Tuesday - 2018 Nov 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196239
Published : 5/11/2018 19:48

عراق اور لیبیا کے بعد کیا اب سعودی عرب امریکی نشانے پر ہے؟

امریکہ نے عدم تحفظ کے شکار سعودی عرب کو تحفظ فراہم کرنے کا وعدہ کیا اور سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے قائم کئے۔ 1975ء تک اوپیک (OPEC) میں شامل تقریباً تمام بڑے تیل پیدا کرنے والے ملکوں نے اسی قسم کے معاہدے کئے اور پیٹرو ڈالر کی بنیاد پڑ گئی۔ بس پھر یہاں سے شروع ہوئی وہ جنگ و جدال جس نے دنیا اور خصوصاً عرب ملکوں کو آج تک اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی فرماں روا امریکی مدد کے بغیر 2 ہفتے بھی حکومت نہیں کر سکتے۔ اس کے جواب میں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے ایک امریکی ادارے کو انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اپنے مفادات کا تحفظ کرنا جانتا ہے اور امریکہ سے ہتھیار مفت میں نہیں خریدتا۔
امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات میں یہ سب سے زیادہ کشیدہ صورتحال اور اتحادیوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف کھلے عام سخت الفاظ کے تبادلے کا پہلا موقع ہے اور یہ موقع پیدا اس لئے ہوا کیونکہ امریکہ کو اپنا پیٹرو ڈالر خطرے میں نظر آ رہا ہے۔
سعودی تیل کا سب سے بڑا خریدار اب چین بن گیا ہے اور چین کی خواہش ہے کہ وہ امریکی ڈالر کے بجائے اپنی کرنسی یوآن میں ایندھن کی خریداری کرے۔ اسی حوالے سے یہ کشیدگی پیدا ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے کہ پیٹرو ڈالر کی موجودہ سیاست اور اس میں پاکستان کے کردار پر بات کی جائے، پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کہ پیٹرو ڈالر کا جنم کس طرح ہوا۔
دوسری جنگِ عظیم کا خاتمہ قریب تھا۔ جنگ نے یورپ کی معیشت کو بدحال کر دیا تھا اور اس کا انفرا اسٹرکچر، افرادی قوت اور معیشت سب زمین بوس ہو چکے تھے۔ روس بھی اس جنگ سے بُری طرح گھائل تھا۔ ایسے میں مغربی اتحاد میں صرف امریکہ تھا جس کی معیشت نہ صرف جنگ سے محفوظ رہی بلکہ جنگ کے باوجود امریکی عسکری طاقت میں بھی اضافہ ہوا تھا۔
ایسے میں دنیا کو ترقی دینے کے لئے مارشل پلان ترتیب دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی 1944ء میں عالمی رہنماؤں کا برطانیہ میں ایک اجلاس ہوا جس میں فیصلہ ہوا کہ لندن عالمی مالیاتی لین دین کا مرکز ہوگا مگر امریکی ڈالر کو عالمی اجناس اور کموڈیٹیز (سونا، چاندی، تیل وغیرہ) کی خریداری میں کلیدی کرنسی کی حیثیت حاصل ہو گی۔ اس معاہدے کو بریٹن ووڈز ایگریمنٹ (Bretton Woods Agreement) کہا جاتا ہے۔
امریکی ڈالر کی قدر 35 ڈالر فی اونس سونے کے مساوی مقرر کی گئی۔ معاہدے میں شامل تھا کہ امریکہ اپنے پاس موجود سونے کے مساوی ہی ڈالر کی چھپائی کرے گا اور جب بھی ڈالر کے عوض سونا طلب کیا جائے گا، امریکہ یہ سونا دینے کا پابند ہوگا۔ معاہدے میں امریکہ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ وہ اتنا ہی ڈالر چھاپے گا جتنا اس کے پاس سونا ہوگا۔ مگر امریکی فیڈرل ریزرو نے کبھی بھی معاہدے میں شامل ملکوں کو ڈالر کی چھپائی اور زیرِ گردش ڈالروں سے متعلق تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا اور نہ ہی غیر جانبدار آڈٹ کروایا گیا۔ عالمی لین دین میں یہ نظام 1971ء تک چلتا رہا۔
