Monday - 2018 Nov 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196230
Published : 5/11/2018 17:6

گناہ؛نیکیوں میں کیسے بدل جاتے ہیں(2)

اللہ تعالٰی نے اس آیت میں 3 شرائط کا تذکرہ فرمایا ہے:پہلی شرط توبہ،دوسری شرط ایمان اور تیسری شرط عمل صالح ہے ۔اسی بنا پر انسان کی توبہ اتنی قوی اور محکم ہونا چاہیئے کہ جس کے سبب ایمان کی شاخیں آسمان کی طرف بلند ہوجائیں اور ان پر عمل صالح کا پھل آئے۔لہذا یہ بات جان لینی چاہیئے کہ زبانی توبہ،یا بے حال و بے رمق توبہ میں یہ تعجب انگیز تأثیر نہیں ہوسکتی۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے اسی موضوع پر اپنے گذشتہ کالم میں یہ گذارش کی تھی کہ جس طرح نیک اعمال کبھی کبھی حبط ہوجاتے ہیں اور اللہ کی بارگاہ سے ان کا کوئی صلہ نہیں ملتا اسی طرح ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کے گناہ حسنات اور نیکیوں میں بدل جاتے ہیں۔آئیے اس موضوع کو جاری رکھتے ہوئے کچھ دیگر عرائض پیش خدمت ہیں لیکن ایک نظر ڈالتے ہیں کل کے عنوان پر:
گناہ؛نیکیوں میں کیسے بدل جاتے ہیں(1)
گذشتہ سے پیوستہ: قارئین کرام! آئیے ایک بار پھر ہم اس آئیہ کریمہ:’’إِلاَّ مَنْ تابَ وَ آمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلاً صالِحاً فَأُوْلئِكَ یُبَدِّلُ اللَّهُ سَیِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ وَ كانَ اللَّهُ غَفُوراً رَحیماً‘‘۔ میں بیان کئے گئے شرائط کو دیکھتے ہیں جن کے سبب انسان کے گناہ حسنات و نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں توجہ کیجئے: اللہ تعالٰی نے اس آیت میں 3 شرائط کا تذکرہ فرمایا ہے:
پہلی شرط توبہ،دوسری شرط ایمان اور تیسری شرط عمل صالح ہے ۔اسی بنا پر انسان کی توبہ اتنی قوی اور محکم ہونا چاہیئے کہ جس کے سبب ایمان کی شاخیں آسمان کی طرف بلند ہوجائیں اور ان پر عمل صالح کا پھل آئے۔لہذا یہ بات جان لینی چاہیئے کہ زبانی توبہ،یا بے حال و بے رمق توبہ میں یہ تعجب انگیز تأثیر نہیں ہوسکتی۔
کبھی کبھی ایک اچھی عادت اس طرح نجات کے لئے راستہ ہموار کردیتی ہے کہ جس سے بُرائیاں اچھائیوں اور خوبیوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں بالکل آفتاب کی طرح ،جس طرح اس کے نور سے تاریک و بے نور ستارے چمک اٹھتے ہیں۔
امام رضا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:رسول اکرم(ص) سے کہا گیا کہ فلاں آدمی بہت بدبخت ہے چونکہ اس نے بہت سے گناہ کررکھے ہیں۔ رسول اکرم(ص) نے فرمایا: ہرگز ایسا نہیں ہے جیسا تم لوگ کہہ رہے ہو بلکہ وہ نجات پاگیا اور اس کا انجام  نیک ہوگا اس کے گناہ ختم ہوچکے ہیں چونکہ اس کے گناہ حسنات سے بدل گئے ہیں چونکہ وہ ایک دن ایک راستے سے گذر رہا تھا اس نے ایک مؤمن کو دیکھا کہ جس کی شرمگاہ کھلی ہوئی تھی اور وہ اس کی طرف متوجہ بھی نہیں تھا(گویا وہ سویا ہوا تھا) اس شخص نے اس مؤمن کی شرمگاہ کو ڈھانپ دیا اور اس وجہ سے کہ وہ شرمندہ نہ ہو اس کو باخبر بھی نہیں کیا۔
جب وہ مؤمن متوجہ ہوا تو اس نے اس کے حق میں اس طرح دعا کی:اللہ تجھے بہت زیادہ اجر عطا کرے اور تیری آخرت کو بہتر بنادے اور حساب و کتاب میں تجھ پر سختگیری نہ کرے لہذا اللہ تعالٰی نے اس گنہگار کے حق میں اس مؤمن کی دعا کو قبول کرلیا اور وہ خوش نصیب بن چکا ہے۔
