Monday - 2018 Nov 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196234
Published : 5/11/2018 18:25

جیسی کرنی ویسی بھرنی

دوکاندار کی یہ بات سن کر دیہاتی انسان سخت پریشان ہوا اس نے اپنی گردن جھکا لی اور کہا:بھائی ہم تو گاؤں کے مزدور غریب لوگ ہیں ہمارے پاس تولنے اور وزن کرنے کے لئے کوئی باٹ وغیرہ تو نہیں ہیں اب ہم نے ایک دن تم سے ایک کیلو شکر خریدی تھی وہی ہمارا باٹ ہے اور ہم اسی کے برابر تول کر مکھن کا گولہ بناتے ہیں۔ یہ سن کر جیسے دوکاندار کے پیروں کے نیچے سے زمین ہی کھسک گئی ہو اور وہ یہ سمجھ نہیں پارہا تھا کہ اب کیا کہے؟ یاد رکھئے!آپ کے ساتھ ویسا ہی ہوگا جیسا آپ دوسروں کے ساتھ کریں گے۔آپ کو اتنا ہی تول کردیا جائے گا جتنا آپ نے دیا ہوگا۔

ولایت پورٹل: پیارے بچو! ایک گاؤں میں ایک نہایت ہی غریب و تنگدست لیکن محنتی انسان رہتا تھا اس کی زندگی بڑی مشقتوں میں گذر بسر ہوتی تھی لہذا اس کی زندگی کا سب سے اہم سہارا اس کے وہ جانور تھے جن سے اسے ہر روز کچھ دودھ میسر ہوجاتا تھا۔
پہلے زمانے دیہات کی زندگی آج کے جیسی نہیں تھی آج دیہات والے زندگی کے معاملے میں شہروالوں سے کسی طور بھی پیچھے نہیں ہیں پہلے دیہات کے ہر گھر میں دودھ وغیرہ کے لئے گائے بھینس پالی جاتی تھیں اور چونکہ ان کا دودھ دیہات میں فروخت نہیں ہوپاتا تھا لہذا وہ لوگ مجبور ہوکر اپنے دودھ اور دودھ سے تیار کی ہوئی دیگر اشیاء کو فروخت کرنے کے لئے شہر لے جایا کرتے تھے ۔
خیر! بات یہ ہورہی تھی کہ اس کے یہاں جو کچھ دودھ ہوتا اس کی بیوی اسے بِلوتی تھی اور اس سے جو کچھ مکھن نکلتا وہ اس کے ایک ایک کلو کے گولے بناکر اپنے شوہر کو دیدتی تھی وہ ہر روز بازار میں جاکر ایک دوکاندار کے یہاں انہیں  فروخت کردیتا تھا اور اس کے بدلے میں اپنے گھر کے لئے ضروری سامان اس سے خرید کر اپنے گھر لے آتا تھا۔
ایک دن کی بات ہے کہ اس مکھن کے گولے کے وزن کے متعلق دوکاندار کو شک ہوا اسے محسوس ہوا کہ شاید اس گولے کا وزن پورا ایک کلو نہیں ہے چنانچہ اس نے مکھن کو تولنے کا فیصلہ کیا۔
جب دوکاندار نے  مکھن کے ایک گولے کا وزن کیا تو سچ میں ہی مکھن کا ایک گولہ ایک کلو سے کم تھا وہ اسے دیہاتی آدمی پر برس پڑا اور کہنے لگا کہ ہم، تم پر اعتماد کرتے ہوئے تمہارے مکھن کو بغیر تولے رکھ لیتے ہیں لیکن تم نے ہمارے ساتھ خیانت کی ہے اور ہمارے اعتماد کو ٹھیس پہونچائی ہے  لہذا اب ہم کل سے تمہارا مکھن نہیں خریدیں گے تم اسے کہیں اور بیچ لینا۔
دوکاندار کی یہ بات سن کر دیہاتی انسان سخت پریشان ہوا اس نے اپنی گردن جھکا لی اور کہا:
بھائی ہم تو گاؤں کے مزدور غریب لوگ ہیں ہمارے پاس تولنے اور وزن کرنے کے لئے کوئی باٹ وغیرہ تو نہیں ہیں اب ہم نے ایک دن تم سے ایک کیلو شکر خریدی تھی وہی ہمارا باٹ ہے اور ہم اسی کے برابر تول کر مکھن کا گولہ بناتے ہیں۔
یہ سن کر جیسے دوکاندار کے پیروں کے نیچے سے زمین ہی کھسک گئی ہو اور وہ یہ سمجھ نہیں پارہا تھا کہ اب کیا کہے؟
یاد رکھئے!
آپ کے ساتھ ویسا ہی ہوگا جیسا آپ دوسروں کے ساتھ کریں گے۔آپ کو اتنا ہی تول کردیا جائے گا جتنا آپ نے دیا ہوگا۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Nov 19