70 کی دہائی کے آغاز میں جب ویتنام جنگ کی وجہ سے امریکی اخراجات میں اضافہ ہوا تو معاہدے میں شامل ملکوں کو خدشہ لاحق ہوا کہ امریکہ جنگی اخراجات کی وجہ سے ڈالروں کی اضافی چھپائی کر رہا ہے جبکہ اس کے پاس مطلوبہ مقدار میں سونا موجود نہیں ہے۔ فرانس نے امریکہ سے ڈالر کے عوض سونا طلب کر لیا مگر اس وقت کے امریکی صدر رچرڈ نکسن نے معاہدے پر عمل کرنے سے انکار کرتے ہوئے ڈالر کے ساتھ سونے کے تعلق کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا، اور اس وقت سے اب تک یہ بحال نہیں ہو سکا ہے۔
دوسری طرف 1948ء کے بعد اسرائیل کے ساتھ متعدد جنگی معرکوں میں عربوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے خلیجی ملکوں میں احساسِ عدم تحفظ پایا جاتا تھا اور وہ اپنی حفاظت کے لئے کسی مضبوط اتحادی کی تلاش میں تھے۔ امریکہ نے 1973ء میں سعودی کے فرماں روا شاہ فیصل سے معاہدہ کیا کہ سعودی عرب سے تیل کی خریداری کے تمام معاہدوں میں لین دین کی کرنسی امریکی ڈالر ہوگی اور سعودی عرب کو امریکی بانڈز میں سرمایہ کاری پر منافع ملے گا۔
اس کے عوض امریکہ نے عدم تحفظ کے شکار سعودی عرب کو تحفظ فراہم کرنے کا وعدہ کیا اور سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے قائم کئے۔ 1975ء تک اوپیک (OPEC) میں شامل تقریباً تمام بڑے تیل پیدا کرنے والے ملکوں نے اسی قسم کے معاہدے کئے اور پیٹرو ڈالر کی بنیاد پڑ گئی۔ بس پھر یہاں سے شروع ہوئی وہ جنگ و جدال جس نے دنیا اور خصوصاً عرب ملکوں کو آج تک اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
جس کسی نے بھی پیٹرو ڈالر کی مخالفت کی یا ڈالر کے بجائے کسی اور کرنسی میں ایندھن کی خریداری کرنے کا اعلان کیا، اس کا حشر دیکھ کر دنیا کانپ کر رہ گئی۔ مغرب کے بعض مفکرین جیری روبنسن، ولیم ڈی کلارک اور ایف ولیم اینگڈال نے اپنے اپنے مقالوں میں پیٹرو ڈالر کو امریکہ کی حالیہ جنگوں کی بنیادی وجہ قرار دیا۔
سب سے پہلے عراق کے صدر صدام حسین نے امریکی پیٹرو ڈالر کے خلاف اقدامات کا اعلان کیا اور سال 2000ء میں عملی طور پر تیل و گیس کی فروخت یورپی یونین کی کرنسی یورو میں شروع کر دی۔ مغربی میڈیا میں بڑے پیمانے پر پروپیگنڈا کیا گیا ہے کہ صدام حسین کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار (Weapons of Mass Destruction – WMD) ہیں۔ اس پروپیگنڈے میں برطانیہ کے وزیرِاعظم ٹونی بلیئر نے بھی امریکہ کا ساتھ دیا اور سال 2003ء میں امریکہ، برطانیہ اور اتحادیوں نے عراق پر حملہ کر دیا۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکی اور اتحادی افواج افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف ایک بڑی جنگ میں مصروف تھی۔ اس جنگ میں نہ صرف عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی بلکہ بالآخر عراقی صدر صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی۔
سال 2011ء میں عرب بہار کے نام سے انقلابوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا جس کا آغاز تیونس سے ہوا، جہاں عوامی احتجاج سے گھبرا کر بادشاہ فرار ہو گیا۔ پھر یہ عرب بہار لیبیا، مصر اور شام تک پھیل گئی۔ اس عرب اسپرنگ کا اصل مقصد لیبیا کے حکمران کو ہٹانا تھا۔