جب یہ رسول خدا(ص) کی نوید اس گنہگار تک پہونچی اس نے اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرلی اور اللہ کے اطاعت گذار بندوں میں ہوگیا اور ایک ہفتہ کے بعد جب دشمنان اسلام نے مدینہ پر حملہ کیا اور پیغمبر اکرم(ص) نے دفاع کا حکم دیا وہ شخص بھی دوسرے سپاہیوں کے ساتھ آمادہ ہوکر گھر سے نکلا اور شہید ہوگیا اور اس کی عاقبت باخیر ہوگئی۔( بحارالانوار، ج 5، ص 155)
گناہوں کے حسنات میں بدل جانے کے سلسلہ میں جو اہم سوال پیدا ہوتا ہے وہ اس کی کیفیت کا مسئلہ ہے؟کیا یہ تبدیلی دنیا میں ممکن ہوگی یا آخرت میں؟کیا خود اعمال تبدیل ہونگے یا یا ان کی سزائیں اور عقاب؟
گناہ کیسے حسنات میں تبدیل ہوتے ہیں اور ان کی کیفت کیا ہوتی ہے اس کے بارے میں کئی احتمالات دیئے گئے ہیں:
1۔اسی دنیا میں بُرے اعمال نیکیوں میں بدل جاتے ہیں
جب انسان توبہ کرتا ہے اور اللہ پر ایمان لے آتا ہے ایک عجیب تبدیلی اس کے پورے وجود میں پیدا ہوجاتی ہے یہ انقلاب و درونی تحول گذشتہ برائیوں کو مستقبل میں نیکیوں سے بدل دینے کا پیش خیمہ ہوتا ہے مثال کے طور پر اگر اس نے ماضی میں کسی نفس محترم کو قتل کیا تھا تو اس انقلاب کے سبب وہ مستقبل میں مظلوموں کا دفاع کرنے اور ظالموں کے ساتھ جنگ کرنے والوں میں ہوجاتا ہے اگر(نعوذ باللہ)اس نے ماضی میں کوئی زنا کیا ہے تو مستقبل میں عفیف و پاکدامن بن جائے گا لیکن توجہ رہے کہ یہ تبدیلی ایک الہی توفیق ہے جو ایمان اور توبہ کے طفیل ہی انسان کو حاصل ہوتی ہے۔( الدر المنثور فی تفسیر المأثور، ج‏5، ص 7)
2۔آخرت میں گناہ حنسات سے بدلتے ہیں
اللہ تعالٰی اپنے لطف و کرم اور توبہ کرنے کے بعد گناہوں کو محو کردیتا ہے اور ان کی جگہ نیکیاں رکھ دیتا ہے چنانچہ جناب ابوذر نقل کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول(ص) نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو کچھ لوگوں کو حاضر کیا جائے گا اور اللہ تعالٰی حکم دے گا کہ صرف ان کے گناہان صغیرہ انہیں دکھائے جائیں اور کبیرہ کو چھپا دیا جائے اور ان سے کہا جائے کہ تم نے فلاں دن فلاں گناہ صغیرہ انجام دیا تھا وہ ان کا اعتراف کریں گے لیکن ابھی گناہان کبیرہ کی نسبت ان کے دل میں پریشانی اور ایک دھڑکا لگا رہے گا۔
اس دن اللہ جب چاہے گا اس پر اپنا لطف وکرم کرنے کے لئے حکم دے گا اور ہر گناہ کے عوض اسے ایک نیکی دیدی جائے گی اور وہ اللہ کی بارگاہ میں عرض کرے گا: پروردگار! میں نے  کچھ دیگر اہم  گناہ بھی کئے تھے جنہیں میں یہاں نہیں دیکھ رہا ہوں۔
ابوذر کہتے ہیں: اس وقت خوشی و سرور کے ساتھ اس طرح ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک دکھائی دینے لگے اور پھر اس آیت کریمہ:’’إِلاَّ مَنْ تابَ وَ آمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلاً صالِحاً فَأُوْلئِكَ یُبَدِّلُ اللَّهُ سَیِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ وَ كانَ اللَّهُ غَفُوراً رَحیماً‘‘ کی تلاوت فرمائی۔( نور الثقلین، ج4، ص 33)

اگلی قسط کا انتظار کیجئے!

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Nov 19