Monday - 2018 Dec 10
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196240
Published : 5/11/2018 20:21

مصری اخبار نے لکھی زائرین کے ساتھ سعودی اور عراقی عوام کے جذبات و احساسات کی کہانی

اس مصری اخبار نے تحریر کیا ہے کہ:سعودی عرب میں وہاں کے شہزادے اور امراء اپنی اپنی لیموزین پر طواف کرنے کے لئے آتے ہیں۔جبکہ عراق میں اربعین کے موقع پر ملک کے سب امیر و غریب یہاں تک کہ وزراء اور حکومتی اعلی عہدے دار بھی برہنہ پا امام کے حرم کی طرف بڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ولایت پورٹل:ایک مصری روزنامہ نے کچھ دن پہلے اپنے اداریہ میں سعودی عرب اور عراق کا موازنہ کرتے ہوئے عجیب آرٹیکل تحریر کیا ہے جس میں حج اور اربعین کے موقع پر انے  والے زائرین کی خدمت اور عوام کے رویوں کا تذکرہ کیا ہے۔
اگر کسی سال بیس لاکھ سے زائد حجاج کرام سعودی عرب آجائیں تو سعودی عرب کی حکومت اور عوام اظہار ناراضگی کرتے ہیں۔ جبکہ عراق میں اس کے بالکل برعکس معاملہ ہے اگر کسی سال بیس لاکھ سے کم زائرین اپنے مولا و آقا کی زیارت کے لئے آئیں تو  انہیں شرمندگی کا احساس ہوتا ہے کہ شاید پچھلے سال ہم سے کوئی کوتاہی ہوگئی تھی اور ہم صحیح ڈھنگ سے امام حسین(ع) کے زائرین کی خدمت نہ کرسکے۔
سعودی عرب میں بیس لاکھ حجاج کرام کے انتظامات سنبھالنے کے لئے ایک علیحدہ اور مستقل وزارت تشکیل دی گئی ہے جو حجاج کے لئے انتظامات کرتی ہے جبکہ عراق میں زائرین کے لئے لگائے جانے والے تمام موکب وہاں کے قبیلوں اور عوام کی طرف سے ہوتے ہیں اور اس انتظام کے لئے حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔
سعودی حکومت حجاج کرام کےلئے کئے گئے تمام انتظامات کے عوض کثیر رقم وصول کرتے ہیں جبکہ عراقی عوام زائرین کرام کی خدمت کے بدلے صرف اور صرف دعا کے طلب گار نظر آتے ہیں۔
سعودی عرب کی حکومت اور وہاں کے عوام موسم حج کو صرف اور صرف اقتصادی نظر سے دیکھتے ہیں۔جبکہ عراقی عوام اربعین کو موسم ایثار و قربانی سمجھتے ہیں۔
موسم حج میں آنے والے بیس لاکھ حجاج کے سبب سعودی عرب کے عوام گلے شکوے کرتے نظر آتے ہیں کہ اس موسم میں ہماری ٹریفک اور ملکی نظام  ڈسٹرب ہوجاتے ہیں۔ جبکہ عراق میں ۲ کروڑ لوگ ہوتے ہیں لیکن کبھی عراقی عوام اپنے نظام کا رونا نہیں روتے بلکہ اگر دیکھا جائے تو صرف کربلا کی ہر ایک شاہراہ پر لوگ عزاداری کرتے ہوئے نظرآتے ہیں۔
سعودی عرب میں وہاں کے شہزادے اور امراء اپنی اپنی لیموزین پر طواف کرنے کے لئے آتے ہیں۔جبکہ عراق میں اربعین کے موقع پر ملک کے سب امیر و غریب یہاں تک کہ وزراء اور حکومتی اعلی عہدے دار بھی برہنہ پا امام کے حرم کی طرف بڑھتے  ہوئے نظر آتے ہیں۔
سعودی حکومت ہر سال حج کے انتظامات کے بدلے پیسہ لینے کے باوجود پورے عالم اسلام کو اپنے احسانات  گنواتے ہوئے نہیں تھکتے۔ جبکہ عراق کے لوگ زائرین کرام کے پاؤں تک دھونے کے بعد اگر خدمت میں کوئی کوتاہی رہ گئی ہو تو اس کے لئے معذرت خواہی بھی کرتے ہیں۔
موسم حج میں سعودی کی کسی ایک شاہراہ پر لاکھوں لوگ جمع ہوجائیں تو سینکڑوں اموات ہو جاتی ہیں۔ جبکہ عراق کے مہمان نواز لوگ  30 لاکھ زائرین کو کسی شاہراہ پر مشی کرتے ہوئے دیکھ کر یہ کہتے ہیں کہ ابھی زائرین نہیں آئے ہیں۔

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Dec 10