Monday - 2018 Dec 10
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196210
Published : 4/11/2018 18:46

امیر شام سے صلح کرنے کی اصلی وجہ،خود امام حسن(ع) کی زبانی

اے ابو سعید! میں نے اسی بنیاد پر معاویہ کے ساتھ صلح کی جس بنیاد پر خود میرے جد رسول اکرم(ص) نے بنی ضمرہ اور بنی اشجع اور حدیبیہ کے موقع پر اہل مکہ کے ساتھ صلح فرمائی تھی ۔ابو سعید بس میری صلح اور پیغمبر اکرم(ص) کی صلح میں فرق یہ ہے کہ آنحضرت(ص) نے جن لوگوں سے صلح کی تھی وہ کھلے کافر تھے اور معاویہ اور اس کے ساتھی کفار کے حکم میں ہیں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! امام حسن علیہ السلام اور امیر شام کے مابین ہونے والی صلح کے حالات،اسباب اور شرائط پر مشتمل بہت سی کتابیں مقالات اور آرٹیکل آپ  نے پڑھے ہونگے لیکن آج آپ کی خدمت میں ہم کسی کتاب یا مصنف یا مفکر کا نظریہ نہیں بلکہ خود امام حسن علیہ السلام کی حدیث کو پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں:
ابو سعید عقیصا کہتے ہیں کہ میں ایک دن امام حسن علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوا اور عرض کیا: مولا! آپ نے معاویہ کے ساتھ صلح کیوں کی جبکہ وہ گمراہ اور ظالم و ستمگر ہے؟
امام حسن علیہ السلام  نے فرمایا:کیا میں اپنے بابا کے بعد امام اور اللہ کی حجت نہیں ہوں؟
میں نے عرض کیا: کیوں نہیں؟
فرمایا:کیا رسول خدا(ص) نے میرے اور میرے بھائی کے حق میں نہیں فرمایا:’’الحسن و الحسين امامان؛قاما او قَعَدا‘‘۔حسن اور حسین دونوں امام ہیں،چاہے قیام کریں چاہے نہ کریں؟
میں نے عرض کیا: کیوں نہیں؟
فرمایا:پس میں امام ہوں،چاہے قیام کروں اور چاہے نہ کروں!
حضرت امام حسن علیہ السلام نے ابو سعید عقیصا سے یہ اقرار اور اعتراف لینے  کے بعد امیر شام کے ساتھ قیام چھوڑ کر صلح کرنے کی علت کو اس طرح بیان فرمایا:
اے ابو سعید! میں نے اسی بنیاد پر معاویہ کے ساتھ صلح کی جس بنیاد پر خود میرے جد رسول اکرم(ص) نے بنی ضمرہ اور بنی اشجع اور حدیبیہ کے موقع پر اہل مکہ کے ساتھ صلح فرمائی تھی ۔ابو سعید بس میری صلح اور پیغمبر اکرم(ص) کی صلح میں فرق یہ ہے کہ آنحضرت(ص) نے جن لوگوں سے صلح کی تھی وہ کھلے کافر تھے اور معاویہ اور اس کے ساتھی کفار کے حکم میں ہیں۔
اے ابو سعید! اگر میں اللہ تعالٰی کی طرف سے منصوص  امام ہوں تو پھر اس عقیدے کے بعد میرے طریقہ کو حقیر سمجھنے کا تمہیں کوئی حق نہیں ہے اگرچہ اس کی مصلحت اور حکمت تم سے پوشیدہ ہی کیوں نہ ہو۔
اے ابو سعید! اس معاملہ میں میری اور تمہاری مثال حضر و موسٰی جیسی ہے کہ جناب خضر علیہ السلام نے وہ کام انجام دیئے کہ موسیٰ(ع) جن کی مصلحت کو نہیں جانتے تھے جن کے سبب وہ پریشان ہوجاتے تھے لیکن جیسے ہی خضر موسیٰ(ع) کو اپنے کام کے بارے میں بتلاتے تھے انہیں سکون مل جاتا تھا ۔اے ابو سعید! میں نے بھی تمہیں یہ بتا کر حیرت میں ڈال دیا چونکہ تم بھی میرے کام کی مصلحت سے آگاہ نہیں ہو لیکن بس تم اتنا ہی جان لو کہ اگر میں صلح نہیں کرتا تو روئے زمین پر کوئی شیعہ باقی نہیں رہتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منبع:
علل الشرائع،ج۱،ص۲۱۱




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Dec 10