آخر لیبیا کے حکمران کرنل محمد قذافی اچانک امریکی اور مغربی حکومتوں کو کیوں ناپسند ہو گئے تھے؟ معمر قذافی ذوالفقار علی بھٹو اور شاہ فیصل کے ہم عصر اور گہرے دوست بھی تھے۔ دونوں دوستوں کے قتل کے باوجود معمر قذافی نہ صرف زندہ رہنے میں کامیاب رہے تھے، بلکہ لیبیا کے حکمران بھی تھے۔ مگر انہوں نے بھی وہی غلطی کی جو عراقی صدر صدام نے کی تھی، یعنی پیٹرو ڈالر کی حکمرانی کو چیلنج کرنا۔
قذافی نے تجویز دی کہ افریقی ملکوں کی ایک یونین قائم کرکے ایک مشترکہ کرنسی قائم کی جائے، جو سونے سے منسلک ہو اور اس کرنسی میں سونے کی خرید و فروخت کی جائے۔ عرب بہار میں نہ صرف قذافی کی حکومت کا خاتمہ ہوا بلکہ قذافی کو لیبیا کی سڑکوں پر گھسیٹ کر بے رحمانہ طریقے سے قتل کر دیا گیا۔
عرب ملک پیٹرو ڈالر کے خلاف اقدامات نہ کر سکیں، اس لئے امریکہ نے مستقل طور پر عرب دنیا کو بحرانوں میں مبتلا کیا ہوا ہے۔ کبھی القاعدہ اور کبھی دولتِ اسلامیہ، اس کے علاوہ یمن اور شام میں خانہ جنگی کے نام پر کوشش ہے تو بس یہی کہ عرب ملک عدم تحفظ میں گھرے رہیں اور تحفظ کے لئے امریکہ کی جانب دیکھتے رہیں۔
مگر اب کچھ عرصہ سے ایک نیا طوفان پیٹرو ڈالر سے علیحدہ ہونے کی کشمکش میں اٹھ رہا ہے اور اس طوفان میں عرب ملکوں کے علاوہ چین بھی شامل ہو گیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس لڑائی کا مرکزی حصہ پاکستان میں لڑا جائے گا کیونکہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) میں سعودی عرب نے تیسرے شراکت دار کی حیثیت سے شمولیت اختیار کرتے ہوئے گوادر کے ساحل پر ایک بڑی پیٹرولیم ریفائنری لگانے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بات چیت شروع ہو چکی ہے جبکہ پاکستان نے چین کو اعتماد میں لے لیا ہے۔
یہ سب اس لئے ہو رہا ہے کہ عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب کو اس بات کا ادراک ہو گیا ہے کہ امریکہ پیٹرو ڈالرز کے بدلے ان کا استحصال کر رہا ہے اور ویسے بھی اب امریکہ سعودی عرب سے تیل کا سب سے بڑا خریدار نہیں رہا ہے بلکہ یہ جگہ اب چین نے لے لی ہے۔ چنانچہ اب عرب ممالک پیٹرو ڈالر سے جان چھڑوانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
سعودی عرب نے اپنے تحفظ کی خاطر پیٹرو ڈالر میں شمولیت اختیار کی تھی مگر اب سعودی عرب کو یہ احساس ہے کہ اس کے خلاف امریکہ سازشیں کر رہا ہے اور سعودی عرب سے تحفظ کے نام پر زیادہ سے زیادہ رقم ہتھیانا چاہتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ کئی سو ارب ڈالر مالیت کے دفاعی سازو سامان کے معاہدے کئے ہیں مگر سعودی عرب نے بھی اپنے دفاع کو اب اپنے ہاتھوں میں لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
سعودی عرب کا دفاعی بجٹ سال 2017ء میں تقریباً 70 ارب ڈالر تھا جس میں سے صرف 2 فیصد مقامی طور پر خرچ ہوتا ہے۔ اس میں سے بہت بڑا حصہ امریکی افواج کے اڈوں اور جنگی سازو سامان کی خریداری پر خرچ ہوتا ہے۔ مگر سعودی عرب نے خود انحصاری پر عمل شروع کرتے ہوئے وژن 2030ء تشکیل دیا ہے جس کے تحت آئندہ چند سالوں میں سعودی عرب اپنے دفاعی بجٹ کا 50 فیصد مقامی طور پر خرچ کرے گا۔ اس مقصد کے لئے سعودی عرب نے دفاعی صنعتیں لگانے کا اعلان کیا ہے اور یہ جنگی طیارے تک خود بنانے کا خواہاں ہے۔
