Tuesday - 2018 Nov 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196204
Published : 4/11/2018 16:12

حق الناس کی پامالی؛ قیامت میں پڑے گی مہنگی

حقوق العباد میں کوتاہی کرنے کی سنگینی کا یہیں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام میں شہداء کا بڑا عظیم و بلند مرتبہ ہے ان کے لئے ملتا ہے کہ شہید کا پہلا قطرہ خون زمین پر گرتے ہی اس کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں لیکن اگر اس کے ذمہ بندگان خدا کے حقوق ہوں تو وہ اس وقت تک نہیں بخشا جائے گا جب تک وہ خود معاف نہ کردیں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! اللہ کی طرف سے انسان پر 3 طرح کے حقوق عائد ہوتے ہیں جن کا ادا کرنا ہر شخص پر واجب و ضروری ہے:
1۔ حقوق الناس
2۔حقوق اللہ
3۔حقوق النفس
 حقوق الناس ان حقوق کو کہتے ہیں جو انسان پر اس کے مثل دوسرے لوگوں کی نسبت  فرض کئے گئے ہیں جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:’’ یا اَیُّها الَّذِینَ آمَنوا لا تأکلوُا اَموالَکُمْ بَینَکُمْ بِالباطِلِ اِلّا اَنْ تَکونَ تِجارَةً عَنْ تَراضٍ مِنکُمْ‘‘۔(سورہ نساء:۲۹) اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال، باطل طریقہ سے نہ کھاؤ۔ مگر یہ کہ تمہاری باہمی رضامندی سے تجارتی معاملہ ہو۔
اسی طرح اللہ کے رسول(ص) ارشاد فرماتے ہیں:’’ مَنِ اکتَسَبَ مالاً مِنْ غَیرِ حِلِّهِ کانَ رادَّهُ اِلَی النّارِ‘‘ جو شخص حلال طریقہ کے علاوہ کوئی مال حاصل کرے یہ مال اسے جہنم میں پہونچا دے گا۔
دوسرے وہ حقوق جو اللہ تعالٰی کی نسبت انسان پر عائد ہوتے ہیں ان میں کچھ کا انجام دینا واجب ہے جیسا کہ اس کی عبادت بجا لانا نماز پڑھنا،روزہ رکھنا،اگر مستطیع ہوں تو حج کو جانا وغیرہ اور کچھ ایسی چیزیں ہیں جن  سے بچنا ضروری ہے جیسا کہ جھوٹ بولنا ،تہمت لگانا اور اس طرح کے دیگر تمام گناہ۔ ان مذکورہ دو حقوق کے علاوہ بھی انسان کے ذمہ ایک اور حق ہے جسے حق النفس سے تعبیر کیا جاتا ہے یعنی انسان پر اپنے نفس کے بھی کچھ حقوق ہیں  مثلاً وہ اپنے نفس پر ظلم نہیں کرسکتا اپنے آپ کو ضرور نہیں پہونچا سکتا چونکہ یہ نفس یہ جان، اس کے  پاس اپنے نہیں ہیں بلکہ اللہ کی دی ہوئی امانتیں ہیں۔
لیکن ان تینوں مذکورہ حقوق میں آیات و روایات کے تناظر میں جو اہمیت حقوق الناس اور حقوق العباد کو حاصل ہے وہ کسی دوسرے حق کو نہیں ہے چنانچہ امام علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:’’ اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں کے حقوق کو اپنے حق پر بھی مقدم قرار دیا ہے اور جو کوئی اس کے بندوں کے حقوق کو صحیح طریقہ سے ادا کرے گا وہ کبھی اپنے رب کے حقوق میں کوتاہی نہیں کرسکتا‘‘۔
حق اللہ کی رعایت کرنا کا تقاضہ یہ ہے کہ حق الناس کو ادا کیا جائے اور اگر انسان دوسروں کے حقوق کی رعایت نہ کرے یہ امر اس کے لئے قیامت میں وبال جان بن جائے گا چاہے وہ کثرت کے ساتھ اعمال صالحہ انجام دینے والا ہی کیوں نہ ہو۔
حقوق العباد میں کوتاہی کرنے کی سنگینی کا یہیں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام میں شہداء کا بڑا عظیم و بلند مرتبہ ہے ان کے لئے ملتا ہے کہ شہید کا پہلا قطرہ خون زمین پر گرتے ہی اس کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں لیکن اگر اس کے ذمہ بندگان خدا کے حقوق ہوں تو وہ اس وقت تک نہیں بخشا جائے گا جب تک وہ خود معاف نہ کردیں۔
ہمارے پاس ایک روایت ایسی بھی ہے جس میں نقل ہوا ہے کہ برزخ میں سب سے بڑی مصیبت انسان کے لئے حقوق بندگان کی رعایت و لحاظ  نہ کرنا ثابت ہوگی مثلاً ایک تیہائی فشار قبر غیبت کے متعلق ہوگا۔ نیز ایک دوسری روایت میں ہے کہ اللہ تعالٰی نے پل صراط پر ایک ایسی جگہ بنا رکھی ہے کہ جو شخص حق الناس کا لحاظ نہ کرتا ہو وہ اس سے نہیں گذر سکتا۔
رسول اکرم(ص) نے ارشاد فرمایا: لوگوں میں سب سے بیچارہ و بدبخت وہ شخص ہے کہ جو نیک اعمال کی بڑی مقدار لیکر صحرائے قیامت میں داخل ہوگا مثلاً نماز،روزہ، حج وغیرہ اور اصحاب یمین میں  شمار ہوگا لیکن جس وقت وہ جنت میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا ایک گروہ اس کا راستہ روک لے گا  ان سے دریافت کیا جائے گا کہ اس کا راستہ کیوں روکا گیا ہے؟ جواب ملے گا کہ اس نے ہمارے حقوق کو پایمال کیا تھا لہذا وہ اسی وقت فرشتوں کی مدد سے ان سے معافی کا طلبگار ہوگا  تو اس سے کہا جائے گا کہ اپنی کچھ نیکیاں انہیں دیدو تاکہ وہ تم سے درگذر کردیں چنانچہ وہ معافی لینے کے لئے اپنی نیکیاں ان کے سپرد کردے گا جب وہ اپنی طرف متوجہ ہوگا تو وہ خالی ہوچکا ہوگا(یعنی اس کی نیکیاں ختم ہوچکی ہونگی) اور اس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جاچکا ہوگا۔لہذا رسول خدا(ص) کی نظر میں سب سے بدبخت اور بےچارہ یہی انسان ہے جس نے پوری زندگی نیکیاں اکھٹا کیں لیکن حقوق العباد کا خیال نہ رکھنا اس کے لئے مصیبت بن جائے گا۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 13