Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196212
Published : 4/11/2018 18:58

اگر امام حسن(ص) صلح نہ کرتے تو اسلامی اقدار کی حفاظت کرنے والا کوئی باقی نہ بچتا:رہبر انقلاب

اگر امام حسن(ع) ،معاویہ سے جنگ جاری رکھتے تو خاندان رسول(ص) شہید کردیا جاتا اور امام حسن(ع) بھی اسی جنگ میں قتل کردئیے جاتے،نمایاں اصحاب بھی مارے جاتے، حجر بن عدی جیسے اشخاص بھی قتل کردئیے جاتے، سب کو ختم کردیا جاتا اورایسا کوئی باقی نہ بچتا جو موقع سے فائدہ اٹھاکر اسلام کے اقدار کے ساتھ اس کی حفاظت کرتا، اسلام کی بقا کے لئے یہ عظیم حق امام مجتبیٰؑ کے پاس تھا۔

ولایت پورٹل: امام حسن(ع) کی برکت سے اس اسلامی تحریک نے اسلام کو بچا لیا۔ اگر امام حسن(ع) صلح نہ کرتے تو تحریک اسلام کے اقدار ختم ہوجاتے۔ ایک بھی رکن باقی نہ بچتا کیونکہ معاویہ غالب آجاتا،اس وقت ایسے حالات نہیں تھے کہ امام حسن(ع) غالب آجاتے۔ سارے عوامل و اسباب امام حسن(ع) کے غلبہ کے برعکس تھے، معاویہ غالب ہوجاتا، کیونکہ پروپیگنڈے کے سارے اسباب و وسائل اس کے پاس تھے، عالم اسلام میں وہ غیرمعروف نہیں تھا، جانا پہچانا تھا، اس کو روشناس کروانے کی ضرورت نہیں تھی۔
اگر امام حسن(ع) صلح نہ کرتے تو رسول خدا(ص) کے سارے خاندان کو قتل کردیا جاتا، اسلام کے اصلی نظام کی حفاظت کرنے والا کوئی نہ بچتا۔ ہر چیزبرباد ہوجاتی، اسلام کا نام لینے والا کوئی باقی نہ رہتا واقعۂ عاشورا کی بھی نوبت نہ آتی۔ اگر امام حسن(ع) ،معاویہ سے جنگ جاری رکھتے تو خاندان رسول(ص) شہید کردیا جاتا اور امام حسن(ع) بھی اسی جنگ میں قتل کردئیے جاتے،نمایاں اصحاب بھی مارے جاتے، حجر بن عدی جیسے اشخاص بھی قتل کردئیے جاتے، سب کو ختم کردیا جاتا اورایسا کوئی باقی نہ بچتا جو موقع سے فائدہ اٹھاکر اسلام کے اقدار کے ساتھ اس کی حفاظت کرتا، اسلام کی بقا کے لئے یہ عظیم حق امام مجتبیٰؑ کے پاس تھا۔

رہبر انقلاب کی ۱۱،اپریل سن ۱۹۹۰ کی ایک تقریر سے اقتباس




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21