سعودی عرب نے امریکی اسلحے پر بھی انحصار کم کرنا شروع کر دیا ہے اور اپنے دفاع کو ہمہ جہت کرنے کے لئے روس سے میزائل نظام خریدنے کا بھی معاہدہ کیا ہے۔ اسی حوالے سے پیغام دینے کے لئے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے روسی صدر پوٹین کے ساتھ فٹبال ورلڈ کپ کا دونوں ملکوں میں ہونے والا میچ بھی دیکھا۔ اس میچ کو دیکھنے سے زیادہ دونوں رہنماؤں کی عوامی مقام پر ایک ساتھ موجودگی بھی امریکہ کو ایک سیاسی پیغام تھی۔
پیٹرو ڈالر کو چیلنج کرنے والے ملکوں کو امریکہ کی جانب سے کچلنے کے باوجود دنیا بھر میں اس سے جان چھڑوانے کی کوششیں جاری ہیں اور اس پورے عمل کی قیادت چین کر رہا ہے، کیونکہ وہ دنیا میں ایندھن کا سب سے بڑا خریدار ہے۔چین کے ساتھ اس اتحاد میں ایران اور روس نمایاں کھلاڑی ہیں۔ چین سب سے بڑا خریدار ہے تو ایران اور روس چین کو توانائی فروخت کرنے والے بڑے ملک۔ اسی لئے 2015ء سے ایران نے چین کو ایندھن کی فروخت ڈالر کے بجائے یوآن میں کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ روس کی کمپنی گیس پروم نے چین کو ایندھن کی فروخت یوان میں شروع کر دی ہے۔
ان دونوں کامیاب تجربوں کے بعد 2016ء میں چین نے اعلان کیا کہ وہ ایندھن کی خریداری کے لئے معاہدے یوآن میں کرے گا۔ اس مقصد کے لئے چینی صدر شی جن پنگ نے سال 2016ء میں دورہ سعودی عرب کے دوران تیل کی خریداری کے لئے یوآن کے استعمال پر بات چیت کی تھی اور سعودی عرب نے اس پر عمل کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی تھی۔
اس کے بعد سے چین نے اپنی کرنسی کو عالمی لین دین کے قابل بنانے کے لئے یوآن کو عالمی کرنسی باسکٹ کا حصہ بنا دیا ہے اور کرنسی کی قدر میں کچھ حد تک اتار چڑھاؤ کی اجازت بھی دے دی ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے چینی کرنسی یوآن کو اپنے قرض کی باسکٹ کا حصہ بنا دیا ہے جس کو اسپیشل ڈرائنگ رائٹس کہا جاتا ہے۔
چینی اسٹاک مارکیٹس نے مارچ 2018ء سے تیل کی خریداری کے مستقبل کے سودے (Future Contract) ڈالر کے بجائے یوآن میں کیے۔ یوآن میں کعغ جانے والے سودوں پر 2 فیصد کا مارجن بھی دیا جا رہا ہے تاکہ اس کو سرمایہ کاروں کے لئے پُرکشش بنایا جائے۔
چین کو اس بات کا ادراک تھا کہ اگر اس نے پیٹرو ڈالر کو چیلنج کیا تو اس کا حشر بھی دیگر عرب ملکوں کی طرح ہو گا۔ اس لئے چین نے اپنی ترقی کو بنیاد بنایا اور امریکہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا ہے۔
چین کی معیشت کا دارومدار امریکہ کو برآمد کی جانے والی مصنوعات پر ہے۔ چین کو پیٹرو ڈالر کو چیلنج کرنے سے روکنے کے لئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تجارتی جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ اب چین پر تجارتی پابندیاں لگائی جا رہی ہیں تاکہ چین کی معیشت بیٹھ جائے اور چین ڈالر کو چیلنج نہ کر سکے۔
چینیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ طویل مدتی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور اسی مقصد کے لئے سال 2015ء میں چین نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا اعلان کیا جس کے تحت ایشیائی ملکوں میں بڑے پیمانے پر انفرا اسٹرکچر بشمول بندرگاہوں کی تعمیر کے علاوہ باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لئے سڑکوں، ریلویز اور بندرگاہوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ اسی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا پہلا فلیگ شپ منصوبہ پاک چین اقتصادی راہداری ہے جس پر تیزی سے کام جاری ہے۔
زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ منصوبہ سال 2015ء میں شروع ہوا مگر درحقیقت چین نے اس پر کام 70 کی دہائی میں اس وقت شروع کیا جب اس نے پاکستان کے ساتھ شاہراہِ قراقرم یا شاہراہِ ریشم کی بنیاد رکھی۔ تقریباً 50 سال تک اس شاہراہ سے اقتصادی فوائد حاصل نہیں کئے گئے۔
اس کے بعد چین نے سی پیک کے اہم ترین حصے گوادر کی بندر گاہ کو بھی جنرل مشرف دور میں مکمل کیا۔ 2 اہم سنگ میل عبور کرنے کے بعد چین نے اپنے داخلی اور خارجی حالات کو دیکھتے ہوئے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا اعلان کیا۔
سی پیک کا اعلان ایسے وقت میں ہوا تھا جب پاکستان کی موجودہ حکمران جماعت اسلام آباد میں دھرنا دئے بیٹھی تھی۔ ملک میں ہر طرف دہشت گردی تھی اور بجلی کا بحران اپنے عروج پر تھا۔ 12 سے 18 گھنٹے بجلی کا بند رہنا تو عام بات تھی۔ خوف کے مارے غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان آنے کو تیار نہ تھے اور عالمی میڈیا پاکستان کو ناکام ریاست قرار دے رہا تھا۔
ایسے میں چین نے پاکستان میں 64 ارب امریکی ڈالر کے مساوی ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کی جس میں گوادر سے خنجراب تک شاہراہ، گوادر کی بندرگاہ، سی پیک کے روٹ پر صنعتی زونز کا قیام اور ملک میں بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لئے بڑے پیمانے پر بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری شامل تھی۔5 سال میں سی پیک کے تحت لگنے والے منصوبوں سے پیدا ہونے والی 10 ہزار میگا واٹ بجلی نظام میں شامل بھی ہو گئی ہے جبکہ مزید 10 ہزار میگا واٹ بجلی کے منصوبے آئندہ چند سالوں میں تکمیل پا جائیں گے۔
دوسری جانب امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے اور اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے پر گزشتہ 15 سال میں محض 33 ارب امریکی ڈالر دیئے ہیں جس میں سے زیادہ تر رقم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والے آپریشنز پر خرچ ہوئی ہے۔
پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ سے حال ہی میں نکلا ہے جس میں معیشت کو ارب ہائے ڈالر مالیت کا نقصان ہونے کے علاوہ 70 ہزار سے زائد فوجی، نیم فوجی اہلکار، پولیس اہلکار اور بڑی تعداد میں عام شہری اپنی زندگی سے محروم ہوئے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ قیادت کا موقف ہے کہ ہمیں دوسروں کی جنگ سے نکلنا ہوگا۔
اسی وجہ سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی موجود ہے اور امریکہ مسلسل پاکستان کے خلاف سخت زبان استعمال کر رہا ہے۔
اب چین، امریکہ اور سعودی عرب کے اس ٹرائینگل love and hate معاملے میں پاکستان اپنا تحفظ کیسے یقینی بنائے یہ ایک بہت ہی پیچیدہ سوال ہے۔ بس یوں سمجھیے کہ یہ ایک بارود سے بھرا میدان ہے جس میں پاکستان کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک غلط قدم ایسا دھماکہ نہ کر دے جو پاکستان کے لئے نئی مشکلات کھڑی کر دے۔


مقالہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 13