمال سے گناہوں کو محو کردیتا ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کرنا چاہیئے:’’ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّـهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ‘‘۔(سورہ تحریم:8) اے ایمان والو! اللہ کی بارگاہ میں (سچے دل سے) خالص توبہ کرو۔ امید ہے کہ تمہارا پروردگار تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں ایسی بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔
لیکن اصل مدعٰی یہ ہے کہ اللہ تعالٰی توبہ کرنے والے کے  گناہوں کو محو کرکے  انہیں حسنات میں کسیے بدل دیتا ہے؟ یہ دنیاوی حساب و کتاب سے سمجھ میں نہیں آتا لیکن اللہ تعالٰی اس کے لئے قرآن مجید میں صریحی طور پر ارشاد فرماتا ہے:’’ إِلاَّ مَنْ تابَ وَ آمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلاً صالِحاً فَأُوْلئِكَ یُبَدِّلُ اللَّهُ سَیِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ وَ كانَ اللَّهُ غَفُوراً رَحیما‘‘۔( سوره فرقان: 70) مگر وہ لوگ کہ جنہوں نے توبہ کی  اور ایمان لائے اور نیک اعمال انجاد دیئے کہ اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
یہ مقام لطف و رحمت پروردگار ہے کہ جس کے بارے میں قرآن مجید کا فیصلہ سن کر انسان انگشت بدنداں رہ جاتا ہے کہ کیسے ممکن ہے کہ جو شخص گناہ کے دریا میں غرق ہو وہ صرف استغفار کا ایک جملہ کہہ کر توبہ کرلے اور اس کی تمام برائیاں حسنات و نیکیوں میں تبدیل ہوجائے؟
ہم اس کے لئے عام سی اور سادہ سی مثال دے سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ کیسے ایک پھولوں کے باغیچہ میں جب انسان پھول لگاتا ہے تو اس میں طرح طرح کے بدبودار کھاد وغیرہ ڈالتا ہے لیکن دیکھتے دیکھتے ہی ایک دن وہ پورا چمن لہلہانے لگتا ہے اور ان پھولوں سے ایسی خوشبو مترشح ہوتی ہے جس سے انسان کا ذہن و دل معطر ہوجاتا ہے۔
ہاں! اگر انسان گناہوں کی بدبو میں توبہ و مغفرت کا بیج کاشت کرنا نہ بھولے اور اپنے لئے یہ دروازہ بند نہ کرے تو ایک دن حسنات و نیکیوں کے پھول وہ بھی چُن سکتا ہے۔
البتہ یہ اتنا آسان بھی نہیں ہے بلکہ اس کے لئے صبر تحمل،اور مسلسل کوشش کی ضرورت پڑتی ہے۔توبہ کرنے والے کو ایک دلسوز باغبان کی طرح ہونا چاہیئے جو باغ کی اچھے سے دیکھ بھال کرتا ہے اور پھر اس کے درختوں پر خوشبودار پھل و پھول آتے ہیں اور یہ عدل خدا کے عین مطابق ہے چونکہ انسان اپنی کوشش کے ذریعہ اپنے مقصد تک پہونچ جاتا ہے یہی اللہ کا قانون ہے:’’ لَیْسَ لِلإِنْسانِ إِلاَّ ما سَعی‘‘۔(سورہ نجم:39) اور یہ کہ انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔


 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Nov 18