Sunday - 2018 Nov 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196185
Published : 3/11/2018 19:3

صلح امام حسن(ع) اور معاویہ سے رقم کا مطالبہ؛کتنا سچ کتنا افسانہ؟

چونکہ شہر’’دارابگرد‘‘ بغیر جنگ و قتال کے اسلامی لشکر کے سامنے تسلیم ہوگیا تھا اور وہاں کے لوگوں نے مسلمانوں سے صلح کی تھی لہذا اسلامی قانون کی رو سے اس کا خراج پیغمبر اکرم(ص) اور آپ کے خاندان کے تنگدست و غریب لوگوں سے مخصوص تھا یہی وجہ تھی کہ امام حسن نے صلح نامہ کے شرائط میں اس شرط کا اضافہ فرمایا کہ اس کا خراج شہدائے جمل و صفین کے پسماندگان کو دیا جائے چونکہ وارث رسول(ص) ہونے کے سبب وہاں کا خراج پر خود اہل بیت(ع) کا حق تھا اور دوسرے یہ کہ ان دو جنگوں میں شہید ہونے والوں کے پسماندگان ،امام حسن علیہ السلام کی حکومت کے بعد بے سرپرست رہ جاتے اور یہ اس خراج کے استعمال کا صحیح موقع تھا لہذا ااپ نے اس شرط کا اضافہ فرمایا۔

ولایت پورٹل: امام حسن علیہ السلام اپنے بابا علی مرتضٰی(ع) اور بھائی امام حسین(ع) کی طرح ایک مظلوم شخصیت ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ جن حالات کا سامنا امام حسن علیہ السلام کو کرنا پڑا شاید اتنا کسی اور نہ کیا ہو چونکہ ایک طرف آپ کے ساتھیوں اور سپاہیوں کا بغاوت کرجانا اور دوسری طرف معاویہ اور بنی امیہ کے بہی خواہوں کا مسلسل آپ پر الزام تراشیاں کرنا ہیں۔ اور آج تک اس امام مظلوم پر مسلسل مظالم ہورہے ہیں اور تہمتوں کے نشتر چبھائے جارہے ہیں امام حسن(ع) پر لگنی والی اُنھیں تہمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ امام حسن(ع) نے (نعوذ باللہ) معاویہ سے صلح کرنے کے عوض کثیر رقم پیسہ کیا تھا اور اسی شرط پر خلافت سے دستبردار ہوئے تھے۔اور دوسرے یہ کہ آپ(ع) نے صلح نامہ میں اپنے لئے ایک خاص مالی امتیاز کی پیش کش تحریر فرمائی تھی؟
آئیے اس شبہ کی حقیقت کو جاننے اور اس کا جواب پانے کے لئے مندرجہ جواب پر توجہ کیجئے:
جیسا کہ تاریخ و حدیث کی کتابوں میں نقل ہوا ہے اگر ہم صلح نامہ میں مذکور شرائط کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ حضرت نے معاویہ سے صلح کرتے وقت 3 مواقع پر مالی امور کا تذکرہ بھی کیا ہے۔
1۔کوفہ کے بیت المال میں 50 لاکھ درہم موجود ہیں جنہیں ہم  معاویہ کے سپُرد نہیں کریں گے بلکہ وہ ہماری نظارت اور دیکھ ریکھ میں مسلمانوں کے منافع کے لئے خرچ کئے جائیں گے۔
2۔معاویہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ بنی ہاشم کو بیت المال میں سے حصہ دینے کے معاملے میں بنی امیہ پر ترجیح دینی ہوگی۔
3۔شہر ’’دارابگرد‘‘ کے خراج میں سے 10 لاکھ درہم جنگ جمل و صفین میں علی(ع) کی رکاب میں لڑتے ہوئے شہید ہونے والوں کے پسماندگان کو دینا ہوگا۔
بس ان مواقع کے علاوہ ہمیں کوئی اور مورد نظر نہیں آتا کہ صلح نامہ میں کہیں مال کا تذکرہ ہوا ہو اور اس کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے:
الف) چونکہ شہر’’دارابگرد‘‘ بغیر جنگ و قتال کے اسلامی لشکر کے سامنے تسلیم ہوگیا تھا اور وہاں کے لوگوں نے مسلمانوں سے صلح کی تھی لہذا اسلامی قانون کی رو سے اس کا خراج پیغمبر اکرم(ص) اور آپ کے خاندان کے تنگدست و غریب لوگوں سے مخصوص تھا یہی وجہ تھی کہ امام حسن نے صلح نامہ کے شرائط میں اس شرط کا اضافہ فرمایا کہ اس کا خراج شہدائے جمل و صفین کے پسماندگان کو دیا جائے چونکہ وارث رسول(ص) ہونے کے سبب وہاں کا خراج پر خود اہل بیت(ع) کا حق تھا اور دوسرے یہ کہ ان دو جنگوں میں شہید ہونے والوں کے پسماندگان ،امام حسن علیہ السلام کی حکومت کے بعد بے سرپرست رہ جاتے اور یہ اس خراج کے استعمال کا صحیح موقع تھا لہذا ااپ نے اس شرط کا اضافہ فرمایا۔
ب) امام حسن(ع) نے عقل و منطق کی بنیاد پر۔ اپنے ذاتی منافع سے قطع نظر۔ جہاں تک ممکن تھا نسبتاً امن کی بحالی کے لئے اقدام فرمایا تھا اور جب آپ کے سامنے معاویہ کے ساتھ صلح کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ بچا آپ نے اس شرط پر حکومت اس کے حوالہ کی کہ معاویہ اسلامی معاشرہ پر حکومت میں اسلامی اصول اور قرآنی ضوابط کا خیال رکھے گا اور کسی حال بھی پیغمبر اکرم(ص) کی سیرت کو نظر انداز نہیں کرے گا لہذا آپ نے صلح میں جتنا ہوسکا امت کی بھلائی کے لئے متعدد شرائط کا اضافہ فرمایا جنہیں ظاہری طور پر معاویہ نے تسلیم بھی کیا۔اگرچہ وہ آخری دم تک ان تمام شرائط کا پابند نہ رہا۔
ج) تاریخ میں کوئی جھوٹی سے جھوٹی روایت بھی نہیں ملتی کہ آپ نے معاویہ سے صلح کرنے کے عوض پیسوں کا مطالبہ کیا ہو بلکہ حضرت امام حسن(ع) پر یہ سب الزام تراشیاں آج بھی معاویہ کے خیر خواہوں کی طرف کی جاتی ہیں جن کی کوئی حقیقت اور بنیاد نہیں ہے۔
.............................................................................................................................................
منابع:
1۔علل الشرائع، ج ‏1، ص 212۔
2۔فتوح ‏البلدان، ص 376۔
3۔بحار الانوار، ج ‏44، ص 10۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Nov 18